کالملکھاریمحمود شام

’’چور کو تھانیدار مقرر کردو‘‘۔ یوسفی کامشورہ: مملکت اے مملکت / محمود شام

’’چوریاں بند کرنے کا ایک آزمودہ طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ چور کو تھانیدار مقرر کردو ہمیں اس میں اس فائدے کے علاوہ کہ وہ دوسروں کو چوری کرنے نہیں دے گا۔ ایک اور فرق نظر آتا ہے وہ یہ کہ پہلے جو مال وہ اندھیری راتوں میں نقب لگاکے بڑی مصیبتوں سے حاصل کرتا تھا وہ اب مالکان خود تھانے میں رشوت کی شکل میں لاکر بہ رضا و رغبت پیش کردیں گے…‘‘
پچھلے چالیس برس سے ہم اس طریقے پر عمل کررہے ہیں۔ اس کے نتائج آج کل امیدواروں کے اثاثوں میں بڑے مثبت انداز میں دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ لافانی مشورہ جناب مشتاق احمد یوسفی کی شہرہ آفاق تصنیف’ آب گم‘ سے رسالہ درمدح و مذمت طوائف یعنی در دفاع خود۔کلام اور اولاد کی شان نزول میں سے اقتباس کیا ہے۔ ہم چند روز پہلے اردو نثر میں پر متانت شگفتگی۔ اور با وقار مزاح کے خالق کو سپرد خاک کرکے پھر اپنی سیاسی ہٹ دھرمیوں۔ اثاثوں کی زنبیلوں اور تجزیوں کے مجروں سے لطف و اندوز ہورہے ہیں۔ کہنے کو تو ہم ’عہد یوسفی‘ میں زندہ رہنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن اس عہد کے آداب و اقدار سے کہیں زیادہ ہمیں یوسفی صاحب کے ساتھ اپنی سیلفیاں فیس بک پر داغنے کا شوق ہے۔ سوئے ادب کا خیال نہ بزرگی کی ناقدری کا احساس کہ وہ بستر علالت پر دراز ہیں۔ ہم مسکراتے ہوئے اپنی تصویر کھینچ رہے ہیں یا کھنچوارہے ہیں۔
ہم اپنے ادبی خزانے۔ علمی سرمایہ کھورہے ہیں۔ مگر احساس زیاں کو قریب نہیں آنے دیتے۔ آرزوئیں خاک ہورہی ہیں۔ تمنّائیں سلگ سلگ کر راکھ میں تبدیل ہورہی ہیں۔ اپنے تہذیبی ورثوں اور عظیم ثقافتی اثاثوں میں محرومی کے قلق سے کہیں زیادہ اندوہ ہمیں زلفی بخاریوں، زعیم قادریوں، نثار چوہدریوں کی دربدری کی لاحق رہتا ہے۔ آب گم ہورہا ہے۔ چراغ تلے اندھیرا ہے۔ مگر ہمیں زرداریوں۔ شہبازوں۔ عمرانوں اور بلاولوں کی زر گزشت میں جھولے لینے میں مزہ آرہا ہے۔ یہ المیے تو اپنی جگہ ہیں ہی۔ اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ایسے لوگ ابدی نیند سونے کے لئے چلے جارہے ہیں جو ہمیں زندگی بھر جگانے کی کوشش کرتے رہے۔جنہوں نے اپنی خودی نہیں بیچی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔نگراں حکومتوں میں شمولیت کے لئے ٹانکے نہیں لگائے۔ مہدی مسعود۔ جمشید مارکر جیسے عظیم پاکستانی بھی راہی ملک عدم ہوئے ۔
یوسفی صاحب کی نثر کے عشاق سے ہمارا واسطہ رہا ۔ جملے کے جملے حفظ کر رکھے تھے۔ کراچی۔ اسلام آباد۔ لاہور۔ ملتان۔ لندن۔ ٹورنٹو۔ نیویارک۔ ٹوکیو ایسے دلدادگان اُردو سے ملاقاتیں رہیں۔ جو بلا تکان پیرے کے پیرے روانی سے دہراتے تھے۔ اور اس مشقت سے حظ اٹھاتے تھے۔بازاروں میں رواں دواں ہیں کوئی حسینہ آبرو باختہ دکھائی دی تو اپنا تاثر بزبان یوسفی برملاادا کردیتے۔ جب ناؤنوش کی محفلیں برپا ہوئیں تو ان فنا فی الیوسفی قارئین کے جملے مونگ پھلی ۔بادام کا منصب ادا کرتے۔ مجھے تو سچ جانیے بہت خوشی ہوتی اور میں یوسفی صاحب کے اس احسانِ عظیم کو دل پر نقش کرلیتا کہ ان کی نثر کی بدولت اُردو سے عشق کا سلسلہ جاری ہے۔ اشعار کو یاد رکھنے کی روایت تو قدیم ہے۔ لیکن نثری جملے مشتاق احمد یوسفی کے دیوانوں سے ہی سنے۔ جبکہ ہمارے ٹی وی چینل صرف فلمی گانے اور مکالمے دہراتے ہیں وہ بھی انڈین۔
میری پہلی بالمشافہ ملاقات لاہور میں ہائی کورٹ کے قریب آسٹریلیشیا بینک میں ہوئی تھی۔ میں طالب علم تھا۔ بہت ہی گھبرایا ہوا۔ ایک عظیم صاحب قلم کے حضور۔ لیکن ان کے پُر تپاک مصافحے نے سارا خوف دور کردیا۔ لاہور سے کراچی منتقل ہوا تو قمر ہاؤس میں آسٹریلیشیا بینک میں آداب کے لئے حاضرہوا۔ ’اخبار جہاں‘ سے وابستہ تھا۔ مشاہیر سے ’آپ کی بیاض سے‘ کے لئے ان کے پسندیدہ اشعار حاصل کرتے تھے۔ پھر یوسفی صاحب ۔ یو بی ایل کے ہوکر رہ گئے۔ وہیں سے آغا حسن عابدی بی سی سی آئی لے گئے۔ لندن میں اُردو مرکز سے اُردو کی جو خدمت کی گئی وہ پوری دُنیا کے علم میں ہے۔افتخار عارف اس کی تفصیل بیان کرسکتے ہیں وہ پہلی شخصیت ہیں۔ جنہوں نے اقتصادیات اور زبان کو ایک ساتھ گوندھ کر گلدستہ ترتیب دیا۔ بینکنگ اور ادب کا حسین امتزاج پیش کیا۔ نثر کی بات ہورہی ہے مگر یوسفی صاحب تو پاکستان کی بینکنگ میں بھی اعلیٰ ترین مناصب پر فائز رہے۔ مزاح میں تو وہ ان بلندیوں پر پہنچے۔ جہاں بندہ اکیلا رہ جاتا ہے۔
لکھتے وقت تو ہم نے نہیں دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں کیسی چمک ہوتی تھی۔ اور لبوں پر کیسی مسکراہٹ اس کا مشاہدہ تو ان کی رفیقِ حیات نے کیا ہوگا یا بچوں نے۔ لیکن اپنے مضمون کی قرأت کے دوران جب وہ نشتر زنی میں توقف کرتے۔ ناظرین سامعین تو زور دار قہقہے لگانے پر مجبور ہوتے۔ ان کے لبوں اور آنکھوں میں بہت ہی معصومانہ خفیف سی ہنسی ہوتی۔ مگر حسیناؤں کی طرح بہت ہی شریر اور قاتلانہ۔ جیو کے پروگرام ’بزبان یوسفی‘ میں آرٹس کونسل کراچی کے آڈیٹوریم میں جو خواتین و حضرات موجود تھے۔ وہ تو خود مقتولین میں شامل تھے۔ جنہوں نے یہ نشریات سنیں وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔
