ایم ایم ادیبکالملکھاری

میرا شہر، میرا وسیب ۔۔ ایم ایم ادیب

بہت دن ہوئے نہ اس شہر کی سیاست کو چھیڑا ہے نہ اس وسیب کی سیاسی فضا کو پرکھا ہے، یہ سویا ہوا شہر ہے اور محبت و الفت سے گندھا وسیب مگر یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس بھی سیاسی یا مذہبی تحریک نے اس شہر میں سر اٹھایا،اس وسیب میں اس کی کونپلیں پھلی پھولیں، وہ تحریک کبھی بے نیل و مرام نہیں ٹھہری، ہاں مگر اس امر سے بھی مطلق انکار نہیں، یہ ذرا دیر سے جاگتا ہے۔



یہ سادہ لوح لوگوں کی دھرتی ہے جو سیاسی وعدوں پر آسانی سے یقین کر لیتے ہیں، یہ ایک ایک سوراخ سے کئی کئی بار ڈسے جاتے ہیں مگراعتبار کی لذت سے دستبردار نہیں ہوتے۔ انہیں یہاں کے پیروں،مخدوموں اور تمن داروں نے خودمختاری سے جینے کا ڈھنگ نہیں اپنانے دیا، یہ راعی بننے کی بجائے رعایا بننے میں زیادہ مسرت محسوس کرتے ہیں، وفا کی مٹی سے گندھے یہ کبھی کروٹ لیتے ہیں تو سب کچھ ہی الٹ کے رکھ دیتے ہیں ۔ پی پی پی کو جو اعتبار اس شہر اور اس وسیب کے باسیوں نے بخشا، وہ شاید ہی کسی اور وسیب نے بخشا ہو، آمریت کے سیاہ دور میں سب سے زیادہ مزاحمت یہیں پر دیکھنے کو ملی، اسی شہرملتان اور وسیب کے جیالوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں اور ٹکٹیوں پر چڑھے مگر کسی نے انہیں غربت کے منحوس چکر سے نکالنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی ۔



پی پی پی کے سید یوسف رضا گیلانی نے ان کے کچھ دکھ ضرور بانٹے، بہت سارے گھروں کے دیئے آج بھی ان کی وجہ سے جلتے ہیں کہ بے روزگار نوجوانوں کے گھروں تک روزگار پہنچایا، آج تک جن کے چولہے جل رہے ہیں،گیلانی صاحب نے شہر کی تعمیر وترقی پر بھی بھر پور توجہ دی اور اپنے صوابدیدی فنڈز سے متعدد فلائی اوورز بنوائے جن کی وجہ سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوا بلکہ شہر کے لوگوں کے کاروباری مفادات بھی دو چند ہوئے۔ نواز دور میں سب سے بڑا منصوبہ میٹرو بس کا تھا جس کے روٹس متعین کرنے میں ن لیگ کے مقامی رہنماؤ ں کے ذاتی مفادات کو زیادہ اہمیت دی،کھانے پینے کے اہتمام کا بھر پور خیال رکھا گیا، ملتان کو الگ صوبہ بنانے جیسے امور جن پر بنیادی کام پی پی پی نے پہلے ہی سے مرتب کر رکھے تھے انہیں درخور اعتنا نہ سمجھا بلکہ اپنے بعض انتخابی وعدوں کو بھی پورا نہ کیا، صحت کی سہولیات کے حوالے سے وسیب کے اہم شہر بہاولپور کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے نہ کئے گئے،اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی بھی حوصلہ شکن ہے جس کی زیادہ تر کامیابی اسی شہر اور وسیب کی مرہونِ منت ہے۔یہ وسیب جس کا دیرینہ مطالبہ الگ صوبے کا قیام رہا ہے مگر صوبے کی اس جنگ کے میدان کا تنہا شناور رانا فراز نون ہے جو تاج لنگاہ مرحوم کے بعد اس محاذ پر لڑرہا ہے،اجالا لنگاہ ودیگر دخترانِ تاج لنگاہ بھی نصف صدی کی بے نتیجہ جدوجہد سے دست کش نہیں ہوئیں نہ ان کے حوصلے پست ہوئے ہیں ۔سید یوسف رضا گیلانی جب وزارتِ عظمیٰ کے منصب دارتھے ان دنوں میں یا پھر الیکشن دو ہزار اٹھارہ کی انتخابی مہم کے دوران سرائیکی صوبے کی بات گھن گرج سے کرتے رہے مگر صوبے کی تحریک چلانے والوں کا دل وجان سے ساتھ نہ دیااور نہ ہی ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کبھی کھڑے ہوئے۔
جاوید ہاشمی ہوا کا رخ دیکھ کر چلتے ہیں ،انہیں منفعت کا سودا مارشل لاء میں بھی دکھائی دیا تو موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا، مسلم لیگ ن کو تج کر آئے تو عمران خان سیاست کا کاٹھ کباڑ اکٹھا کرنے میں مگن تھے، سومخدوم جاوید ہاشمی کی اچھی بھلی پذیرائی کی، تاہم ایک میان میں دو تلواریں سما نہ سکیں، مخدوم شاہ محمود قریشی جو ’’عمرا جاتی ‘‘ کے ٹھکرائے ہوئے تھے،انہوں نے ہاشمی صاحب کے پائوں اکھیڑ دیئے اور موصوف اس زعم میں کہ ابھی بھی وہ ن لیگ کی ضرورت ہیں، عجلت میں اپنے آپ ہی میں بذاتِ خود ہی راندہ درگاہ ٹھہرے، شہرت کے آسمان سے گرے تو اپنے وجود کی کھجور میں اٹکے رہ گئے، بہت زور لگایا مگر ٹوٹا ہوا اعتماد اور کھویا ہوا اعتبار بحال نہ کرواسکے، شہر کے لوگوں کی نظروں میں ایسے گرے کہ پی ٹی آئی کے ایک ابھرتے ہوئے نو آموز سیاسی کارکن ( پی پی پی پلٹ) کے ہاتھوں غالباََ ضمانت ضبط کروا بیٹھے، پشت پر کھڑی ن لیگ بھی انہیں شکست کی ہزیمت سے بچا نہ سکی۔
ویسے ہی جیسے شہر کی ایک صوبائی نشست پر مخدوم شاہ محمود قریشی عزت گنوا بیٹھے، سیاست کے حروفِ ابجد سے نا آشنا ایک نوجوان سماجی کارکن نے انہیں ناکوں دانے چبوا دیئے، اس طرح مخدوم صاحب کا وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کا خواب ایک بار پھر ادھورا رہ گیا، دشمنوں نے یہ ہوائی بھی بہت اڑائی کہ اس شکست کے پیچھے جہانگیر ترین کا ہاتھ تھا، وللہ اعلم۔
بوسنوں کی سیاست کا چراغ بڑے خان، سکندر حیات خان بوسن کی طویل علالت کی وجہ سے بجھ سا گیا، انہوں نے مہلک سرطان کو شکست دے دی تو کسی نہ کسی چڑھتے سورج کی پوجا سے پھر سیاست کے فلک پر جگمگاتے دکھائی دئیے کہ اس ہنر میں یکتا ہیں۔ ان کے برادر نسبتی فیاض خان بوسن اگر بروقت کوئی صائب فیصلہ کر لیتے توآج بوسن خاندان کی سیاست کاستارہ مطلق نہ ڈوب گیا ہوتا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker