موت کا منظر ۔۔۔ یہی ٹائٹل تھا شاید۔۔۔۔
میرا اس کتاب سے پہلا تعارف دس سال کی عمر میں ہوا۔۔۔اس کتاب میں موت، عذاب قبر اور دوزخ کے عذابوں پر کافی تفصیلی معلومات تھی۔۔جنت کی آسائشوں اور نعمتوں کا ذکر بھی تھا۔۔لیکن ایک چوتھائی۔۔باقی تینوں حصوں میں عذابوں کی تفصیل درج تھی۔۔۔۔اس کے علاوہ مختلف نافرمان لوگوں کے عبرت ناک واقعات درج تھے۔۔یہ واحد کتاب تھی جس نے مجھ پر کسی ہارر سیریز سے بھی زیادہ گہرا اثر چھوڑا۔۔۔
آپ اس بات کا اندازہ یوں لگائیں کہ میں نے یہ کتاب چھ مہینے کے عرصے میں بڑی دقت سے مکمل کی۔۔۔ایک واقعہ پڑھتی اتنی دہشت طاری ہوتی کہ کتاب کو چھپا دیتی کہ اب نہیں پڑھوں گی۔۔یا چھت پر پھینک دیتی یا درختوں پر۔۔۔لیکن ہوتا یہ کہ پھر سے تجسس ہوتا کہ دیکھوں تو سہی آگے کیا لکھا ہے اور پھر سے اٹھا لیتی۔۔۔چند واقعات مزید پڑھتی۔۔جھرجھری سی طاری ہوجاتی اور پھر سے پھینک دیتی۔۔۔اس کتاب کو پڑھ لیں تو ہر دوسرا بندہ دوزخی محسوس ہوگا۔۔
خدا کا پہلا تصور ایک مضبوط ڈر کے ساتھ دل میں داخل ہوگیا۔۔۔یہ تو اب معلوم ہوا کہ ڈر کا رشتہ ہمیشہ ایک کچا رشتہ ہوتا ہے۔۔۔خوف کا لیول کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔۔بغاوت اور چور رستے بھی اکثر ڈر کے کیس میں بنائے جاتے ہیں۔۔۔اور یہ انسانی نفسیات ہے کہ ہم جس سے بہت ڈرتے ہیں اس سے دور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔کنی کتراتے ہیں۔۔۔
اس کے بعد ارد گرد خوف والا ماحول زیادہ دیکھا بہ نسبت محبت اور دوستی کے۔۔معمولی معمولی غلطیوں پر وحشت ناک سزائیں سنا دی جاتیں کہ یوں کیا تو یہ سزا ہے اور فلاں کام کیا تو یہ سزا ۔۔چودہ سال کی عمر تک جو نتیجہ نکالا تو وہ یوں سمجھ لیں یونان کے اس دیوتا کا امیج تھا جو غصیلا تھا اور سزا دینے کو ہمہ وقت تیار رہتا ۔۔۔
مزید رہی سہی کثر مولوی صاحب پوری کر دیتے۔۔ناظرہ پڑھنے جاتے تو زیر زبر کی غلطی پر دھنک کر رکھ دیا جاتا ۔۔اس دھمکی کے ساتھ کہ یہ مار تو کچھ بھی نہیں۔اگلے جہان تو لوہے کے گرز پڑیں گے ۔۔الٹے لٹکا دیے جاؤ گے ۔۔یہ تو مولوی صاحب نے کبھی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ سمجھایا جائے کہ قرآن پاک میں لکھا کیا ہے؟؟ ۔۔
۔ ہر جمعے کو مولوی صاحب ایک تقریر کرتے جس کا لب لباب یہی ہوتا تھا دنیا ترک کر دی جاے رہبانیت اپنا لیں۔۔۔آواز میں اتنی دہشت ہوتی کہ مجھے وحشت محسوس ہوتی۔۔۔۔اور دل چاہتا بال نوچ کر جنگل میں نکل جاؤں۔۔
مذہب سے انسیت کبھی محسوس ہی نہ ہوئی۔۔ قرآن پڑھتے ہوئے زیر زبر کا خیال دماغ پر زیادہ حاوی رہا ۔۔روزمرہ زندگی میں بھی ایسی ان گنت مثالیں تھیں۔۔۔جن کے ذریعے وقتاً فوقتاً یہ کہہ دیا جاتا ۔۔۔کہ کرتوت دوزخ والے ہیں۔۔۔
کئی بے مقصد کام کرنے کی زیادہ تلقین کی گئی۔۔جن کا فائدہ براہ راست صرف مولوی کو ہوتا۔۔بہرحال یہ تاثر دیا گیا ۔۔کہ ہم ایک ایسی مخلوق ہیں جن کو تشدد مار پیٹ یا عذاب دینے کے لیے اس دنیا نامی مصیبت میں ڈالا گیا ہے۔۔۔اور چھوٹی سی غلطی پر بھی بخشش کی گنجائش نہیں۔۔۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسی عقیدے کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر بدعات و خرافات کو چومتے زندگی گزار لیتے۔۔۔۔۔
لیکن پھر شعور آیا۔کتابیں پڑھنا شروع کیں تو تجسس شروع ہوا۔۔۔۔اس وقت تھوڑا شک ہوا کہ نہیں۔۔۔خدا کی ذات وہ نہیں جو ظاہر کی گئی۔۔۔۔
بس پھر تحقیق شروع کی مزید پڑھا۔۔۔۔پرت در پرت۔۔۔اس ذات سے ڈر دور ہوتا گیا۔۔۔۔ اندازہ ہوا یہ ذات تو ماں باپ کی طرح محبت دکھا رہی ہے۔۔۔۔دوستی۔۔انس، محبت ۔۔۔ہمدرد ،غمگسار۔۔سوچا یہ تو کسی مولوی نے نہ بتایا۔۔۔۔
اس نے ہمیں اشرف المخلوقات سزا دینے کو نہیں بنایا۔۔ وہ بات بے بات الٹا نہیں لٹکاتا۔۔یہ تو دنیا کے ہر رشتے سے زیادہ مہربان اور محبت کرنے والا ہے۔۔۔۔۔اس نے تو دنیا ہمارے فائدے کے لیے بنائی۔۔نا کہ ترک کرنے کے لیے۔۔۔
یہ ذات رحیم و کریم زیادہ ہے۔۔اس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔۔۔
غفور ورحیم ہے۔۔۔جتنی غلطیاں کر بیٹھو اتنی بار معافی مانگو ۔۔معاف کرنے کو تیار بیٹھا ہوتا۔۔۔یہ ذات ہمارا فایدہ چاہتی ہر صورت۔۔۔اور ہمیں بے یارومددگار کبھی بھی نہیں چھوڑتی۔۔۔۔تب جا کر پتا چلا ۔۔۔۔جس ذات سے محبت سکھانی تھی۔۔اس ذات سے اس قدر ڈرایا گیا۔۔کہ کبھی خدا کے قریب ہی نہ ہوسکیں۔۔۔اپنی بخشش خود تو کرا ہی نہیں سکتے۔۔ہمیں دیتے رہو ۔۔ہم خدا سے تمہاری بخشش کرائیں گے۔۔۔
میں یہاں مولوی لفظ کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہتی۔۔۔لیکن ان کو مولوی ہی کہا جاتا تھا۔۔۔تو اور کیا کہوں۔۔۔؟
سارا قصور ان کا بھی نہیں ہے۔۔۔۔شاید ان کوبھی اپنے اباو اجداد سے یہی معلومات ملی ہوں ۔۔جو انہوں نے آگے منتقل کر دیں ۔۔۔میری اللہ پاک سے دعا ہے ان تمام مولویوں کو جنت میں جگہ دے۔۔اور دین سے بیزار ہر شخص کو دین سمجھنے کی توفیق دے۔۔۔۔آمین۔۔
فیس بک کمینٹ