یوسفی صاحب کی بیگم بہت مشفق اور شائستہ تھیں۔ ان کی موجودگی میں صاحب خاکم بہ دہن بہت شرمائے شرمائے رہتے اور مودب بھی۔ ان کی رحلت کے بعد وہ بہت اکیلے پڑگئے تھے۔ ان کی کمی شدت سے محسوس کرتے۔ اس عرصے میں ان کے ہاں حاضریاں ہوئیں۔ بہت اُداس اُداس۔ اس عالم میں بھی وہ ایسے جملے داغ دیتے تھے جو ڈرون حملوں کی طرح بالکل ٹھیک ٹھاک نشانے لگاتے۔ آخری برسوں میں بہت طویل مضامین قلم بند کررہے تھے۔ خوش قسمت ہیں بعض شاعرات۔ شاعر حضرات جن کے لئے کئی کئی گھنٹے کے مضامین لکھے بھی اور محفلوں میں پڑھے بھی۔ ہم جیسوں کی آرزو ہی رہی کہ ہمارے لئے چند سیکنڈ کا جملہ ہی لکھ دیں۔آخری مضامین شاید شام شعر یاراں کا حصہ ہیں ویسے شاعری کے معاملے میں بہت سخت گیر تھے۔ بہت کم شعراء کو تحسین کی سند سے نوازتے تھے۔
ان کے ہاں مٹتی ہوئی تہذیب کا ماتم ہے۔ زر پرستی کا نوحہ ہے۔ اقدار کی شکست کا سوگ ہے۔ اس کے اظہار کے لئے انہوں نے ایسے کردار تراشے جو ہماری دم توڑتی ثقافتی روایتوں کے لئے نوحہ خواں ہیں۔
المناک باتیں بھی اس طرح کہ ان پر آنکھ سے آنسو کی بجائے ہونٹوں سے ہنسی چھلکنے لگ جائے۔ اندوہ گہرا ہو تو ایسا انداز کہ پڑھنے سننے والا بے ساختہ قہقہہ بلند کردے۔اخبارات کے لئے کالم لکھنے سے گریز کیا۔ تجزیہ کاری کو یاوہ گوئی قرار دیتے تھے۔ معیشت کے ماہر تھے۔ اسرار و رموز سے آگاہ۔ لیکن کبھی بجٹ پر تبصرہ نہیں کیا۔ وہ جب نثر کے میدان میں اُترے اس وقت بڑے بڑے نام پہلے سے موجود تھے۔ ترقی پسند مصنّفین بھی۔ حلقۂ ارباب ذوق بھی۔ سرکار والا تبار کے منظورین نظر بھی۔ لیکن وہ اپنے اسلوب سے اپنا ایسا بلند مقام بناتے رہے کہ دوسرے انہیں حسرت سے دیکھتے رہے۔ان کی یادیں زخم ہرے کررہی ہیں۔جمیل الدین عالی یاد آرہے ہیں۔ابراہیم جلیس۔ احمد ندیم قاسمی۔ فیض احمد فیض۔مجید لاہوری۔ شوکت صدیقی۔ شوکت تھانوی۔ محشر بدایونی۔ طفیل جمالی۔ قتیل شفائی۔ مجروح سلطان پوری۔ شفیع عقیل۔ کیفی اعظمی۔ جوش ملیح آبادی۔ لطف اللہ خان۔
کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے جن کو
تم ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے
ایسی باغ و بہار ہستی کی یاد ایسے یاس انگیز شعر پر ختم نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ ایسی چند سطور پر جن کے لئے یوسفی کہتے ہیں۔’’انگریزی فکشن پچھلے تیس برسوں میں بین السطور کا گھونگھٹ اُٹھاکر بین الستور پر اُتر آئی۔‘‘
درج ذیل سطور پڑھئے۔ سر دُھنیے۔ کچھ اور کرنا پڑے وہ کریے۔
’’مول گنج میں وحیدن بائی کے کوٹھے پر ایک بزرگ جو ہل ہل کر سل پر مسالا پیستے ہوئے دیکھے گئے ان کے بارے میں یار لوگوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ تیس برس پہلے جمعہ کی نماز کے بعد وحیدن کے چال چلن کی اصلاح کی نیت سے کوٹھے پر چڑھے تھے۔ مگر اس وقت اس قتالۂ عالم کی بھری جوانی تھی۔ لہٰذا ان کا مشن بہت طول کھینچ گیا۔‘‘
کار جواں دراز ہے اب میرا انتظار کر
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker