کالملکھاریمنصور آفاق

پی ٹی آئی کی حکومت ؟۔۔منصور آفاق

پی ٹی آئی نے تقریباً سترہ ملین ووٹ لئے۔ ان میں سے کیاکوئی شخص اِس قابل نہیں تھا کہ کسی ادارے کاچیئرمین یا بورڈ آف گورنرز کا ممبر بنایا جا سکتا، بجلی ترسیل کرنے والی کمپنیوں کے بورڈ، کارپوریشنز کے بورڈ، سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے بورڈ، اتھارٹیز کے بورڈز، یونیورسٹیوں کے بورڈزحتیٰ کہ زکوٰۃ کمیٹیاں، مارکیٹ کمیٹیاں تک، سینکڑوں جگہیں ہیں جہاں ہزاروں لوگ حکومتوں کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں تاکہ نظام جوہڑ نہ بن جائے۔
یہی لوگ دراصل پورے ملک کے نظام کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حیران ہوں کہیں بھی پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والا شخص نہیں لگایا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جن اداروں کے سربراہ اپنا دورانیہ مکمل کرکے فارغ ہو گئے وہ بھی فارغ پڑے ہیں وہاں کسی کو نہیں لگایا گیا۔ مثال کے طور پر اردو سائنس بورڈ، بک فاؤنڈیشن، مقتدرہ قومی زبان وغیرہ،یہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے ادارے ہیں۔
اس ڈویژن کے وزیربہترسال سے زائد عمر کے ہیں۔ نواز شریف کے کلاس فیلو تھے مگر ابھی تک عمران خان کے اردگرد جوانوں کی طرح گھومتے ہیں۔ شاید ابھی اس سے بہتر کسی منسٹری کی توقع رکھتے ہیں۔انہوں نے پی این سی اے اور لوک ورثہ کے سربراہ کے طور پر دو خواتین لگائی ہیں۔ پرویز رشید جب وزیر ہوتے تھے تو ان کے حلقے میں بھی یہ خواتین کافی مقبول تھیں۔ سنا ہے اُن کے بھائی کو ایک یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا رہے ہیں۔ اُن کے کزن یاد آ گئے جو آج کل بلوچستان کے ٹاپ بیوروکریٹ ہیں۔انہوں نےاپنی اعلیٰ کارکردگی پر خود کو 33لاکھ روپے انعام میں دے دیے۔
یاد رہے کہ موصوف جب ہوم سیکرٹری پنجاب تھے تو انہوں نے جیلوں کے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نواز شریف کو سہولت دی تھی۔اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنے دو اہلکاروں کو معطل کردیا تھا مگر حکومت نے ’’مثالی کارکردگی‘‘ پر ہوم سیکرٹری کو ایک دوسرے صوبے میں چیف سیکرٹری لگا دیا۔پختون خوا کےچیف سیکرٹری بھی ایک پارٹی سربراہ کے کزن ہیں۔یاد آ یا کہ پختون خوا اسمبلی میں تین ایم پی ایز باپ پارٹی کے بھی ہیں۔
بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کی لوکل پارٹی ہے۔ پختون خوا کے تین ایم پی ایز اس پارٹی میں شامل کیوں ہوئے، یا کیوں کرائے گئے، اُس کے منشور میں تو خیبر پختون خواکا نام بھی شامل نہیں۔
بات ہورہی تھی کہ پی ٹی آئی کے ووٹرز سپورٹرز میں کوئی قابل نہیں۔کوئی وکیل نہیں جو کہیں اٹارنی جنرل یا ڈپٹی اٹارنی جنرل لگ سکے۔ اس وقت کےاٹارنی جنرل پیپلز پارٹی کے معروف رہنما این ڈی خان کے فرزند ہیں۔ نجیب الطرفین جیالے ہیں۔پی ٹی آئی کے پاس کوئی ایسا ایڈوکیٹ بھی نہیں تھا جسے پی ٹی آئی لائرز ونگ کا سربراہ لگایا جا سکتا۔ اس لئے علی ظفر کو لگانا پڑا۔پی ٹی آئی نے اپنے کسی وکیل کو جج نہیں بنوایا حالانکہ سپریم اورہائی کورٹ کے زیادہ تر ججز ماضی میں کسی نہ کسی پارٹی سےضرور منسلک رہے ہیں۔پی ٹی آئی وکلا کی بھی کوئی ٹیم موجود نہیں۔
کیا پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اس خوف میں مبتلا ہےکہ اگر سچ مچ پی ٹی آئی کےورکرز کو اقتدار میں شریک کرلیا گیا تو شاید موجودہ لیڈر شپ ہی فارغ ہو جائے۔
بیچارےاسپیکر قومی اسمبلی بھی کسی انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔ ان کے ہاں اپوزیشن سے کورونا تک خوف کی کئی اقسام موجود ہیں۔ بہر حال بزرگوں کا ایک انبوہ عمرا ن خان کے اردوگرد جمع ہے، نوجوانوں کو قریب نہیں پھٹکنے دیا جارہا۔ پی ٹی آئی اب شاید بزرگوں کی جماعت بن جائے۔ پی ٹی آئی کے اٹھارہ ایم این ایز کا خیال ہے کہ عمران خان کو یرغمال بنا لیا گیاہے۔
بجٹ پاس کرانے کےلئے نوجوان ایم این اے امجد علی خان نے انہیں منانے میں اہم رول ادا کیا۔نوجوان ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی کارکردگی بھی بہت شاندار ہے مگرحکومت بزرگ وزیروں کا ایک واٹس ایپ گروپ چلا رہا ہے۔ ان سے عرض ہے کہ دانش صرف سفید بالوں میں اپنے گھروندے نہیں بناتی۔
اوورسیز پاکستانیوں کی بھی آنکھیں پتھرا گئی ہیں۔ وہ ہر صبح اسی امید پر جاگتے ہیں کہ آج کچھ ہوگا اور پھرسوجاتے ہیں۔ ہر پارٹی جب اقتدار میں آتی ہےتو مختلف ممالک میں اپنے سفیر لگاتی ہے۔حمید اصغرقدوائی، حسین حقانی، واجد شمس الحسن اور ملیحہ لودھی کو اپنی اپنی پارٹیوں نے سفیر لگایا۔حسین حقانی کو تووفاقی سیکرٹری بھی لگایا گیا تھا۔معروف کالم نگار عرفان صدیقی کووفاقی مشیر لگایا گیا۔
نون لیگ نے عطاالحق قاسمی کو پہلے ناروے کا سفیر مقرر کیا، پھر تھائی لینڈ کااور پھر پی ٹی وی کا چیئرمین بنا دیا مگر پی ٹی آئی ؟۔’’تبدیلی آئی رے ‘‘خواب ہو چکی ہے۔ تبدیلی تو کجا کہیں کوئی حرکت بھی نہیں ہے۔جس طرف آنکھ اٹھائیں پتھرایا ہوا ایک سکوت ِ مضمحل ہے۔ خاص طور پر کئی وفاقی وزیر وں کی کارکردگی تو بالکل صفر ہے ان سے کہیں بہترپنجاب کے وزیر اعلیٰ کی کارکردگی ہے مگر اس کے خلاف صبح شام سازشیں تیار کی جاتی ہیں۔
جب سے وہ وزیر اعلی بنائے گئے ہیں روز یہی خبر آتی ہے۔ ابھی تبدیل ہوئے۔ بس ابھی گئے۔ فلاں آرہا ہے۔ فلاں سے عمران خان نے ملاقات کی ہے۔ زورآوروں نے یہ کہہ دیا تھا۔ وہ کہہ دیا ہے۔ جیسے پاکستان پر حکومت عمران خان کی نہیں زورآوروں کی ہو۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker