سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے دوران سینیٹر رضا ربانی یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے کہ ’قانون میں ترمیم سے متعلق دو روز کی مقررہ مہلت نہیں دی گئی بلکہ صبح یہ ترامیم ارکان کو بھیجی گئی ہیں اور اب ان پر ووٹنگ ہو رہی ہے‘ ۔ انہوں نے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ دن کہتے ہوئے ایسے طریقے کو ’اندھی قانون سازی‘ قرار دیا۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے بھی جلد بازی میں قانون سازی کی مخالفت کی۔
فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں کی جانے والی ترامیم کا اطلاق صرف فوجی اہلکاروں یا فوج سے ریٹائر ہونے والے افراد پر ہو گا۔ سویلین اس کی زد میں نہیں آتے۔ تاہم سانحہ 9 مئی کے بعد ہونے والی ان ترامیم سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ فوج اپنی صفوں میں ان عناصر پر قابو پانے کی تگ و دو کر رہی ہے جنہوں نے سیاسی عزائم کی وجہ سے فوج کو بطور ادارہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ نئی ترامیم کے مطابق کسی ریٹائر فوجی کو دو سال تک اور کسی حساس عہدے پر کام کرنے والے افسر کو ملازمت ختم ہونے کے پانچ سال بعد تک سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بارے میں جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق فوج کو بدنام کرنے والوں کو دو سال تک قید ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری رازوں کو افشا کرنے پر بھی سخت سزا دینے کی شق شامل کی گئی ہے۔ آرمی ایکٹ میں یہ ترامیم موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے سے محض دو ہفتے پہلے سامنے آئی ہیں۔ ممکن ہے کہ حکومت پر ایسی ترامیم کے لئے شدید دباؤ ہو لیکن اگر ملکی سیاسی جماعتیں واقعی آئینی عمل داری کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں قانون سازی کے لئے دباؤ قبول کرنے کی بجائے ہوشمندی اور حوصلہ سے کام لینا چاہیے۔ آج قانون سازی کے طریقہ پر احتجاج کرنے والے سینیٹرز کے اس موقف کو آسانی سے مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ قانون سازی کا مسلمہ طریقہ اختیار کرنے کی بجائے عجلت میں آرمی ایکٹ میں ’جبراً‘ ترامیم کی گئی ہیں۔
یہ اقدام خواہ کسی قدر نیک نیتی سے کیا گیا ہو لیکن حکومت کو اس حوالے سے پہلے ہوم ورک کرنے کی ضرورت تھی۔ یا تو پہلے ہی قانون سازوں کو ترامیم کا مطالعہ کرنے کے لئے مناسب وقت دیا جاتا یا پھر اس حوالے سے نشاندہی کرنے پر ووٹنگ کو دو تین روز کے لئے مؤخر کیا جاتا۔ پیچیدہ قانونی ترامیم پیش کرتے ہوئے حکومت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ سینیٹ و قومی اسمبلی کے ارکان پر قانون سازی کے حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ محض کسی وزیر یا سیاسی لیڈر کے کہنے پر ہاتھ کھڑا کر کے رائے ظاہر نہیں کر سکتے بلکہ انہیں پوری ہوشمندی سے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس تبدیلی کے لئے رائے دے رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کا یہی مقصد بھی ہوتا ہے۔ لیکن آرمی ایکٹ اور گزشتہ دو روز کے دوران کی جانے والی قانون سازی اور اس پر ہونے والے مباحث پر غور کیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کے اس استحقاق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ ایک ایسی حکومت کا یہ طرز عمل افسوسناک اور قابل مذمت ہے جس میں شامل سیاسی جماعتیں چند ہفتوں بعد عوام سے ووٹ مانگنے کے لئے انتخابی مہم کا آغاز کرنے والی ہیں۔عام طور سے ارکان اسمبلی پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ قانون سازی کے ’اہل‘ نہیں ہوتے یا اپنی سہولتوں اور مراعات کے سوا انہیں ایوان کی کارروائی میں دلچسپی نہیں ہوتی۔ اسی تناظر میں ایوان میں اکثر ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ قانون ساز ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں جبکہ حکومت کسی قانون کو منظور کروا کے اسے نافذ کرنے کی تیاری میں لگ جاتی ہے۔ انفرادی طور سے بعض ارکان ضرور قانون سازی میں تساہل برتتے ہوں گے۔ ایسی صورت میں بھی سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کا فرض ہے کہ اپنے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان کی تربیت کریں اور انہیں پارلیمانی طریقہ کار کے علاوہ قانون سازی کی حرمت کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قوانین کا اطلاق اس ملک کے شہریوں پر ہوتا ہے۔ عدالتیں انہی کی روشنی میں فیصلے صادر کرتی ہیں لیکن اگر حکومتیں قانون سازی کو مناسب وقار و احترام فراہم نہیں کریں گی تو ان قوانین سے ایک طرف نا انصافی عام ہونے کا اندیشہ ہے تو دوسری طرف قانون کا احترام بھی ختم ہو گا۔
پارلیمنٹ نے حال ہی میں ’توہین پارلیمنٹ‘ کا قانون منظور کیا ہے۔ اس قانون کا مقصد پارلیمنٹ پر حرف زنی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے اور ایوان کی کارروائی پر انگلی اٹھانے اور ان کی تضحیک کرنے والوں کو سزا دلوانا مقصود ہے۔ لیکن آج آرمی ایکٹ میں ترامیم منظور کرواتے ہوئے جیسا رویہ اختیار کیا گیا اور حکومتی پارٹیوں کے ارکان نے ہی جیسے اس پر احتجاج کیا ہے، کیا اس کی روشنی میں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی خود ’توہین پارلیمنٹ‘ کے مرتکب ہوئے ہیں؟ کیا ارکان کے واویلے اور احتجاج کو توہین آمیز ریمارکس سے دبا کر قانون منظور کروا لینا اور پھر اپنے ناجائز موقف کو درست کہنے پر اصرار کرنا، بجائے خود پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف نہیں ہے؟ جب حکومتی ارکان اور وزیر کے منصب پر فائز لوگ ہی پارلیمنٹ اور اس کے ارکان کا احترام نہیں کریں گے اور طاقت کے نشے میں اخلاقیات اور سماجی حساسیات کی تمام حدیں عبور کریں گے تو پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے ہوئے افراد یا اداروں سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایوان کا احترام کریں کیوں کہ وہاں عوام کے منتخب نمائندے بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں۔
بنیادی اصول ہے کہ اگر انسان دوسروں سے اپنی عزت کروانا چاہتا ہے تو وہ خود بھی ان کا احترام کرے۔ پارلیمنٹ کے معزز ارکان اور وزرائے کرام پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ آج کے سیشن سے پہلے گزشتہ روز کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا طرز عمل بطور خاص اس اصول سے متصادم تھا۔ گزشتہ روز تواتر سے قوانین بلڈوز کروانے کے طریقہ پر تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے اعتراض کیا تھا اور اس موقع پر موجود پارٹی کی خاتون سینیٹرز نے اس رائے کی حمایت کی تھی۔ لیکن خواجہ آصف نے یہ کہہ کر علی ظفر کا اعتراض مسترد کر دیا کہ تحریک انصاف کے دور میں بھی اسی طرح قانون سازی کی گئی تھی۔ گویا وہ یہ دلیل دے رہے تھے کہ اگر تحریک انصاف کے زمانے میں کوئی کام غلط طریقے سے کیا گیا تھا تو اسے پارلیمانی روایت مان لیا جائے اور اسی طریقہ کو اختیار کیا جائے۔ یہ دلیل بودی اور مسلمہ پارلیمانی طریقہ سے برعکس ہے۔ یوں بھی کسی غلط کام کو صرف یہ کہہ کر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا کہ دوسرے بھی ایسا کرتے ہیں۔ ہر شخص کی طرح ہر حکومت کو اپنے افعال اور طریقوں کا جواب دہ ہونا پڑے گا۔
تاہم اسی بحث کے تناظر میں خواجہ آصف نے اخلاقیات کی تمام حدوں کو پار کیا اور تحریک انصاف کی خاتون سینیٹرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں ’عمران خان کی باقیات اور کھنڈرات‘ قرار دیا جن کی صفائی کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر دفاع کی بدکلامی صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے یہ تک کہا کہ ’اخلاق سے عاری عورتوں کو عفت و حیا کی بات نہیں کرنی چاہیے‘ کسی خاتون پر اس قسم کی الزام تراشی اور ایسے فحش اور اخلاق سوز الفاظ کا استعمال افسوسناک ہے۔ اسے ہر سطح پر مسترد کرنا چاہیے۔ اصولی طور پر تو وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے ایسے منہ زور شخص کی گرفت کریں اور کم از کم ان کے طرز عمل سے خود کو بری الذمہ قرار دیں۔ سیاسی سطح پر اخلاقی معیار کو کم تر سمجھنے ہی کی وجہ سے ملک میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا چلن عام ہے اور باہمی مکالمہ میں ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے جو مہذب گھرانوں میں برداشت بھی نہیں کی جاتی۔
تاہم خواجہ آصف کی بدکلامی کا تعلق ملک میں خواتین کے حقوق اور مساوی مقام سے بھی ہے۔ بطور خاص ایک وزیر جب پارلیمنٹ کی خاتون ارکان کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے صرف یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عورتوں کی برابری سے خوف زدہ ہے اور اسے جنس مخالف کو احترام دینے کی تربیت حاصل نہیں ہے۔ خواجہ آصف ماضی میں بھی سابق وزیر شیریں مزاری کے بارے میں ایسی ہی بھونڈی اور ہتک آمیز گفتگو کرچکے ہیں۔ اس قسم کی گفتگو کو پارٹی وفاداری تناظر میں دیکھنے کی بجائے اس کے متن اور مدعا کے حوالے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیوں کہ معاشرے میں خواتین کے لئے مواقع پیدا کرنے اور انہیں ہر سطح پر احترام فراہم کرنے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے حکومتی عہدیداروں کو خود اس شعور کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔
آج بحث کے دوران جب خواجہ آصف سے اپنے گزشتہ روز کے ریمارکس پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تو پہلے تو وہ اس حقیقت سے ہی مکر گئے کہ انہوں نے خواتین کے حوالے سے کوئی ناجائز بات کی ہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گفتگو عمومی تھی لیکن اسے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن اسی سانس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان ان کی لیڈر مریم نواز کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کرتے رہے ہیں، پہلے تحریک انصاف کے ارکان اس کی معافی مانگیں تو میں بھی معافی مانگ لوں گا۔ وفاقی وزیر کا یہ طرز عمل عذر گناہ بد تر از گناہ کے مترادف ہے۔ انہوں نے نہایت ڈھٹائی سے اپنے عورت دشمن رویہ کی توجیہ دینے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صنفی برابری کی بات کرتے ہیں لیکن ریمارکس تو مردوں کے خلاف بھی دیے جاتے ہیں مگر انہوں نے تو کبھی احتجاج نہیں کیا۔ اگر یہ صنفی برابری کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس قسم کے حوالوں کو برداشت کرنا چاہیے‘ ۔
وفاقی وزیر دفاع کا یہ طرز عمل ملک میں خواتین کے حقوق کی صورت حال کے حوالے سے شدید نقصان دہ ہے۔ ملک میں عورتوں کو ہر شعبہ میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے اور سماجی سطح پر انہیں کم تر حیثیت دینے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ اب خواجہ آصف کا دعوی ہے کہ مساوی حقوق لینے کے لئے خواتین، ان کی دشنام طرازی برداشت کریں۔ ایسے مزاج کے حامل لیڈر معاشرے میں صنفی امتیاز کو فروغ دینے اور عورتوں کے خلاف معاشرے کے تعصبات میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

