جہان نسواں / فنون لطیفہ

مادھوری ڈکشٹ: ’دھک دھک گرل‘ بچپن سے پچپن تک :جنم دن پر پرادیپ سردنا کی رپورٹ

’یہ ہماری فلم ابودھ کی ہیروئن مادھوری ڈکشٹ ہیں۔‘ آج سے تقریباً 38 سال پہلے راج شری پروڈکشن کے معروف پروڈیوسر سیٹھ تاراچند برجاتیا نے میرا تعارف مادھوری ڈکشٹ سے اس طرح کرایا۔ جب میں ممبئی میں سیٹھ جی سے ان کے آفس میں ملنے گیا تو مادھوری ان کے سامنے بیٹھی تھی۔
وہ بہت شرمیلی لگ رہی تھیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ زور سے ہنس پڑیں۔
میں نے سوچا کہ راج شری کے لوگوں نے یہ کیسی ہیروئن لے لی ہے۔ اتنی دبلی پتلی، جس کے گال بھی دھنسے ہوئے تھے۔ اس میں ہیروئن جیسا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔لیکن اس ملاقات کے تقریباً پانچ سال بعد وہی مادھوری ڈکشٹ اپنی فلم ’دل‘ سے کروڑوں دلوں کی دھڑکن، دھک دھک گرل بن گئی تھیں اور میرا اندازہ غلط ثابت ہوا تھا۔
مادھوری کی سادگی دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ لڑکی نہ صرف اپنی اداکاری بلکہ خوبصورتی اور انداز سے بھی کروڑوں کو اپنا دیوانہ بنا لے گی۔ اپنے جذبے، محنت، رقص اور ہنر کے بل بوتے پر مادھوری طویل عرصے تک سکرین پر چھائی رہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ مادھوری کا یہ جادو آج بھی برقرار ہے۔ اب جبکہ مادھوری اپنے فلمی کیرئیر کے 38 سال مکمل کر کے 55 سال کی ہو گئی ہیں، تب بھی ان کے مداح انہیں وہی پیار دے رہے ہیں جو ان کو برسوں پہلے ملتا تھا۔
مادھوری کی اس سالگرہ پر ہم آپ کو مادھوری کے بچپن سے پچپن تک کے سفر کی وہ جھلک دکھاتے ہیں جس کی وجہ سے مادھوری اس صدی کی 10 ٹاپ ہیروئنز میں شان سے بیٹھی ہیں۔حالانکہ مادھوری کے پاس آج نئی فلموں کی کمی ہے، اس کے باوجود مادھوری کے جادو میں کوئی کمی نہیں آئی۔
مادھوری ڈکشٹ 15 مئی 1967 کو ممبئی کے ایک مراٹھی برہمن گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ والد شنکر ڈکشٹ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے اور والدہ سنیہلتا ڈکشٹ گھریلو خاتون ہونے کی وجہ سے کلاسیکی رقص اور گانے میں بہت دلچسپی رکھتی تھیں۔
مادھوری کی پیدائش سے پہلے ہی ڈکشٹ خاندان میں تین بچے آچکے تھے۔ مادھوری اپنے چار بہن بھائیوں روپا، بھارتی اور اجیت میں سب سے چھوٹی ہیں۔
ماں سنیہلتا نے پہلے روپا اور بھارتی کو کتھک ڈانس سکھایا۔ جب مادھوری تین سال کی تھیں تو انھوں نے کتھک ڈانس کلاس میں داخلہ لیا اور 11 سال کی عمر میں کتھک میں ماہر ہو گئیں۔
دوسری جانب مادھوری نے سکول کی تعلیم کے لیے ڈیوائن چائلڈ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ مادھوری بچپن سے ہی پڑھاکو قسم کی لڑکی تھیں۔ ساتھ ہی کتھک رقص ان کا جنون بن چکا تھا۔وہ اپنی بہن کے ساتھ سکول کے ثقافتی پروگراموں میں رقص کرتی تھیں۔ آٹھ سال کی عمر میں اس وقت ان کا جوش بڑھ گیا جب گرو پورنیما کے تہوار کے دوران رقص کرنے کے بعد ایک دن ان کا نام پہلی بار اخبار میں آیا۔
اگرچہ مادھوری نے گریجویشن کے لیے پارلے کالج میں بی ایس سی میں داخلہ لیا تھا، لیکن فلموں کی وجہ سے انھوں نے اپنی پڑھائی جلد ہی درمیان میں چھوڑ دی۔
لگاتار سات فلاپ
جب مادھوری 17 سال کی ہوئی تو ان کی صلاحیتوں کو ہدایت کار گووند مونس نے دیکھا۔ ان کی ملاقات تاراچند برجاتیا اور ان کے بیٹے راجکمار برجاتیا سے ہوئی۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ ان کی فلم ابودھ کی ہیروئن بن گئی تھیں۔
ہرن ناگ کی ہدایت کاری میں بنی فلم میں مادھوری گوری نامی ایک نوجوان خاتون کا کردار ادا کر رہی تھیں اور مرکزی کردار تاپس پال تھا۔ راجشری پروڈکشن نے اس وقت تک کئی شاندار کامیاب فلمیں بنائیں تھیں لیکن 1980 کی دہائی میں ان کی کئی فلمیں لگاتار فلاپ ہو گئیں۔
’ابودھ‘ کا تو اتنا برا حال ہوا کہ اسے پورے ملک میں دکھایا ہی نہیں جا سکا تھا۔ اس سے مادھوری کو بہت دکھ ہوا۔ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں مادھوری سے میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ بچپن سے اداکارہ بننا چاہتی ہیں؟
اس پر مادھوری نے بہت صاف جواب دیا کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن گووند مونس انکل سے ہماری اچھی واقفیت تھی، ان کے کہنے پر فلم کی، تب ہی مجھے ایل وی پرساد کی سواتی میں کام کرنے کا موقع مل گیا اور میری فلموں میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔اگرچہ مادھوری کو ابودھ کے بعد آوارہ باپ، سواتی، حفاظت، اتر دکشن اور خطروں کے کھلاڑی جیسی فلمیں ملیں، لیکن ان کی سات فلمیں قطار میں فلاپ ہوئیں۔
کامیابی اور اعتماد
اس ناکامی سے مادھوری بری طرح ٹوٹ گئیں۔ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے مادھوری کہتی ہیں ’میں گھر میں بہت روتی تھی لیکن ماں، میری بہنوں نے مجھے ہمت دی۔ ماں کہتی تھیں کہ پریشان نہ ہو، ایک دن تم ضرور کامیاب ہو گی۔‘
ماں کی باتیں پھر معجزہ بن کر سچ ثابت ہوئیں جب ان کی فلم تیزاب 1988 میں ریلیز ہوئی۔ فلم نے کامیابی سمیٹی اور ان کے ڈانسنگ ٹیلنٹ کو سراہا گیا۔ جب مادھوری نے موہنی کے طور پر فلم کے ایک گانے ایک دو تین پر ڈانس کیا تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اس گانے کا جادو اور فلم میں مادھوری کا ڈانس لاجواب تھا۔ مجھے وہ مناظر آج بھی یاد ہیں، جب یہ گانا آیا تو تھیٹر میں بیٹھے لوگ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ناچنے لگے۔ بہت سے تماشائی تو رقص کرتے اسکرین کے سامنے پہنچ کر سکے اور نوٹوں کی بارش شروع کر دیتے تھے۔
اس گانے کی وجہ سے ہندی نہ جاننے والوں کو بھی ہندی کی گنتی یاد آ گئی تھی۔ بس تیزاب نے مادھوری کی قسمت بدل دی۔ مادھوری کی اس کامیابی نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ ان کو یقین ہو گیا کہ اب وہ آگے بڑھ کر رہیں گی۔
تیزاب کے ساتھ اسی سال ان کی ایک اور فلم نے بھی دھوم مچا دی۔ پروڈیوسر فیروز خان کی اس فلم میں مادھوری ڈکشٹ کے گانے آج پھر تم پے پیار آیا ہے کے مناظر نے بھی ان کو سرخیوں میں پہنچا دیا۔
مادھوری کو ان مناظر کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ بعد میں مادھوری نے افسوس کا اظہار کیا۔ مادھوری کے پورے کیرئیر میں یہ واحد فلم ہے جس میں انھوں نے ایک حد کراس کی ورنہ مادھوری ایسے مناظر سے گریز ہی کرتی رہیں۔
اس کے بعد مادھوری نے آہستہ آہستہ ہندی سنیما کو اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا۔ سبھاش گھئی نے فلم رام لکھن میں مادھوری کو اس سے بھی زیادہ شان و شوکت سے دکھایا کہ اب وہ سپر سٹار بن چکی ہیں۔
مادھوری اپنے 38 سالہ فلمی کیریئر میں اب تک تقریباً 70 فلمیں کر چکی ہیں جن میں دل، پرندہ، کھل نائیک، ہم آپ کے ہیں کون، انجام، دل تو پاگل ہے، پکار اور دیوداس جیسی ہٹ فلمیں شامل ہیں۔
جہاں مادھوری ڈکشٹ نے اپنے کریئر میں کل چھ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے ہیں، وہیں 17 بار فلم فیئر میں نامزد ہو کر کئی بڑی اداکاراؤں کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔ 2008 میں حکومت ہند نے انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔
شادی، ریٹائرمنٹ اور واپسی
مادھوری ڈکشٹ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا جب انھوں نے 17 اکتوبر 1999 کو امریکہ میں اپنے بھائی کے گھر پر انڈین نژاد ڈاکٹر سری رام مادھو نینے سے شادی کی۔ جب ان کی شادی کی خبر انڈیا پہنچی تو بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔
اب تو کئی ہیروئنز نے بیرون ملک شادی کا رواج شروع کر دیا ہے۔ اس فہرست میں پریانکا چوپڑا کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔لیکن تب یہ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ مادھوری اپنی کامیابی کے عروج پر اچانک شادی کر لیں گی۔ وہ بھی کسی ایسے شخص سے جو نہ تو فلم انڈسٹری سے تھا، نہ ہی بزنس اور کرکٹ کی دنیا سے۔
تاہم مادھوری نے کچھ دنوں بعد ممبئی واپس آ کر شادی کا استقبالیہ دیا جس میں مہاراشٹر کے اس وقت کے وزیر اعلی اور شیو سینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے سمیت امیتابھ بچن، دلیپ کمار، سائرہ بانو، سری دیوی اور بونی کپور سمیت کئی لوگ آئے۔
مادھوری ڈکشٹ کی شادی کے وقت ان کی عمر 32 سال تھی۔ شادی کے بعد مادھوری کچھ دن ممبئی میں رہیں اور اپنی ادھوری فلموں کی شوٹنگ مکمل کی۔ اس کے بعد وہ فلموں سے ریٹائر ہو کر واپس امریکہ چلی گئیں جہاں 17 مارچ 2003 کو انھوں نے اپنے پہلے بچے بیٹے ریان کو جنم دیا۔ اس کے بعد 8 مارچ 2005 کو ان کے ہاں ایک اور بیٹا ایرن پیدا ہوا۔
شادی کے سات سال بعد ریٹائرمنٹ ترک کر کے مادھوری دوبارہ فلموں میں کام کرنے کے لیے اس وقت انڈیا واپس آئیں جب یش چوپڑا نے ان کو فلم ‘آجا نچلے’ کے لیے بلایا۔جب مادھوری ایرن کو گود میں لے کر ممبئی ایئرپورٹ سے باہر آئیں تو پہلے تو کسی نے ان کو پہچانا ہی نہیں۔ لیکن تھوڑی دیر بعد جب ان کو پہچان لیا گیا تو ان کے لیے اپنی گاڑی تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔
جب مادھوری کی فلم آجا نچلے فلاپ ہوئی تو انھوں نے پھر کچھ عرصے کے لیے خود کو فلموں سے دور کر لیا۔ وہ سونی چینل کے ٹی وی شو جھلک دکھلا جا کے لیے 2010 میں کچھ وقت کے لیے ممبئی واپس آئیں۔
اگر آپ مادھوری ڈکشٹ کی اداکاری، ڈانس، ہنسی، خوبصورتی کو دیکھیں تو وہ مدھوبالا سے تھوڑی قریب نظر آتی ہیں۔ ڈانس میں ان کو وجینتی مالا اور ہیما مالنی کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔
لیکن بڑی بات یہ ہے کہ پہلے نئی اداکارائیں مینا کماری، مدھوبالا، نرگس جیسی بننا چاہتی تھیں۔ اب کئی نئی اداکاراؤں کا کہنا ہے کہ وہ مادھوری ڈکشٹ کی طرح کا بننا چاہتی ہیں۔
مادھوری اکتوبر 2011 میں امریکہ چھوڑ کر خاندان کے ساتھ ممبئی واپس آ گئیں۔
حال ہی میں انھوں نے اپنا نیا اپارٹمنٹ خریدا ہے۔ ان کے پاس فلمیں نہیں ہیں، لیکن اس بات کی ان کو کوئی فکر نہیں۔
وہ کلرز کے ڈانس دیوانے میں جج بن کر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہیں۔ مادھوری نے نیٹ فلکس تھرلر ویب سیریز دی فیم گیم کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔اس کے ساتھ انھوں نے اپنی فلمیں بنانے کی بھی تیاری کر لی ہے۔
بطور پروڈیوسر ان کی مراٹھی فلم 15 اگست بھی سال 2019 میں ریلیز ہوئی۔ وہ مستقبل کے لیے کچھ سکرپٹس پر بھی کام کر رہی ہیں۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker