تجزیے

کس کی ویڈیو لیک ہونے والی ہے ؟ ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ

پاکستان میں گذشتہ دو روز سے ’لیکڈ ویڈیو‘ کے نام سے ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ چل رہا ہے جس کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی لیکن اب تک 24 ہزار سے زائد ٹویٹس کی جاچکی ہیں۔اس ٹرینڈ کو زیادہ تر صارفین سیاسی صورت حال سے متعلق بیان بازی کے ساتھ ٹیگ کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں کوئی تازہ ویڈیو یا آڈیو تو منظر عام پر نہیں آئی مگر سوشل میڈیا ٹویٹر پر video leaked کے نام سے ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے جسے سابق حکومتی شخصیات سے منسوب کر کے بحث اور قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ویڈیوز کس کی لیک ہونے والی ہیں؟
پاکستان کی سیاست میں گذشتہ چند سالوں سے ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز کے منظر عام پر آنا ایک معمول بن چکا ہے۔ سیاسی فریق دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اس قسم کے آڈیو ویڈیو جاری کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حالیہ چند برسوں میں اس معاملے نے کافی سنگینی اختیار کر لی ہے۔ خاص طور پر جب سے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سزا دینے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک مرحوم کی ویڈیو میڈیا پر جاری کی تھی۔
پھر تحریک انصاف حکومت میں مریم کی آڈیو لیک ہوئیں جن میں وہ سابق دور حکومت میں متعدد چینلز کو اشتہارات جاری نہ کرنے کی ہدایات دیتی سنائی دیں۔ اس آڈیو ریکارڈ کی انہوں نے خود تصدیق بھی کی تھی۔
اس سے قبل ججز اور سیاست دانوں کی ویڈیوز اور آڈیوز کے تذکرے بھی ہوتے رہے ہیں۔ چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ایک خاتون کے ساتھ ملاقات کی مبینہ ویڈیوز بھی منظر عام پر آئیں تھیں۔ اس سے قبل سابق جسٹس قیوم کی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی تھی جس میں ن لیگ کی قیادت کے ساتھ ان کی گفتگو ریکارڈ کی گئی تھی۔اس کے علاوہ کئی شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات سے منسوب ویڈیوز وائرل ہوچکی ہیں۔
نیا ٹرینڈ ’لیکڈ ویڈیو‘ ٹاپ 10 ٹرینڈز میں کافی دیر تک رہا۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے بظاہر حامی ہر ٹویٹ میں ہیش ٹیگ لیکڈ ویڈیو بےوجہ استعمال کر رہے ہیں۔ کئی صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی ایسی ویڈیو ہے۔ اس میں صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کی ٹویٹ ری ٹویٹ کریں گے تو انہیں وہ ویڈیو بھیج دی جائے گی لیکن محض کچھ نے ایسا کیا۔
رواں ماہ کے آغاز میں سابق وزیر اعظم نے ایک نجی ٹی وی کے اینکر ارشد شریف کو انٹرویو میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس وقت کی اپوزیشن آنے والے دنوں میں ان کی کردار کشی کر سکتی ہے۔ ان کے اس بیان سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ شاید ان سے متعلق کسی ویڈیو یا آڈیو کے وائرل ہونے کا خدشہ ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے سوشل میڈیا ترجمان ڈاکٹر ارسلان خالد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے ٹرینڈز غیر اہم ہیں ان میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا جب تک حقائق کے ساتھ بات نہ کی جا رہی ہو۔اس معاملے پر بات کرنے کے لیے مسلم لیگ ن میڈیا سیل کے عہدیداروں سے کوشش کی گئی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
اینکر پرسن تنزیلہ مظہر نے اس معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں کسی کو غیر معروف کرنے کے لیے ذاتی زندگی سے متعلق ویڈیوز اور آڈیوز ریکارڈنگ ماضی میں بھی آتی رہی ہیں اور اب سابق حکمران جماعت کے سربراہ اور رہنماؤں کی ویڈیوز اور آڈیوز آنے کا خدشہ بھی اسی لیے ہے کہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تنزیلہ نے کہا کہ سیاسی شخصیات کی ریکارڈنگز کے لیے بگنگ اور ویڈیوز جاری کرنے کے الزمات ایجنسیوں پر بھی آتے رہے ہیں اور متعدد بار ایسے دباؤ ظاہر کیے گئے۔
عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مخصوص حلقے جس کسی کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں تو ان سے متعلق نجی زندگی یا کسی خاص ملاقات کی ویڈیوز اور آڈیوز ریکارڈنگ کسی خاص وقت کے لیے محفوظ رکھی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جس طرح کردار کشی سے متعلق خدشہ ظاہر کیا تو ہو سکتا ہے انہیں کوئی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ کی اطلاع ہو۔
تنزیلہ مظہر کے بقول یہ سلسلہ اس لیے رکنے والا نہیں کہ جب کسی کی غیراخلاقی یا نجی زندگی سے متعلق ویڈیو یا آڈیو آتی ہے تو سیاسی مخالفین اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں بجائے اس کے کہ اس عمل کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے بائیکاٹ کریں بلکہ لوگ اسے وائرل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس معاملہ پر کوئی ایک قصور وار نہیں بلکہ سبھی اس میں شامل ہیں جب جس کو موقع ملتا ہے مخالفوں پر اچھلنے والے کیچڑ کو پھیلا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے معاملے میں اخلاقی تربیت اور ایک دوسرے کے عزت احترام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کسی کی ذاتی زندگی یا پرائیویٹ ملاقاتوں کی ویڈیوز کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اس ٹرینڈ کی وجہ سے صارفین میں تجسس بھی کافی بڑھا ہے۔ وہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ یہ ویڈیو آخر کس کی ہے۔ لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا سلسلہ محض چند لوگ اپنی فالونگ بڑھانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ملک میں جاری سیاسی صورت حال کی وجہ سے شاید اس ’فیک نیوز‘ کو ضرورت سے زیادہ ہوا مل رہی ہے۔
( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker