حامد میرکالملکھاری

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا۔۔حامد میر

زیادہ پرانی بات نہیں، فروری کا دوسرا ہفتہ تھا۔ کورونا وائرس کا ذکر شروع ہو چکا تھا لیکن اس وائرس کا خوف ابھی پھیلا نہیں تھا۔ ایک صبح روزنامہ جنگ میں محمد سعید اظہر کے کالم کے عنوان نے مجھے چونکا دیا۔
عنوان تھا ’’کیا کیا نہ دیکھا‘‘۔ یہ دراصل منیر احمد منیر کی کتاب کا نام ہے اور میں یہ کتاب کئی دن سے آہستہ آہستہ پڑھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جب کتاب مکمل ہو جائے گی تو ایک کالم ضرور لکھوں گا کیونکہ اس کتاب میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کچھ اہم واقعات محفوظ ہیں جو نئی نسل اور خاص طور پر نئے اہلِ سیاست و صحافت کیلئے جاننا بہت ضروری ہیں۔
یہ کتاب دراصل سندھ اور پنجاب کے سابق آئی جی حاجی حبیب الرحمٰن کیساتھ منیر احمد منیر کے طویل انٹرویو پر مبنی ہے۔ ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب کے بارے میں محمد سعید اظہر نے اوپر تلے دو کالم کھڑکا دیے۔
ان دو کالموں میں صرف ان واقعات کا ذکر تھا جو میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل سے متعلق تھے۔ میرا خیال تھا کہ محمد سعید اظہر اس کتاب پر مزید کالم لکھیں گے۔ حاجی حبیب الرحمٰن نے اپنے طویل انٹرویو میں تفصیل سے بتایا تھا کہ جب وہ کراچی میں ایس پی ایسٹ تھے تو تھانہ فیروز آباد کی حدود میں سابق اٹارنی جنرل شریف الدین پیرزادہ کی اہلیہ کو قتل کر دیا گیا۔
مرنے کے ایک ہفتہ بعد پیرزادہ صاحب نے اپنی سالی سے شادی کر لی۔ حاجی حبیب الرحمٰن کو شک تھا کہ اس قتل میں خود پیرزادہ صاحب ملوث ہیں۔ انہوں نے تمام ثبوت اکٹھے کر لیے اور جب وہ شریف الدین پیرزادہ کو گرفتار کرنے گئے تو انہوں نے اپنا خانساماں پیش کر دیا جس نے اپنی مالکن کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔
لہٰذا خانساماں گرفتار ہو گیا لیکن جب اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ اپنے اعترافی بیان سے یہ کہہ کر منحرف ہوگیا کہ اس پر تشدد کیا گیا تھا۔ حاجی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ جب 1972میں شیخ مجیب الرحمٰن کو رہا کیا گیا تو رہائی سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ صاحب سے ایک ٹائپ شدہ کاغذ پر دستخط کرائے جس میں لکھا تھا کہ ہم دونوں مل کر نفرتیں کم کرنے کی کوشش کریں گے اور ایک دوسرے کو معاف کر دیں گے۔
اسی لیے بعد میں شیخ مجیب الرحمٰن 1974کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور بھی آئے۔ جب شیخ مجیب کو ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا تو حاجی حبیب الرحمٰن انٹیلی جنس بیورو میں تھے، وہ شیخ مجیب کی دستخط شدہ دستاویز ڈھونڈتے رہے لیکن وہ بھٹو نے کہیں چھپا دی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ محمد سعید اظہر ان سب واقعات کا تجزیہ ضروری کریں گے۔
محمد سعید اظہر کو صحافتی حلقوں میں ’’مولوی‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا لیکن بھٹو نے پھانسی کے پھندے کو چوم کر اس ’’مولوی‘‘ کو اپنا دیوانہ بنا لیا تھا اور مولوی سعید اظہر بھی دیوانہ وار ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کیا کرتے تھے۔
اگر مسعود محمود وعدہ معاف گواہ نہ بنتا تو بھٹو کو پھانسی پر لٹکانا مشکل ہو جاتا۔ مسعود محمود کو بھٹو نے فیڈرل سیکورٹی فورس کا سربراہ بنایا تھا اور مسعود محمود نے بڑی کوشش سے حاجی حبیب الرحمٰن کو انٹیلی جنس بیورو سے ایف ایس ایف میں ٹرانسفر کرایا۔ ایک دن مسعود محمود نے حاجی صاحب پر شاؤٹ کیا تو انہوں نے اپنے باس کو تھپڑ مار دیا۔
حاجی صاحب نے اپنے انٹرویو میں مسعود محمود کے بارے میں جو انکشافات کیے وہ میں نے پہلے کہیں پڑھے نہ سنے تھے اور مجھے یقین تھا کہ محمد سعید اظہر اس معاملے پر کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں گے۔ کافی دن انہوں نے کچھ نہ لکھا تو میں نے انہیں فون کرنے کا سوچا۔
موبائل فون میں نمبر تلاش کیا تو ان کے نمبر سے 23دسمبر 2019کو ایک پیغام آیا ہوا تھا جو میں پڑھ نہ سکا تھا۔ ان کی بیٹی بریرہ نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ میرے بابا سعید اظہر کو کینسر ہو گیا ہے ان کی کیمو تھراپی ہو رہی ہے، علاج بہت تکلیف دہ ہے اس لیے ان کے لئے دعا کریں۔ کچھ دوستوں کو فون کرکے ان کی طبیعت سے متعلق پوچھا تو پتا چلا کہ تکلیف دہ علاج کے باوجود ہنس کھیل رہے ہیں۔
18مارچ کو اخبار میں ان کا کالم دیکھا تو کچھ اطمینان ہو گیا۔ مجھے ان کے ساتھ وہ آخری ملاقات یاد آئی جو یاسر پیرزادہ کے گھر لاہور میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں عطاء الحق قاسمی، سہیل وڑائچ، وجاہت مسعود اور کچھ دیگر احباب نے خوب گپیں لگائیں۔
خوب کھایا پیا اور قہقہے بھی لگائے۔ اس دن سعید اظہر مجھے نواز شریف کے بارے میں بڑے فکر مند دکھائی دیے۔ ارادہ تھا کہ لاہور کا چکر لگا تو سعید اظہر صاحب کو ضرور ملنا ہے اور ان سے پوچھنا ہے کہ آپ نے ’’کیا کیا نہ دیکھا‘‘ پر کچھ مزید لکھنا ہے یا نہیں؟
میں ان سے پوچھے بغیر کچھ لکھ دیتا تو وہ بہت خوش ہوتے لیکن منیر احمد منیر نے حاجی حبیب الرحمٰن کی زبانی جن سیاسی رازوں سے پردہ ہٹایا اور جن واقعات کی تفصیل بیان کی ان میں سے کئی واقعات کے سعید اظہر خود ایک صحافی کے طور پر چشم دید گواہ تھے لہٰذا میری خواہش تھی کہ وہ ہی اس کتاب پر کچھ مزید لکھیں۔
کورونا وائرس کے باعث بندشوں نے نقل و حرکت محدود کر دی تھی اور کم از کم دو مرتبہ ارادہ کرکے بھی لاہور نہ جا سکا۔ 9اپریل کو خبر ملی کہ سعید اظہر یہ دنیا چھوڑ گئے۔ میں تو بڑے شوق سے سعید اظہر صاحب کے اگلے کالم کا انتظار کر رہا تھا لیکن ان کی وفات کی خبر نے ثاقب لکھنوی کا یہ شعر یاد دلا دیا:
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
اتوار کی صبح ’’مولوی‘‘ سعید اظہر کے بارے میں جناب مجیب الرحمٰن شامی کا ’’جلسہ عام‘‘ پڑھ رہا تھا کہ ایک اور سینئر صحافی احفاظ الرحمٰن صاحب کی وفات کی خبر نے رنجیدہ کر دیا۔
احفاظ الرحمٰن بھی ہمارے ’’مولوی‘‘ صاحب کی طرح کینسر کا شکار ہوئے۔ کچھ دن قبل میر جاوید رحمٰن کو بھی کینسر نے اپنا شکار بنایا۔ امیر مینائی نے کہا تھا ’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘۔ احفاظ الرحمٰن صاحب کی کتاب ’’سب سے بڑی جنگ‘‘ کا میں اپنے کالم میں ایک دفعہ ذکر کر چکا ہوں۔
اس کتاب میں انہوں نے آزادیٔ صحافت کے لیے جیلوں میں جانے والے صحافیوں کی تاریخ محفوظ کی تاکہ نوجوانوں کو پتا چلے کہ آزادیٔ صحافت کے لیے چند ایک نہیں بلکہ سینکڑوں صحافیوں نے بڑی جرأت و بہادری سے جیلیں کاٹیں اور کوڑے بھی کھائے۔
احفاظ الرحمٰن خود بھی جیلوں میں گئے اور زندگی کے آخری لمحات تک آزادیٔ صحافت کی جنگ لڑتے رہے۔ آج دنیا کورونا وائرس سے جنگ میں مصروف ہے۔ پاکستان کے اہلِ صحافت کورونا وائرس سے بھی لڑ رہے ہیں اور اپنی آزادی کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ محمد سعید اظہر اور احفاظ الرحمٰن کی موت پر احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر میرے دل کو تسلی دے رہا ہے:
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker