گزشتہ سے پیوستہ
ایم اے کرنے کے بعد زندگی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں چھوٹی موٹی پرائیویٹ کالج کی نوکری تو ہاتھ لگی مگر فراغت کا وقت بہت تھا البتہ جب میں نے ملتان پبلک سکول کو جوائین کیا تو یک لخت کام کا بوجھ کئی گناہ بڑھ گیا۔ بعض اوقات تو بچوں کی کاپیاں دیکھتے دیکھتے شام ہو جاتی، اس موقع پر خان صاحب فرشتہ بن کر نازل ہوتے۔ ایک ہاتھ میں سالن اور روٹیوں کا تھیلا اور دوسرے میں ٹھنڈے پانی کی بوتل، آتے ہی گویا ہوتے”ارے میاں آپ آئے نہیں، لیاقت صاحب بتا رہے تھے آپ سکول میں بیٹھے کاپیوں کے ساتھ جھک مار رہے ہیں سوچا خالی پیٹ جھک مارنا ممکن نہیں سو یہ کھانا لے کر آ ئے ہیں۔“ اور سچ پوچھیں تو ملتان میں رہتے ہوئے شاید ہی کوئی دوپہر ایسی ہو جس میں خان صاحب کے ہمراہ کھانا نہ کھایا ہو۔اوراگر مجھے چند دنوں کے لیے ملتان سے باہر جانا ہوتا تو میرے حصے کا کھانا خان صاحب ہر روز میرے گھر پہنچا دیتے۔ شروع شروع میں تو میری بڑی ہمشیرہ کو یہ بات ناگوار گزرتی مگر جب والد محترم نے روایت اور رواداری کے وصف کا خاندانی حوالہ دیا تو بات صاف ہو گئی۔
اسی طرح شام کی محفل عموماً گول باغ میں برپا ہوتی۔ خان صاحب اپنی بزرگی کے باوجود ہم لونڈوں لپاڑوں کی محفل کا ایک ناگزیر حصہ بن گئے تھے۔ انھوں نے ان محافل میں کبھی بھی اپنی بزرگی کا فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ پھبتی، ضلع جگت اور جملے بازی میں ہمیشہ حکم کا اکّا ثابت ہوتے تھے۔ تمام دوست ان کو ہمہ قسم کے ”نرم و گرم“ لطائف سناتے اور سنتے بھی تھے البتہ باآوازِ بلند گالی گلوچ کو زیادہ پسند نہیں کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ عموماً مبشر مہدی کی ”اخلاق سوز“ مغلظات اور فلک شگاف قہقہوں پر بعد از محفل تبصرہ کرتے ”میاں اب ہم آپ کے ساتھ گول باغ نہیں جائیں گے جہاں لوگوں کی بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں۔“ یہ الگ بات کہ اگلے ہی روز گول باغ کی چائے کے لیے ان کا فون آ جاتا اور اگر مبشر مہدی چند روز کے لیے غائب ہو جاتا تو خان صاحب اس کی خیر و عافیت کا ضرور پوچھتے۔ گول باغ کی ان محفلوں میں شریک سبھی نوجوانوں اور بزرگوں کی توجہ کا مرکز خان صاحب ہوتے اور یہ توجہ وہ چاہتے بھی تھے۔
خان صاحب جہاں دشمنوں کے دشمن تھے وہاں وہ اپنے دوستوں (خواہ وہ کسی بھی عمر کا ہو)کے لیے سراپا نیاز تھے۔ ان کی محبت اگرچہ سب کے لیے تھی تاہم مجھے وہ بہت عزیز رکھتے تھے۔ میں اپنی کتاب ”مجید امجد۔بیاضِ آرزو بکف“ کی کتابت کے لیے جب کاتب کو تلاش کر رہا تھا تو انھوں نے اپنا سارا کام رکوا کر اپنا کاتب فراہم کیا۔ وہ میری پی ایچ ڈی کے لیے بھی بہت فکر مند تھے، رجسٹریشن کی خاطر انھوں نے پیرزادہ قاسم سے بھی وعدہ لے لیا تھا جب وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے یہ الگ بات کہ میں ہی اس معاملے میں دلچسپی نہ لے سکا۔ اسی طرح اُن کے ذخیرہ غالبیات پر جب میں نے کام کرنے کا ارادہ باندھا تو انھوں نے جمیل الدین عالی کو کتاب کی اشاعت کے لیے پابند کر لیا تھامگراِس موقع پر بھی میں ہی بھاگ نکلا۔سجاد انصاری کی کتاب ”محشر خیال“ کی تدوین ممکن ہی نہ ہو پاتی اگر خان صاحب انڈیا سے مطلوبہ مواد کی فراہمی کے لیے کوشش نہ کرتے او ر یہ بات تو ملتا ن آرٹس فورم کا ہر رکن جانتا ہے کہ ”سطور“ کا قرۃ العین حیدر نمبر خان صاحب کی معاونت کے بغیر شائع کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ دوستوں کے لیے وہ ہر حد پار کر جانے کے بھی قائل تھے۔
وہ اپنے دوستوں کے دوست کو بھی عزیز رکھتے تھے اور دوستوں کے دشمن کو اپنا دشمن مان لیتے تھے۔ یہ 2006ء کی بات ہے، میں زکریا یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بطور استادوابستہ تھا، انہی دنوں کچھ دوستوں کی باہمی چپقلش اپنے عروج کی طرف گامزن تھی۔ میری خواہش تھی کہ ربع صدی کا یہ تعلق کسی نہ کسی طرح قائم رہ جائے۔ میں ان دوستوں کے بیچ صلاح صفائی کی کوشش میں مصروف تھا مگردوستوں کے بیچ رنجشوں کا تدارک کرتے کرتے خود میری اپنی ذات اِس رنجش کا سبب قرار دے دی گئی۔ ”دو پاٹن کے بیچ میں آیا بچا نہ کو“کے مصداق سب سے کمزور فریق ہونے کے ناتے عذابِ دوست مجھی پر نازل ہوا۔ پہلے پہل یونیورسٹی سے بستر گول ہوا، پھر فتووں کی زد میں آکر جان کے لالے پڑے اور آخر آخر شہر بدری تک نوبت پہنچی۔
تو بات ہو رہی تھی خان صاحب کی، ان دنوں ”وہ صاحب“ جن کے سبب سبھی بھوگ بھوگے گئے خان صاحب کے گھر آیا کرتے تھے، کچھ دنوں بعد جب خان صاحب کو علم ہوا کہ موصوف کی پر جوش تحریک میری شہر بدری کا سبب بنی تھی تو خان صاحب نے انھیں آئندہ گھر آنے اور ملنے سے صاف منع کر دیا۔ دلچسپ بات یہ کہ خان صاحب نے یہ بات بہت عرصہ تک مجھے نہیں بتائی یہ تو بھلا ہو شاکر حسین شاکر کا جو اس روایت کے راوی ہیں۔
خان صاحب نے زندگی کا ایک طویل عرصہ ملتان میں گزارا۔ اہل زبان ہونے کے سبب ثقافتی اعتبار سے وہ ا س احساسِ برتری کا شکار تھے جو قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرنے والے یو پی کلچر کی دین تھا۔ وہ محفلوں میں خود کو اس حیران اجنبی کی طرح پیش بھی کرتے تھے جو علی گڑھ کی تہذیبی روایت چھوڑ کر ملتان ایسے پسماندہ گاؤں میں آن آباد ہوا تھا۔ انھوں نے کبھی سرائیکی یا پنجابی بولنے یا سیکھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ پنجابیوں اور سرائیکیوں کی شین قاف درست کرتے رہتے تھے۔ محفلوں میں مقامی لوگوں اور ان کی زبانوں سے متعلق لطائف سنانے میں بہت لطف لیا کرتے تھے۔ ”ڈوہ تے ڈوہ تے ڈوہ ولا ڈوہ تے ڈوہ ڈاہ“ والا لطیفہ قہقہوں کے سبب ان کی رنگت میں سرخی گھول دیتا۔غلط تلفظ ان کا سب سے بڑا مسئلہ تھا اور اس معاملے میں وہ کسی کو رعایت دینے کو تیار نہیں تھے، حد تو یہ ہے کہ دورانِ گفتگو اور بیچ کسی تقریب کے سب کے سامنے ٹوک دینا ان کی عادتِ ثانیہ بن چکی تھی۔یہی وجہ ہے کہ لوگ ان سے کتراتے تھے۔ جسمانی طور پر یہاں تھے مگر ان کا دل علی گڑھ میں اٹکا ہوا رہتا۔ خان صاحب کے اسی رویے کے باعث انھیں کچھ زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا تاہم میرے خیال میں ملتان سے خان صاحب کا رویہ لَو ہیٹ (love hate) کا تھا۔ وہ ساری عمر اپنے آبائی وطن کو یاد کرتے رہے مگر دفن ہونے کے لیے انھوں نے ملتان کی سرزمین کو چنا۔ وہ اس علاقے میں نصف صدی تک علم و ادب اور تدریس کی شمع جلاتے رہے۔ انھوں نے ملتان کے لوگوں کے بارے میں لکھا، یہاں کی ادبی انجمنوں کو رونق بخشتے رہے، دنیا کے دوسرے اور پاکستان کے سب سے بڑے ذخیرہئ غالبیات کو اپنی وفات کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ منتقل کرنے کی خواہش رکھنے والے نے اپنی زندگی ہی میں اِسے یہاں کے طلبا و طالبات کے لیے ارزاں کر دیا۔ اپنے گوشہئ غالبیات کو عطیہ کرنا گویا اپنا دل نکال دینے کے مصداق تھا تاہم ڈاکٹر انوار احمد کے تسلسل سے کئے گئے پرجوش جذباتی اصرار، ملتانیوں کے حقِ تحقیق اور ڈاکٹر روبینہ ترین کی طالب علم پروری پر مبنی درخواست کے سبب اب یہ ذخیرہ زکریا یونیورسٹی کی شان میں اضافہ کر رہا ہے۔اس سے قبل بھی ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر روبینہ ترین کی کاوشوں کے سبب خاں صاحب اپنے کتب خانے میں موجود رسائل اور فکشن کا بیش قیمت ذخیرہ زکریا یونیورسٹی کو عطیہ کر چکے تھے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ خان صاحب خالص ملتانی تھے، وہ ان تمام ملتانی خانوادوں سے بڑھ کے ملتانی تھے جن کے شجرے صدیوں سے اُن کی اِس دھرتی پر موجودگی کی گواہی دیتے ہیں اور جو اپنے آباء کی علمیت پر نازاں اور ان کی علم دوستی پر فاخر تو ضرور ہیں مگر وہ اپنے آباء کے اُن کتب خانوں سے ایک لفظ بھی کسی کو دان کرنے پر آمادہ نہیں جو طویل عرصہ ہوا کسی بدنصیب کے مقدر کی طرح مقفل ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ انھوں نے رشید احمد صدیقی اور اپنی مرحومہ بیوی کے نام سے کئی تعلیمی اداروں میں گوشے قائم کئے جہاں وہ تواتر کے ساتھ کتابیں عطیہ کرتے رہتے تھے۔ اور خان صاحب کے اُس جملے کو کون بھول سکتا ہے جو اُن کے کتب خانے کے حصول کے لیے حکیم سعید کی طرف سے بھیجے گئے بلینک چیک کی پشت پر کٹے ہوئے نب سے لکھا گیا تھا۔ ”محترم حکیم صاحب، عشق نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ خریدا جا سکتا ہے، والسلام“پھر انھی خان صاحب نے اپنی لائبریری میں شاعری کا سارا ذخیرہ حکیم سعید کی ہمدرد یونیورسٹی کو عطیہ کر دیا۔ یہ حوصلہ اور جرأت بھی خان صاحب ہی میں تھا۔ دلچسپ بات یہ کہ خان صاحب کے حوالے سے کتابوں کی بخیلی کا بھی علمی حلقوں میں چرچا رہا یا شاید کیا گیامگر جس خان صاحب کو میں جانتا ہوں وہ کتب کے حوالے سے نہایت فیض رساں تھے۔ بیسویں طالب علموں نے اپنے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالات ان کے کتب خانے کی مدد سے مکمل کیے۔
(جاری )
فیس بک کمینٹ

