لندن : نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی جانب سے دیا گیا لگ بھگ ہر بیان ہی پاکستان میں موضوع بحث بن جاتا ہے مگر اُن کی جانب سے ووگ میگزین کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں شادی اور پارٹنرشپ سے متعلق بات چیت نے تو جیسے سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہی برپا کر دیا۔
سوشل میڈیا پر صارفین جس بیان کے بارے میں بات کر رہے ہیں وہ ملالہ کی جانب سے شادی سے متعلق اُن کی ہچکچاہٹ کے بارے میں ہے۔
ووگ میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چاہیے تو آپ شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں کرتے ہیں، یہ ایک پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو سکتی؟‘
ملالہ کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر صارفین نے اپنی آرا کا اظہار کیا۔ بہت سے صارفین ایسے تھے جو اس گفتگو کے پس منظر اور اصل مطلب سے ناآگاہی کی بنا پر شدید تنقید کرتے نظر آئے اور یہ تنقید اتنی بڑھی کہ ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی کو بتانا پڑا کہ ان کی بیٹی کے انٹرویو کو سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا جا رہا ہے۔
کچھ صارفین نے تو اس بیان کو ’غیر اسلامی‘ تک قرار دے دیا تو دوسری جانب کچھ لوگ ملالہ کو ایک پیچیدہ موضوع پر اپنے دل کی بات کرنے پر سراہتے بھی دکھائی دیے۔ یہاں ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے شادی کے بغیر پارٹنر کے ساتھ رہنے سے متعلق قانونی نقطے بیان کیے اور بغیر کانٹریکٹ کے رشتوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے پر بھی بات کی گئی۔
اس موضوع پر صارفین معاشرے میں نکاح کی اہمیت اور اس کے باعث خواتین کو ملنے والے حقوق پر بھی بات کرتے دکھائی دیے تاہم دوسری جانب متعدد صارفین یہ وضاحت کرتے دکھائی دیے کہ ملالہ کے بیان کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں گیا۔
اس بیان کے حوالے سے ہونے والی بحث کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور کی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی پوپلزئی کی جانب سے بھی ایک ٹویٹ میں ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی سے اس بیان پر وضاحت مانگی گئی ہے۔
انھوں نے لکھا: ’کل سے سوشل میڈیا پرایک خبر زیر گردش ہے کہ آپ کی بیٹی ملالہ یوسفزئی نے رشتہ ازدواج کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کرنے سے بہتر ہے کہ پارٹنرشپ کی جائے نہ کہ نکاح۔ اس بیان سے ہم سب شدید اضطراب میں مبتلا ہیں۔ آپ وضاحت فرمائیں۔‘
جس کے جواب میں ملالہ کے والد نے لکھا کہ ’محترم مفتی پو پلزئی صاحب، ایسی کوئی بات نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے ان کے انٹرویو کے اقتباس کو سیاق و سباق سے نکال کر اور تبدیل کر کے اپنی تاویلات کے ساتھ شئیر کیا ہے۔ اور بس۔‘
ملالہ نے انٹرویو میں کیا کہا؟
تو سب سے پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ ملالہ نے اس انٹرویو میں ایسا کیا کہا تھا جو اتنا متنازع بن چکا ہے۔
یقیناً آپ بھی سوشل میڈیا پر ملالہ کی جانب سے انٹرویو میں دیا گیا ’متنازع بیان‘ تو پڑھ چکے ہوں گے لیکن شاید اس سے پہلے اور بعد میں کی گئی باتیں آپ کی نظر سے نہ گزری ہوں۔ اس لیے ہم آپ کو پہلے ملالہ کی جانب سے رومانوی رشتوں سے متعلق کی گئی باتوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ملالہ کی جانب سے ووگ میگزین کی سیرین کیل کو دیے گئے انٹرویو میں رومانوی رشتوں کے حوالے سے ابتدائی سوالات پر ملالہ شرما سی گئی تھیں اور کیل کے مطابق وہ انھیں مزید اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھیں، اس لیے انھوں نے گفتگو کا رُخ موڑ دیا۔
تاہم اس انٹرویو کے اختتام پر ملالہ نے خود سے ہی محبت اور رشتوں سے متعلق بات کرنا شروع کی۔ ملالہ نے بتایا کہ ’ان کے تمام دوستوں کو پارٹنرز مل رہے ہیں لیکن وہ اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنے رومانوی رشتوں کے بارے میں لکھتا ہے تو آپ پریشان ہو جاتے ہیں۔ آیا آپ کسی پر اعتبار بھی کر سکتے ہیں، اور یہ بات آپ کیسے یقینی بنا سکتے ہیں؟‘
ملالہ اپنے والدین کی شادی کو ارینجڈ محبت کا نام دیتی ہیں یعنی وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے لیکن اُن کے والدین کی مرضی کے مطابق یہ شادی ہوئی تاہم ملالہ خود یہ نہیں جانتیں کہ وہ کبھی شادی کریں گی بھی یا نہیں۔
’مجھے اب یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنی زندگی کا ساتھی چاہیے تو آپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کیوں کرنے ہیں یہ ایک پارٹنرشپ کیوں نہیں ہو سکتی؟‘
ملالہ نے یہ بھی بتایا کہ اُن کی والدہ اُن کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ ’تم آئندہ کبھی ایسی بات نہیں کرو گی، تم نے شادی کرنی ہے، شادی انتہائی خوبصورت رشتہ ہے۔‘
ادھر ان کے والد کو پاکستان سے لڑکے ای میل کے ذریعے ملالہ سے شادی کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔
ملالہ کہتی ہیں کہ ’یونیورسٹی کے دوسرے سال تک میں یہی سوچتی تھی کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی، بچے پیدا نہیں کروں گی، صرف کام کروں گی۔ میں خوش رہوں گی اور ہمیشہ کے لیے اپنے خاندان کے ساتھ رہوں گی لیکن مجھے یہ علم نہیں تھا کہ آپ ہر وقت ایک جیسے انسان نہیں رہتے۔ آپ میں تبدیلی آتی ہے اور آپ کی سوچ تبدیل ہوتی ہے۔‘
صحافی صباحت زکریا نے اس موضوع پر ملالہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’ملالہ ان منجمد ذہنوں کو ہلانے میں کامیاب ہوئی ہیں جو وہ سب کچھ مان لیتے ہیں جو انھیں یہ معاشرہ بتاتا ہے۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’رشتے کیسے ہونے چاہییں یہ اپنے آپ میں ایک انتہائی دلچسپ موضوع ہے اور اس حوالے سے ملالہ کی تازگی سے بھرپور رائے جان کر بہت خوشی ہوئی۔ تمام اچھی شادیاں دراصل شراکت داریاں ہی ہوتی ہیں۔‘
شہباز تاثیر نے لکھا کہ آپ ایک طرف ’فلسطین آزاد کرو‘ کا نعرہ اور دوسری جانب طالبان کے ہاتھوں زخمی ہونے والی لڑکی کو بُرا بھلا نہیں کہہ سکتے۔
انھوں نے کہا ’ملالہ کی جانب سے نوجوانی میں شادی کے رشتے پر سوال کرنا اور یہ کہنا کہ وہ اپنے خاندان کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں ایک بیٹی کی جانب سے کی گئی انتہائی خوبصورت بات ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

