ملک کے سابق صدر عارف علوی نے بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کے ’کلمہ حق‘ کی تائید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ’ پریشر کُکر کسی بھی دن پھٹ جائے گا اور اقتدار پر جھوٹا، غاصبانہ اور ظالمانہ قبضہ کرنے والوں کو جھلسا کر رکھ دے گا‘۔ یہ دونوں انتہائی دلچسپ مگر قومی منظر نامہ میں نہایت افسوسناک بیان ہیں ۔
عارف علوی نے اقتدار میں رہتے ہوئے تو اس سانحہ پر مذمت وندامت کا اظہار کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا تھا جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو موجودہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 9 مئی 2023 کو رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں انتہائی محتاط بات بھی کیا جائے تو یہ ملکی فوج کو آپس میں لڑانے کی کوشش تھی تاکہ ایک خاص پارٹی اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرسکے۔ البتہ عمران خان نے کسی ’خفیہ‘ سیاسی حکمت عملی کے تحت اس واقعہ کے بعد ملے جلے بیانات دیے۔ آدھی تحریک انصاف مذمتی بیانات دیتے ہوئے پارٹی چھوڑ گئی لیکن چوہدری فواد جیسے موقع شناسوں نے جب دیکھا کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت برقرار ہے تو انہوں نے ’مذمتی‘ رویہ سے پسپائی اختیار کرنے کی کوشش ضرور کی لیکن ابھی تک اس میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔
ایوان صدر کی برکات سے فیض یاب ہوتے ہوئے عارف علوی کو سانحہ 9 مئی کی مذمت میں کوئی مشکل نہیں تھی کیوں کہ ان کا ہدف بالکل واضح تھا کہ صدر کے طور پر ملنے والا پروٹوکول جتنی دیر تک میسر آسکتا ہے، اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔ ان کی خوش قسمتی کہ الیکشن کمیشن کی بدانتظامی اور سیاسی ماحول میں بے یقینی کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر ہوئی اور عارف علوی کی صدارتی تمکنت بھی طولانی ہوتی گئی لیکن ’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘ کے مصداق بالآخر انہیں یہ مسند آصف زرداری کے لیے خالی کرنا پڑی۔
صدارتی ذمہ داریاں پوری کرنے سے جو’ شدید تھکاوٹ‘ ہوئی تھی، چند ماہ تک اسے اتارنے کے بعد عارف علوی ایک بار پھر ’انقلاب‘ برپا کرنے کے لیے میدان عمل میں کودے ہیں اور موجودہ سیاسی انتظام کو ’پریشر ککر‘ قراردیا ہے۔ اس سے وہ یہی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ملک میں ایک غیر مقبول حکومت ہے جسے تحریک انصاف کے ’حساب کتاب‘ سے انتخابی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے یہ مفاد پرستوں کا ٹولہ کہلایا جو بقول عارف علوی کے ’انقلاب‘ برپا ہونے یا پریشر ککر پھٹنے پر ملک سے بھاگ جائے گا اور عوام کی ’چہیتی‘ تحریک انصاف اقتدار سنبھالنے کے بعد دنیا بھر میں ان سب کا ویسے ہی پیچھا کرے گی جیسی تگ و د پارٹی کے سابق ہوجانے والے جنرل سیکرٹری اسد عمر ملک سے لوٹے گئے 200 ارب ڈالر وطن واپس لانے کے لیے کرنے کے دعوے دار تھے تاکہ آئی ایم ایف کا منہ بند کرکے عوام کی تقدیر بدل دیتے۔
سیاسی مقاصد سے کسی حکومت کو ’غاصب یا غیر نمائیندہ‘ قرار دینا کوئی عجب نہیں ہے۔ لیکن عارف علوی کی بات کا اعتبار اسی وقت کیا جاسکتا تھا جب وہ یہ بھی تسلیم کرتے کہ ان کے ’قائد انقلاب‘ عمران خان کو بھی اپنے پورے دور حکومت میں نامزد ہی کی پھبتی سننا پڑی تھی۔ اس وقت تحریک انصاف جن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پینگیں بڑھانے کی تگ و دو کررہی ہے، ان ہی کی صدارت میں پاکستان جمہوری موومنٹ (پی ڈی ایم) عمران خان کو اقتدار تک پہنچانے والے انتخابات کو جعلی، دھاندلی زدہ اور ناقابل قبول قرار دیتی رہی تھی۔ انہیں مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کی حکومت میں اسلام آباد تک جو آزادی مارچ کیا تھا، اس کے ذریعے وہ بھی ویسا ہی ’پریشر ککر‘ دھماکے سے اڑا دینا چاہتے تھے جس کی خواہش اس وقت عارف علوی ظاہر کررہے ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ’عوامی انقلاب‘ برپا کرنے کے لیے کوئی سیاسی لیڈر عوام پر بھروسہ نہیں کر تا بلکہ ان طاقت ور حلقوں کے تعاون کا خواست گار ہوتا ہے جو ملک میں انقلاب برپا کردینے والی ہر ’عوامی تحریک‘ کی روح رواں یا درپردہ قوت رہے ہیں۔
اب بھی صورت حال اس سے مختلف نہیں ہے لیکن اس پریشر ککر میں عمران خان کی بجائے شہباز شریف کی حکومت ’بند‘ ہے۔ عارف علوی کو تو اس حقیقت کا خوب احساس ہوگا کہ ملک میں اقتدار سنبھالنے والی یا اس کی خواہش رکھنے والی کوئی حکومت یا سیاسی پارٹی اس پریشر ککر کے تنگی دامان کی شکایت نہیں کرتی بلکہ اس میں راحت محسوس کرتی ہے ۔ یہ راستہ نہ تحریک انصاف کے لیے نیا ہے اور نہ ہی شہباز شریف کو اس طریقے سے اقتدار سنبھالنے پر کوئی شرمندگی ہے۔ تاہم خاطر جمع رکھی جائے، یہ ’پریشر ککر‘ اسی وقت پھٹے گا اور سنگھاسن پر شہباز شریف کی بجائے عارف علوی کے چہیتے براجمان ہوں گے جب ‘پیا ‘ کا جی اس صورت حال سے اوب جائے گا۔ ملک کے عوام اس انقلاب کا سبب نہیں بنیں گے جسے عارف علوی پریشر ککر کا نام دے کر تبدیلی کی بات کررہے ہیں۔ کیوں کہ عمران خان اور عارف علوی کے علاوہ ہر سیاسی لیڈر نے ہمیشہ عوام کی وارفتگی کو ایسا انعامی ٹوکن سمجھا ہے جسے مناسب وقت پر اسٹبلشنٹ سے کیش کرایا جاسکتا ہے۔ تحریک انصاف کا کرب یہی ہے کہ وہ مقبولیت کا ٹوکن تو لیے پھرتی ہے لیکن کیش کرنے والے اسے قبول نہیں کرتے۔ دریں اثنا چونکہ صبر کایارا نہیں، اس لے دشنام طرازی واحد حل ہے۔
عارف علوی پانچ سال سے زائد مدت تک ملک کے سب سے بڑے آئینی منصب پر فائز رہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آئین شکنی کرتے ہوئے قومی اسمبلی توڑنے کا حکم جاری کیا۔ یہ حکم جاری کرنے والا چیف جسٹس چونکہ بعد میں ’ گڈ ٹو سی یو‘ کے نام سے مشہور ہؤا، اور کئی معاملات میں خود تحریک انصاف کو ’غیر آئینی‘ امداد بہم پہنچانے کا سبب بنا تھا، اس لیے تحریک انصاف نے معتوب ججوں کی جو فہرست بنا رکھی ہے، اس میں اس کا نام نہیں ہے۔ لیکن سابق صدر کی حیثیت میں یا ملک سے محبت کے دعویدار ہونے کے ناتے عارف علوی نے آج تک ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم پر سر تسلیم خم نہیں کیا اور پاکستانی عوام سے اپنی آئین شکنی کی معافی نہیں مانگی۔ تاہم اب وہ ملک سے حقیقی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے مخالف سیاست دانوں کو لٹیرے اور بھگوڑے قرار دینے پر مصر ہیں۔
اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ الزامات کی یہ فہرست ملک کے مشہور سرمایہ دار ملک ریاض کے ایکس پر ایک ’باغیانہ‘ بیان کی تائید کرتے ہوئے جاری کی گئی ہے۔ ملک ریاض کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کبھی سیاسی دباؤ قبول نہیں کیا اور اب بھی وہ سر کٹا دیں گے لیکن سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ کون ان کے سر پر تلوار لیے کھڑا ہے لیکن ملک کی ’محبت‘ میں مزاحمت کا دعویٰ کرنے والے ملک ریاض وہی ہیں جنہوں نے فائیلوں کو پہئے لگانے کا دعویٰ کیا تھا تاکہ سرکاری دفاتر میں ان کے سارے کام کسی رکاوٹ کے بغیر ہوتے رہیں۔ اس کے علاوہ مالی بے اعتدالی کی وجہ سے ان کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے 460 ارب روپے کا جرمانہ کیا تھا۔ وہ منی لانڈرنگ سے دولت برطانیہ لے جانے کے قصور وار بھی ثابت ہوئے اور برطانوی حکومت نے ان کی املاک فروخت کرکے 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو روانہ کیے تھے۔
ملک ریاض کا ’انقلاب اور ملک سے محبت‘ بھی انہی 190 ملین پاؤنڈ کی منزل مقصود کے بارے میں تنازعہ کی وجہ سے بیدار ہوئی ہے۔ یہ رقم حکومت پاکستان کو وصول ہوئی اور اس کا اس پاکستانی سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن کو عائد ہونے والے جرمانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ عمران خان کی حکومت نے اس رقم کو سپریم کورٹ کے لگائے گئے جرمانے میں ’ایڈجسٹ‘ کرنے کی اجازت دے دی۔ اس رعایت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ملک ریاض نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے برین چائیلڈ القادر ٹرسٹ کے لیے کچھ زمین اور فنڈز فراہم کردیے۔ عمران خان اور ملک ریاض کو اس میں کچھ غلط دکھائی نہیں دیتا کیوں کہ یہ دونوں تکنیکی اور قانونی لحاظ سے دو علیحدہ معاملات ہیں ۔ البتہ نیب سمیت کچھ لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ اسی طرح برطانیہ میں ملک ریاض سے وصول کی ہوئی رقم کی پاکستان واپسی اور سپریم کورٹ سے عائد ہونے والا جرمانہ بھی تکنیکی و قانونی لحاظ سے دو الگ معاملے تھے۔ انہیں خلط ملط کرنے میں بھی کچھ اسرار تھا جیسا اسرار ا اسی دوران میں القادر ٹرسٹ کے لیے ملک ریاض کی سخاوت سے ظاہر ہورہا ہے۔ عدالتیں اس کا فیصلہ کریں گی لیکن ملک ریاض کو اس موقع پر سیاسی دباؤ محسوس ہونے لگا ہے اور انہوں نے ایکس پر ’علم بغاوت‘ بلند کیا ہے۔ عارف علوی نے ترنت اس کی تائید میں بیان جاری کرکے بظاہر ان سب ’علیحدہ علیحدہ‘ معاملات میں تعلق کا بالواسطہ اعتراف کیا ہے۔
مالی معاملات کا شواہد و دستاویزات کے ساتھ عدالت میں جواب دینے کی بجائے جب باغیانہ بیانات کے ذریعے انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے تو دال میں کچھ کالا ہونے کا شبہ قوی ہونے لگتا ہے۔
ملک ریاض نے دعویٰ کیا ہے کہ ’جدید ترین پروجیکٹس متعارف کروانے پر مجھے اور میرے کاروبار کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا۔ 1996 سے آج تک ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں‘۔ قوم کو ’خوشحالی‘ کی طرف گامزن کرنے کے جن جدیدمنصوبوں کا حوالہ ملک صاحب دے رہے ہیں، ان تعمیراتی منصوبوں نے درحقیقت ملکی معیشت کو جامد کیا اور سرمایے کی نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ ملک میں صنعتوں اور پیداواری منصوبوں کی بجائے ہاؤسنگ سوسائیٹیاں بنا کر راتوں رات امیر ہوجانے کا طریقہ عام ہوگیا۔ پاک فوج کے زیر اہتمام چلنےوالے رہائشی منصوبوں کے علاوہ ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن منصوبے ملکی معیشت کے لئے زہر ہلاہل ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان بلاوجہ دوست ممالک اور آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ باندھے دکھائی نہیں دیتا۔
ملک ریاض کاروباری آدمی ہیں۔ انہوں نے ملک و قوم پر کوئی احسان نہیں کیا ۔ بلکہ انہوں نے جو کاروبار کیا ملک کے غریب عوام نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان کا عام آدمی دو مرلے کا مکان بنانے کی استطاعت بھی نہیں رکھتا ۔ قومی دولت کا بیشتر حصہ جائز و ناجائز طریقے سے پراپرٹی میں دفن کیا گیا ہے جسے وہاں سے نکالنے کا کوئی آسان حل بھی موجود نہیں ہے۔ ملک ریاض جیسے لوگوں نے اپنے اثر و رسوخ اور طاقت کے بل بوتے پر خود کو ’مقدس گائے‘ بنا یا ہؤا ہے ۔ اب اس کی کچھ آنچ اپنی ذات تک پہنچی ہے تو ملک ریاض کا انقلاب بے چین ہواٹھا ہے۔ عارف علوی کی تائید سے اس ’انقلاب یا بغاوت‘ کی حقیقت جانی جاسکتی ہے۔
ُ(بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

