مجھے آم کی پہچان صرف کھانے کی حدتک تھی جب بچپن میں میرے والدسید محمدقسور گردیزی گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہمارے گاﺅں چاہ حاجی والاموضع امیر پور کبیروالا ضلع خانیوال ہمارا اورہمارے چند کلاس فیلوزاورگاﺅںکے لوگوں میں مینگو مقابلہ کرواتے تھے ۔ٹھنڈے پانی سے بھرے ہوئے گھڑے ہرنوجوان کوفراہم کئے جاتے تھے جس میں آم ہوتے تھے اورمقابلہ آم کھانے کا چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے فیملی ممبران کے سامنے شروع ہوتاتھا۔اس زمانے میں بچوں کو جیتنے کے لیے بے ایمانی کی عادت نہیں تھی ۔آموں کومکمل چوسناپڑتاتھااوراپنے سامنے رکھنا پڑتاتھا ۔زیادہ آم کھانے والے بچے کو 10روپے دوسرے نمبر والے کو5روپے اورتیسرے کوایک روپے کاسکہ دیاجاتاتھا۔یادرہے کہ 1960-64ءمیں ایک روپیہ آج کے ہزارروپے کے برابر تھا۔آموں کے جھرمٹ میں پکنک مناتے تھے بلکہ مجھے یاد پڑتاہے کہ ایک بار والد صاحب نے کہاکہ زاہد اگر تم لاسال ہائی سکول میں پانچویں جماعت کے سالانہ امتحان میں اپنی کلاس میں اول آئے توتمھیںایک گٹو آم انعام دیں گے تاکہ سکول میں مینگوپارٹی کرو۔ اس پر میرے ایک عزیز جاگیر دار کے بیٹے نے تمسخرانہ انداز میں کہاکہ میرے والدنے مجھے فیل ہونے پربھی کوئیکلی سائیکل لے کر دیاہے اورتم صرف آم چوسو گے ۔
بہر حال مجھے خوشی ہے کہ سولویں (16)جماعت تک طبیعات (فزکس )میں ماسٹر ز پاس کیا لیکن اعلیٰ تعلیم کے لیے والد کی اپوزیشن سیاست اورقید وبند کی پابندیوں کی وجہ سے کہیں نہ جاسکا۔
پھر والد صاحب کی خواہش پران کے باغات کی دیکھ بھال شروع کردی۔پاکستان کی شناخت اوربادشاہ پھل آم سرائیکی زبان کی طرح میٹھا ہے ۔اوریہ خوبیاں اسے پنجند کی سیرابی اورملتان کی گرمی سے نصیب ہوئیں۔
پاکستانی آم بھی اب سرائیکی خطے کے لوگوں کے لیے نہ صرف معاشی بحالی کاذریعہ ہے بلکہ پوری دنیا میں شناخت پاچکاہے ۔آم لگانا ایک نومولود بچے کی پرورش کرنے کے برابر ہے ۔
پاکستان کے بٹوارے کے بعد آم بکھرے ہوئے حصوں (Scatterd Patche)میں پاکستان میں پایا گیا لاہور میں شالیمار باغ اوراس سے ملحقہ علاقہ جوباغبانپورہ کہلاتاہے وہاں آم کے وسیع وعریض باغات تھے ۔پھر اکادکا باغات پتوکی اورمیاں چنوں میں تھے ۔لیکن بے شمار باغات کی وجہ سے ملتان ،مظفرگڑھ ،شجاعباد کے علاقے آموں کاگڑھ بنے ۔آم ابتدائی طورپر شوقیہ اورنوابوں کی دلجوئی سے کاشت ہوتے تھے ۔درانی خاندان ،خاکوانی نواب اوربوسن روڈ پر ،بوسن خاندان اورگردیزی فیملیز کے باغات تھے ۔درحقیقت تحصیل کبیروالا پاکستان کے باغات کاکیلیفورنیا ہے جہاں آج بھی گردیزی خاندان کے آموں کے باغات کانمایاں رقبہ ہے ۔آم کی کمرشل کاشت میں جہاں بڑے بڑے خاندانوں نے اپنے ناموں کواورمن پسند ورائٹیز کوفروغ دیا لیکن ملک فیض بخش رجوانہ نے ”فیض عام “نرسری سے آموں کے باغات کوفیضیاب کیا اورمیں وثوق سے کہہ سکتا ہوں ۔ملتان ڈویژن میں الیچی اورآم فیض عام نرسری کے مرہون منت ہیں ابتدا میں آموں کے باغات ہندوستان ،چین ،برما ،جوانڈو ،چائنہ کاعلاقہ کہلاتاتھامیں کاشت ہوئے لیکن دھیرے دھیرے یہ دنیا کے 100ممالک میں پیدا ہونے لگا۔اب بھی ہندوستان آموں کی پیداوار میں سرفہرست ہے جس کے بعد چائنہ ،انڈونیشیا،پاکستان ،میکسیکو،برازیل اوردیگر ممالک میں لیکن آسٹریلیا،جنوبی افریقہ ،اسرائیل جن ممالک نے آم کی پیداوار 1980-90ءکی دہائی سے شروع کی آج جدید آم کی پیداوار اورکاشت میں نمایاں ہیں ۔
آم کو1990ءتک پاکستان میں معمولی فصل (Minor Crop)تصور کیاجاتاتھاجومینگو گروورز ایسوسی ایشن کی انتھک جستجو سے آج چند باغبانوں کے لیے منافع بخش کاروبار بن گیا ۔80فیصد باغبان آج بھی قدیمی طرز سے پیداوار لے رہے ہیں ۔
حکومتی سطح پرسرائیکی خطے کے اس بادشاہ پھل کی حقیقی سرپرستی بہت کم ہوئی ہے ۔البتہ مینگو گروورز کی کاوشوں سے آم کو بین الاقوامی سطح پرپذیرائی ملی ۔اب باغبانوں کے ساتھ ساتھ مینگو کی صنعت سے وابستہ انوسٹرز ،آڑھتی اورزرعی ماہرین اس سے مستفید ہورہے ہیں ۔جس کا Trickle Downعام باغبانوں کوبھی محسوس ہوتاہے ۔کچھ طبقات لاابالی پن میں اپنے باغات کو کٹواکر متبادل تجارتی ذرائع کی جانب راغب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے جائیداد کے کاروبار فروغ پارہے ہیں اورباغات کاٹ رہے ہیں ۔ان وجوہات کی بناءپر پاکستان کو شدید موسمی تبدیلی کاسامنا ہے ۔دنیا بھر میں آم کی ایک ہزار کے لگ بھگ اقسام ہیں سب سے زیادہ انڈیا میں جوآم کی دھرتی ماں Motherlandبھی ہے لیکن پاکستان میں لگ بھگ دوسوسے زیادہ اقسام موجودہیں ۔آم کی عمومی اقسام میں کچھ شناخت انور رٹول ،مالدہ ،لنگڑا،ثمر بہشت ،چونسہ ،فجری ،سندھڑی ،کالاچونسہ ،سفیدچونسہ ،گولہ رام پور صوبے والی ٹنگ ہے لیکن اب زرعی ماہرین نے ان میں سے نئی اقسام کی پہچان عظیم چونسہ اورچناب گولڈ جیسے آم دریافت کرلیے ہیں ۔یوں لگتاہے کہ زرعی ماہرین بتدریج پاکستانی آم کی نامور اقسام ثمر بہشت ،چونسہ ،رٹول ،دوسہری ،سندھڑی ،لنگڑہ وغیرہ جوپاکستانی آم کی شناخت کاسبب بنے ہیں پرکم توجہ دے کر انواع واقسام کی ورائٹیز بنانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو آم کی صنعت کے لئے موافق نہیں ہوگا۔
فیس بک کمینٹ

