کالملکھاریمنصور آفاق

قومی حکومت۔ ناقابلِ قبول۔۔منصور آفاق

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا معاشی تباہی کی طرف رواں دواں ہے۔ پاکستان بھی معاشی بدحالی کے ایک خوفناک دور میں داخل ہونے والا ہے۔ معاشی ماہرین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اب ہم قرضے واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔
دوسری طرف عمران خان عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے دفاعی بجٹ کو بھی کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ معاملات خاصے الجھتے جا رہے ہیں۔
اپوزیشن اور موجودہ حکومت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی وجہ سے نت نئی کہانیاں تراشی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ قومی حکومت پر عوامی رائے عامہ ہموار کریں۔
قومی حکومت کا نعرہ سب سے پہلے نون لیگ کی طرف لگایا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے دو ہزار اٹھارہ میں قومی حکومت بنانے کا مشورہ دیا تھا، پھر شہباز شریف نے بھی یہی بات کی۔
اب جبکہ شہباز شریف لندن سے واپس آئے ہیں تو یہی کہا گیا کہ انہیں قومی حکومت بنانے کیلئے بلایا ہے مگر میری اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری اس پر راضی نہیں۔ ماضی میں ایک مرتبہ قومی حکومت کے حق میں بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے بھی بیان آیا تھا مگر اگلے روز انہوں نے اس کی تردید کر دی تھی۔
قومی حکومت کے حق میں گفتگو کرنے والے عجیب و غریب باتیں کر رہے ہیں۔ اسد رحمٰن نے لکھا ہے کہ اس وقت دنیا اپنی تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر ہے۔ اُمیدِ واثق ہے کہ انسانیت ماضی کی طرح اس بار بھی سرخرو ہوگی اور اپنی بقا کی جنگ ایک با پھر جیت جائے گی، ممالک انفرادی مسائل سے یہ جنگ جیتنے کے بعد سامنے آئیں گے۔
طاقت کا توازن یقینی طور پر تبدیل ہوگا ممکنہ معاشی مسائل سے نپٹنا کورونا کے بعد کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا، پاکستان جہاں معاشی اور سیاسی عدم استحکام ہے۔
میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ پوری قوم یکسو ہوکر صرف اور صرف کورونا اور اس کے بعد حالات کو زیر بحث لائے۔ حالات کی نزاکت اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام تر مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے گمبھیر مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے قومی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے۔
ٹیکنو کریٹس جو مسائل سے نپٹنے کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں، کو اس نازک مرحلے پر امورِ مملکت کے لئے اپنی خدمات پیش کرنا چاہئیں۔
ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ ایسی کوئی کوشش ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کے مترادف ہوگی۔ عوام نے پی ٹی آئی کی حکومت کو منتخب کیا ہے۔ اب موجودہ حکومت کو کمزور کرنے کی مسلسل سازشیں شروع ہیں یعنی عوام کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔
جمہوریت کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔ میں یہ بات پورے یقین سے کر رہا ہوں کہ عمران خان ماضی کے حکمرانوں جیسے نہیں کہ اتنی آسانی سے بلیک میل ہو جائیں گے۔ جمہوریت دشمن قوتوں کے خلاف جس انداز میں سینہ سپر ہوں گے ایسا اس سے پہلے کوئی نہیں ہوا ہوگا۔
وہ کسی بھی صورت کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کو حکومت میں شامل نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی ٹیکنو کریٹس کی مدد سے چلائی جانے والی کوئی قومی حکومت بننے دیں گے، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ قومی حکومت کٹھ پتلی ہو گی۔
قومی حکومت کا قیام آئینی طور پر تو ہو ہی نہیں سکتا۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ایک اور مارشل لا ہوگا اور یہ ملک مارشل لاؤں کے آسیب میں تباہ ہوا ہے۔ اللہ نہ کرے کہ یہاں پھر کوئی غیر آئینی قدم اٹھایا جائے۔ اس مرتبہ غیرآئینی اقدام بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ میرے خیال میں عمران خان کی زندگی میں ایسا ممکن نہیں۔
پیپلز پارٹی کسی صورت میں بھی غیرجمہوری قوتوں کا ساتھ نہیں دے گی۔ مریم نواز اور پرویز رشید جیسے لوگ بھی اس معاملے میں عمران خان کے ساتھ ہوں گے یعنی نون لیگ بھی تقسیم ہو جائے گی۔
عدلیہ اور وکلا بھی آئین کی سربلندی کے لئے اس کے خلاف سینہ سپر ہوں گے۔ پاکستان میں ’’قومی حکومت‘‘ جیسے غیر آئینی کام کی کوئی گنجائش نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ماضی قریب میں دونوں ایوانوں سے پاس ہونے والا آرمی ایکٹ جمہوریت اور جمہوری روایات کی فتح تھی۔ میں اسے روشنی کی ایک کرن سمجھا تھا، جس نے ہمیشہ کیلئے مارشل لاؤں کا راستہ روک لیا ہے۔ اس ایکٹ کے ذریعے اُس ابہام کو دور کر دیا گیا جو آرمی ایکٹ 1952ءاور پھر 1973ءکے دساتیر پاکستان میں پایا جاتا تھا۔
ماضی کی دونوں دستاویز میں آرمی چیف کی تقرری، اس میں توسیع یا از سر نو تعیناتی کے حوالے سے کوئی بات نہیں۔ اسی سبب ملک پر ایک نہیں دو نہیں تین مرتبہ غیر جمہوری قوتوں کو قبضہ کرنے کا موقع ملا۔ خیال یہی تھا کہ آرمی ایکٹ کی پارلیمان سے منظوری کے بعد کم از کم یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا مگر قومی حکومت کے نعرے اس ترمیم کی روح کے خلاف لگتے ہیں۔
میں ان جمہوری قوتوں پر حیران ہوں جو ذرا سے اقتدار کی خاطر جمہوریت دشمنی پر اتر آئی ہیں۔ میں مولانا فضل الرحمٰن سے تو اس کی توقع کر سکتا ہوں مگر شہباز شریف اور اسفند یار ولی خان جیسے لوگوں سے یہ امید قطعاً نہیں رکھتا کہ وہ کسی غیرآئینی عمل کا حصہ بنیں گے۔
اطلاعات کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی اور خواجہ سعد رفیق میں ہونے والی طویل ملاقات میں قومی حکومت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا بلکہ حقیقت میں اس میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا بھی یہی تھا مگر دونوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ یہ کسی سیاسی تناظر میں کی جانے والی میٹنگ نہیں تھی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker