کالمکشور ناہیدلکھاری

ڈاکٹر مبشر حسن۔ اصلی پیپلز پارٹی کہاں ڈھونڈوں۔۔کشور ناہید

پیروں میں ہوائی چپل، کھلا پاجامہ، سفید پاجامے کے ساتھ چھوٹا کرتا، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ۔ انکساری اتنی کہ خود ہی دروازہ کھولنے آتے۔ کسی زمانے میں ایک فوکسی لی تھی، جب تک چلا سکے، چلاتے رہے پھر ڈرائیور رکھنا پڑا یا پھر پیارے قاسم جعفری کی طرح کے فرمانبردار شاگرد مل جاتے تو جہاں کہیں آنا جانا ہو جاتا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلے جاتے، یہ تھے ہمارے ڈاکٹر مبشر حسن، جن کے گھر پر ’’اصلی‘‘ پیپلز پارٹی کی بنیاد پڑی۔ جس کا آئینی مسودہ، جے اے رحیم اور ڈاکٹر صاحب نے مل کر تیار کیا تھا بلکہ یوں کہئے بھٹو صاحب کو بھی پارٹی کی صدارت کے لیے قائل کیا تھا۔ یہ بات ہے 1967کی۔ حسین نقی، نثار عثمانی اور ہم جیسے نوجوان جس میں امین مغل اور مہدی حسن بھی شامل تھے، اس نئی پارٹی کو بنتے دیکھ کر بہت سے خوابوں کو لے کر پاک ٹی ہاؤس لوٹے تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے فنانس منسٹری سنبھالی تو قومیانے کے شور میں سارے مالدار بلبلا اٹھے۔ ہر چند اس قانون کی باقیات پر جب بھی ڈاکٹر صاحب سے بحث ہوتی، وہ ابھی تک وہی دلائل دیا کرتے تھے۔ ایسی کشمکش دور کرنے کیلئے ڈاکٹر صاحب نے شاہراہِ انقلاب جلد اول اور پھر جلد دوم بھی لکھی۔ انگریزی میں ’’پاکستان کے ناخواندہ لیڈر‘‘ بھی لکھی۔ (یہ کتاب تو کامران کو فوراً وزیراعظم کے پڑھنے کیلئے بھیج دینی چاہئے) ڈاکٹر صاحب نے اپنی وزارت کے دوران کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دلوانے اور 5مرلہ اسکیم غریبوں میں تقسیم کروانے کا کام بھی کیا۔ بھٹو صاحب کے ساتھ تو خیر جے اے رحیم اور ڈاکٹر صاحب کے اختلافات بہت جلدی شروع ہو گئے تھے۔ چیئرنگ کراس پر جو بھوت گھر تھا، اس کو پیپلز پارٹی کا سیکرٹریٹ بنایا گیا اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صاحب ہوئے۔ اس دفتر میں میری بھی ڈاکٹر صاحب سے جھڑپ ہوئی کہ آپ پاکستان میں سوشلزم لانے، انقلاب لانے میں دیر کیوں کر رہے ہیں۔ کمال بات ڈاکٹر صاحب کی یہ تھی کہ ہم چھوٹوں سے ناراض بھی ہوتے تو سمجھانے کے انداز میں گفتگو کرتے۔ ڈاکٹر صاحب کی سیکرٹری شپ کچھ عرصہ ہی چلی۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد، جب بی بی نے ’’انکلز‘‘ سے رہا ہونے کا پروگرام بنایا تو ڈاکٹر صاحب نے میر مرتضیٰ بھٹو کی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے قتل کیے جانے کے بعد غنویٰ بھٹو کی صدارت قبول کرلی۔ میری پھر ان سے لڑائی ہوئی مگر وہ اتنے سکون سے آپ کو قائل کرتے کہ نہ مانتے ہوئے بھی چپ ہو جانا پڑتا تھا۔
لکھنے کا شوق شاید آبائی تھا کہ مولانا حالیؔ کے خانوادے سے تھے، اس لیے غالبؔ کے حوالے سے بھی ایک مختصر کتاب لکھی۔ بعد ازاں قاسم جعفری کے ساتھ مل کر میرؔ اور غالبؔ کا انتخاب بھی شائع کیا۔ ایک اور شوق جس کا وہ خود بھی کم ہی تذکرہ کرتے تھے وہ تھا پرندوں کی فوٹو گرافی کا۔ اس شوق نے ان کو فوٹو گرافک جرنل میں بھی جگہ دی۔ ان کی بہت سی تصاویر شائع ہوئیں۔ ان کے کمرے میں بھی انعام یافتہ تصاویر ٹنگی ہوئی تھیں۔ پاک بھارت دوستی فورم ڈاکٹر صاحب نے اور رحمٰن صاحب نے مل کر بنایا۔ دوستی کا قافلہ ایک سال پاکستان آتا اور ایک سال بھارت جاتا۔ یہاں بھی ڈاکٹر صاحب سے میرا جھگڑا ہوتا۔ میں کہتی تھی کہ ادھر کانفرنس کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو سینکڑوں لوگ ممبر بننے کیلئے آجاتے ہیں، سال بھر ان کی شکل ہی نظر نہ آتی۔ خواتین میں کچھ تو زرینہ اور طاہرہ کی طرح پکی دوستی کے لیے کام کرتی تھیں۔ باقی دیگر خواتین و حضرات تاج محل دیکھنے اور شاپنگ کرنے جاتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب مجھے پھر سمجھاتے، اپنا خرچ کرکے جا رہے ہیں، شاید ان میں سے آدھے لوگ ہماری طرح دوستی کی کوششوں میں بھی حصہ دار بن جائیں۔ سچ یہ بھی ہے کہ انڈیا جانے اور پاکستان آنے کا شوق اتنا تھا کہ کبھی 400سے کم لوگ نہ اُدھر گئے، نہ اِدھر آئے۔ پھر بھی بےشمار گلہ مند رہتے تھے۔ جب تک ہم لوگ آتے جاتے رہے، بھارت میں سبھی پیار سے ملتے، گھروں میں آنا جانا ہو گیا تھا۔ اِس وقت دلّی سے لے کر باقی بھارت میں جو منظر بلکہ بدبودار منظر نظر آرہا ہے، ہم نے ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ مرہٹوں کے زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ بہرحال انڈیا، پاکستان میں ایسے نفرتوں کے ابال روکنے کیلئے ہی ڈاکٹر صاحب نے یہ کوشش کی تھی اور یہ بہت کامیاب کوشش تھی۔ اس کے بعد جرنیلوں کا بھی ایک گروپ اس دوستی کو آگے بڑھانے کیلئے، بنکاک میں اپنی میٹنگیں کرتا رہا۔ لوگ آتے جاتے رہے، پر کسی نے وہ محنت نہیں کی جو ڈاکٹر مبشر حسن اور رحمٰن صاحب نے کی۔
جاوید نقوی نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر مبشر نے کہا تھا کہ آمرانہ نظام اور علاقائی عصبیت ساتھ ساتھ بڑھتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بنگال اور گجرات میں ہونے والے واقعات کی مثالیں بھی دی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب جب جب ارون دھتی رائے سے ملے تو کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور امن کی اہمیت کو آگے بڑھائیں۔ ارون دھتی نے کہا کہ مودی کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے فیڈل کاسترو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پوسٹ سویٹ زمانے میں کاسترو نے بائیں بازو پر قائم رہنے پر اس لیے زور دیا تھا کہ اس وقت دنیا بظاہر آزادیوں کے نام پر دائیں بازو کی طرف منتقل ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر صاحب جب بھی اسلام آباد آئے، نہ وہ سرکاری ٹکٹ قبول کرتے، نہ وہ پنج تارہ ہوٹلوں میں ٹھہرتے۔ وہ اپنی بھانجی کلثوم کے گھر ٹھہرتے، بس میں سفر کرتے اور بچوں بچیوں سے بہت محبت سے گفتگو کرتے۔ زندگی کا تضاد یہ تھا کہ ایک گھر کے اگلے حصے میں ڈاکٹر مبشر حسن، درمیانے حصے میں ڈاکٹر زینت حسن اور پچھلے حصے میں ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر شبر حسن، یعنی تین شخصیات آباد تھیں۔ کوئی کسی کے کام میں دخل نہ دیتا تھا اور گھر میں بہت سکون تھا۔ ڈاکٹر مبشر حسن کے جانے کے بعد اب میں اصلی پیپلز پارٹی کہاں ڈھونڈوں!
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker