کالملکھاریمحمود شام

بھارت کے اہلِ علم و دانش کے نام۔۔مملکت اے مملکت/محمود شام

نریندرا ہٹلر اپنے اقتدار کے آخری سال میں جنگ کی آگ بھڑکانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔الیکشن ہارنے کا خوف انہیں ہٹلر ،مسولینی اور اندرا گاندھی کے نقش قدم پر لے جارہا ہے۔
پہلے یہ تاثر عام تھا کہ یہ اکیسویں صدی ہے۔ اطلاعات اور عالمگیریت کی صدی۔ اب جنگ نہیں ہوگی۔ کوئی ملک، کوئی علاقہ، کوئی خطّہ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دنیا نے بڑی قربانیاں دے کر امن حاصل کیا ہے۔ امن کی قیمت یورپ کے اہل علم و دانش سے پوچھیں۔ جہاں لاکھوں ہلاکتیں ہوئیں۔ لاکھوں گھر جلائے گئے۔ لاکھوں خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے۔ جنگیں کئی کئی سال تک جیتے جاگتے انسانوں کو اپنا ایندھن بناتی رہیں۔ جنگ کے شعلوں کے سامنے انسان کتنا بے بس ہوجاتا ہے۔ منطق، اخلاقیات، نفسیات، حوصلے سب ہار جاتا ہے۔ باقی رہتا ہے صرف جنگی جنون۔ پھر برسوں بعد جنگی جنون جب ختم ہوجاتا ہے تو زندگی کے سارے آثار دم توڑ چکے ہوتے ہیں۔ انسان اپنے آپ کو ذلّت ، بے بسی اور بے حسی کی آخری سرحدوں پر پاتا ہے۔ دلائل، احتیاط، سمجھداری کچھ بھی انسان کا ساتھ نہیں دیتا۔ جنگ کی آگ بھڑکتی ہے تو ملکوں کے ملک، علاقوں کے علاقے جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔
یہ تو بھارت کے اہل علم و دانش بھی جانتے ہیں۔وہ مدتوں سے امن و یگانگت اور محبت کے گیت لکھ رہے ہیں۔ آشتی کی کہانیاں قلمبند کررہے ہیں۔ وہ دانش کی فتح چاہتے ہیں۔ جوش کی بجائے ہوش کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ساحر لدھیانوی جنگ کی مذمت کرتے کرتے چلے گئے۔ کیفی اعظمی امن کا پرچار کرتے رہے۔ علی سردار جعفری نے جنگ کو انسانیت کا دشمن قرار دیا۔امرتا پریتم وارث شاہ کو پکارتی رہی۔ مگر نریندرا ہٹلر اور اس کے ساتھیوں نے عالمی ادیبوں، شاعروں کو تو درکنا بھارت کے ادیبوں ، شاعروں کو بھی کبھی نہیں پڑھا ، سنا۔ وہ تو اپنی ہندو توا، اکھنڈ بھارت اور مسلمانوں کے خلاف شدت پسندی میں اتنے جنونی ہوچکے ہیں کہ انہیں صرف الیکشن جیتنے سے غرض ہے۔ چاہے اس کیلئے تمام عالمی اصول ہار جائیں ۔ امن کی فاختائیں قربان ہوجائیں۔ جب وہ صرف الیکشن جیتنے کیلئے سب کچھ دائو پر لگانے کو تیار ہیں تو دوبارہ حکومت میں آکر وہ کیا کچھ کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔
ان کے بھیانک عزائم کو کامیاب بنانے کیلئے ہندوستان کے سارے انتہاپسنداکٹھے ہوگئے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے ۔ جنگی جنون بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جنگ چھڑے نہ چھڑے۔ لیکن بھارت کے گلی کوچوں میں جنگی دیوانگی کا دور دورہ ہے۔ ایسے عالم میں یہ اہل علم و دانش کا ہی فرض ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کو اس جنون سے محفوظ کریں۔ یہ دیوانگی ذہن مائوف کردیتی ہے۔ دلیل ہار جاتی ہے۔ بازاروں میں ہجوم ہوش و خرد کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ اہل دانش گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کہیں سے بھی کسی دانش کا، تحمل کا مظاہرہ نہیں ہورہا۔ ہندوستان کے شاعروں، افسانہ نگاروں، مصوّروں، ناول نگاروں اور صحافیوں کا ایک شاندار کردار رہا ہے۔ جب ملک آزاد ہورہا تھا اس وقت اُردو، ہندی، پنجابی، ملیالم، تامل، بنگالی اور آسامی زبانوں میں لکھنے والوں نے اس آگ کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں کی تھیں۔ سیکولر ازم کے نعرے بلند کئے تھے۔ کچھ آوازیں سنی بھی گئی تھیں۔ لیکن اب تو ایسی کوئی آواز سننے میں نہیں آرہی ۔ کوئی تحریر پڑھنے میں نہیں آرہی ۔ انسانیت کی سر بلندی کے گیت گانے والے سب خاموش ہوچکے ہیں۔ کوئی خواجہ احمد عباس ہے نہ کرشن چندر ۔ عصمت چغتائی ہے نہ قرۃ العین حیدر۔ جیلانی بانو ہے نہ راجندر سنگھ بیدی۔ مجروح سلطان پوری ہے نہ ندا فاضلی۔جمہوریت سر چھپائے پھرتی ہے۔ بھارتی ہٹلر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
میں آپ کو یاد دلادوں۔ ہم ملتے رہے ہیں۔شملے میں، دلّی میں، کولکتے میں، بمبئی میں، کبھی سائوتھ ایشیا ایڈیٹرز فورم میں۔ کبھی اُردو ایڈیٹرز کانفرنس میں۔ کبھی سارک ایڈیٹرز کانفرنس میں۔ کبھی عالمی مشاعروںمیں۔ کبھی روزنامہ ’سیاست‘ دکن کی اُردو ایڈیٹرز کانفرنس میں۔ ہم سب اس درد کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں جنگی جنون کب تک رہے گا۔ بھارت بڑا ملک ہے۔ اسکے رویے کی وجہ سے ’سارک‘ کا علاقائی تعاون کامیاب نہیں ہورہا ۔ دنیا بھر میں علاقائی تعاون کی تنظیمیں تبدریج کامیاب ہورہی ہیں۔تعلیم عام ہورہی ہے۔ زندگی میں آسانیاں فراہم کی جارہی ہیں لیکن دُنیا کی 1/5آبادی والے اس علاقے میں بھارت کی ہٹ دھرمی اور بالادستی کے جنون نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ برقرار رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کیا جارہا ہے۔ بھارت کے اس رویے کے باعث کشمیری حقِ خود ارادیت سے محروم ہیں ۔ سات لاکھ فوجی موجود ہونے کے باوجود آزادی کی آواز دبائی نہیں جاسکی۔ اٹوٹ انگ کہنے کے باوجود کشمیریوں کوآزادیاں،سہولتیں، ٹیلی فون کی آسانیاں اورسفر کی فراوانیاں میسر نہیں ہیں ۔اس امتیازی سلوک سے ہی بھارت کے سیکولر ازم اور جمہوریت کے دعوؤں کی نفی ہوجاتی ہے۔
ہم نے اور آپ نے کتنی بار کتنے طریقے سوچے۔ طے کئے کہ ہم کوشش کریں گے کہ جنگ کا جنون کم کریں۔ ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد جھوٹا پروپیگنڈہ شائع نہیں کریں گے۔ امن کا علم بلند کریں گے۔ ایسے لیڈروں کے بیانات نہیں چھاپیں گے جس سے جنگی جنون پھیلتا ہو۔ امنِ عامہ کو نقصان پہنچتا ہو ۔ اقلیتوں کے تحفظ کیلئے کوششیں کریں گے۔ دنیا کو یہ کہنے کا موقع نہیں دیں گے کہ اس سب سے زیادہ گنجان آبادی والے جنوبی ایشیا میں تحمل اور برداشت نہیں ہے۔
یہ سرحدیں اب انسانی خون سے امر ہوچکی ہیں۔ ان کے دونوں طرف خود مختار ممالک آباد ہیں۔اپنی سر زمین کو کسی کے خلاف استعمال کرنے کا موقع بھی نہیں دیں گے۔
ہم آپ کو بتاتے رہے ہیں کہ افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب موجود بھارتی قونصل خانوں سے بلوچستان میں در اندازی کی جارہی ہے۔ پھر کلبھوشن یادیو کے اعترافات نے حقیقت کھول کر بیان کردی۔
اب اکیسویں صدی میں بھارت کو کن القاب سے یاد کیا جارہا ہے۔ اب حقائق چھپائے نہیں جاسکتے۔ آپ قلم اور دلیل کے وارث ہیں۔ تاریخ آپ سے سوال کر رہی ہے۔ آپ اس وقت کس کے ساتھ ہیں۔ امن کے یا جنگ کے، انسانیت کے یا شیطنیت کے۔ جواب آپ کو دینا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker