کالملکھاریمسعود اشعر

کہانی یوں بھی بنائی جاتی ہے!۔۔آئینہ/مسعود اشعر

تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو ہونا تھا ہو گیا؟ گیا ہے سانپ نکل‘ اب لکیر پیٹا کر۔ اب تو رو کر گزارنا ہے یا ہنس کر گزارنا ہے‘ بہرحال ایسے ہی گزارنا ہے۔ اب تو جو بھگتنا ہے وہ عوام کو ہی بھگتنا ہے کہ ان کی قسمت میں یہی لکھا ہے۔ اس لیے آئیے اب کچھ کتابوں کی باتیں ہو جائیں۔ کتابوں کی باتیں یا صرف ایک ناول کی باتیں؟ نام ہے اس کا ”دوزخ نامہ‘‘۔ یہ میرزا غالب اور سعادت حسن منٹو کے درمیان مکالمہ ہے، یا یوں کہہ لیجئے کہ وہ دونوں اپنی اپنی قبروں میں لیٹے ایک دوسرے سے باتیں بھی کر رہے ہیں اور اپنی اپنی کتھا بھی سنا رہے ہیں۔ یہ کتھا پڑھنے والوں کے لئے نئی نہیں ہے۔ لیکن کہانی بیان کرنے والے نے اسے اپنے طبع زاد تخلیقی اسلوب میں جس طرح بیان کیا ہے اس نے ان دونوں کی داستانوں کو نیا بنا دیا ہے۔ دراصل یہ بنگالی زبان کا ناول ہے۔ اس کے لکھنے والے ہیں ربی سنکر بال۔ یہ ناول 2010ء میں کلکتے سے شائع ہوا۔ فوراً ہی اس کے انگریزی اور ہندی ترجمے بھی شائع ہو گئے۔ ناول نگار ربی سنکر بال بنگالی زبان کے نامور صحافی اور ادیب تھے۔ وہ 1962ء میں پیدا ہوئے اور 2017ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے پندرہ ناول لکھے۔ اور ان کے افسانوں کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ اردو زبان بالکل نہیں جانتے تھے‘ لیکن انہیں مسلم تہذیب سے ایسا لگاؤتھا کہ انہوں نے مولانا جلال الدین رومی پر بھی ایک ناول لکھا ہے۔ اس ناول کا بھی انگریزی میں تر جمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے بنگالی زبان میں سعادت حسن منٹو کے افسانوں کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ لیکن یہاں منٹو کے بنگالی ترجمے پر ہمیں یاد آیا کہ ان سے پہلے ہمارے اردو کے شاعر‘ ع رشید نے بنگالی زبان میں منٹو کے افسانوں کا ترجمہ کیا تھا۔ ع رشید مغربی بنگال میں پولیس کے ایک اعلیٰ عہدے دار تھے۔ بہت مزے کے آدمی تھے۔ کلکتے میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ بالکل معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے مغربی بنگال کے مسلمانوں پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی تھی۔ اس کا نام تھا The Seventh Man۔ ان کے حساب سے مغربی بنگال میں ہر ساتواں آدمی مسلمان ہے۔ گورے چٹے، بھرے بھرے جسم والے ع رشید کے بزرگ ہمارے چارسدہ سے نقل مکانی کرکے کلکتے میں آباد ہو گئے تھے۔ ان کا بھی جلد ہی انتقال ہو گیا تھا۔ معاف کیجئے غالب اور منٹو کے بارے میں ربی سنکر کے ناول کا ذکر کرتے کرتے ہم ع رشید کو یاد کرنے بیٹھ گئے۔ اصل میں کلکتے میں ان کے ساتھ بہت یادگار دن گزرے تھے۔ ہمارے ساتھ تھے ہمارے ناول نگار اکرام اللہ اور جاوید شاہین (مرحوم)۔ ربی سنکر کے ناول ”دوزخ نامہ‘‘ کا اردو ترجمہ انعام ندیم نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ترجمہ یوں تو انگریزی سے کیا گیا ہے لیکن کہیں کہیں ہندی ترجمے سے بھی مدد لی گئی ہے۔ ڈاکٹر آصف فرخی کے رسالے ”دنیا زاد‘‘ میں اس ناول کے ابتدائی پانچ باب شائع کئے گئے ہیں۔ لیکن یہ پانچ باب پڑھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ناول نگار نے غالب اور منٹو کی زندگی کو کس خوبصورتی سے ایک دلچسپ داستان کی شکل دے دی ہے۔ ہم نے بنگالی زبان میں تو یہ ناول نہیں پڑھا (اور پڑھ بھی نہیں سکتے تھے) لیکن اردو ترجمہ پڑھ کر احساس ہوا کہ بنگالی زبان کے اس ناول نگار نے اردو زبان اور اردو تہذیب کو کس طرح اس کی اصلی شکل میں بیان کیا ہے۔ یقینا اس میں اردو ترجمہ کرنے والے کی کاوش کو بھی سراہنا چاہیے۔ غالب اور منٹو کی بات چیت سے بُنا گیا یہ ناول ایک قوم‘ ایک ملک اور ایک زبان ہی کی نہیں بلکہ پچھلے دو سو برس میں بدلتی ہوئی دنیا کی ایک ایسی دلچسپ داستان ہے جسے مصنف نے کبھی ایک شاعر اور کبھی ایک افسانہ نگار کے نظریے سے بیان کیا ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ سہراب مودی نے غالب پر جو فلم بنائی تھی اس کا سکرین پلے منٹو نے لکھا تھا اور یہ فلم اس وقت نمائش کے لیے پیش کی گئی جب منٹو ہندوستان چھوڑ کر پاکستان آ گیا تھا‘ لیکن بنگالی ناول نگار اپنی کہانی کی بنیاد ایک ایسے غیر مطبوعہ ناول کے مسودے پر رکھتا ہے‘ جو منٹو نے غالب کی زندگی پر لکھا تھا۔ ظاہر ہے یہ ناول اور یہ مسودہ ناول نگار کے خلاق ذہن کی اختراع ہی ہے۔ لیکن یہ مسودہ پڑھتے ہوئے ہم ایک دوسری ہی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اب آپ بھی منٹو کے اس فرضی ناول کا تھوڑاسا مزہ چکھ لیجئے۔ اس مسودے میں منٹو کہتا ہے‘
”مجھے ہمیشہ لگا جیسے میں اور میرزا آمنے سامنے رکھے ہوئے دو آئینے ہوں۔ اور دونوں کے بیچ معدومیت، ایک خلا۔ دونوں ایک دوسرے کے خالی پن کو دیکھ رہے ہوں۔ کیا خلائیں آپس میں باتیں کر سکتی ہی؟ کتنے ہی دنوں تک میرزا کے ساتھ یک طرفہ گفتگو کی۔ وہ ہمیشہ چپ رہے۔ بھلا وہ قبر سے کیسے جواب دے سکتے تھے۔ لیکن اتنے برسوں بعد اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میرزا مجھ سے بات کریں گے۔ کیوں کہ اب میں بھی اپنی قبر میں ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد میں جلد ہی سمجھ گیا تھا کہ مجھے اپنی قبر اب خود ہی کھودنا ہو گی تاکہ مٹی کے تلے گہری تاریکی میں جا کر سو سکوں۔ میرزا اب میرے ساتھ باتیں کریں گے۔ ہم مسلسل گفتگو کرتے رہیں گے۔ وہ سب جو میرزا ساری زندگی نہ کہہ پائے۔ اور وہ سب جو میں کسی کو بتا نہیں پایا۔ اب وہ ساری باتیں ہم اپنی اپنی قبر میں لیٹ کر کیا کریں گے۔ میرزا وہاں نظام الدین اولیا کے پاس سلطان جی کے قبرستان میں اور میں یہاں لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں۔ کبھی یہ ایک ہی ملک ہوا کرتا تھا۔ زمین کے اوپر سرحدوں کی کتنی ہی خاردار تاریں لگی ہوں، مگر زمین کے نیچے تو ایک ہی دنیا ہے۔ کیا کوئی مردوں کی آپس میں بات چیت پر پابندی لگا سکتا ہے؟‘‘
اب آپ غالب کی اپنی کتھا کا مزہ بھی چکھ لیجئے ”کیا آپ اتنے لا متناہی فاصلے سے میری بات سن پائیں گے منٹو بھائی؟ آپ کی ضد نے اتنے برسوں بعد مجھے پھر سے بولنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ 1857ء کے بعد میں بارہ برس تک زندہ رہا‘ لیکن میرا کسی کے ساتھ بات کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ پھر بھی بات کرنی پڑتی تھی کہ لفظوں کی تجارت ہی تو میری معیشت تھی۔ لیکن بس اتنی ہی جتنی میری روزی روٹی چلانے کے لیے ضروری تھی۔ اس کے علاوہ بات کرنا میرے لئے حرام ہو گیا تھا۔ میں بے پروائی سے دیوان خانے میں پڑا رہتا تھا‘ دونوں وقت کا کھانا کلو وہیں دے جاتا تھا۔ ذرا سا پراٹھا، کباب یا بھنا گوشت اور میری شراب۔ بس پھر میری نیند ہی نیند۔ ایک بھی غزل دماغ میں نہیں آتی تھی۔ آتی بھی کیسے۔ آپ ہی بتائیے، میں تو تب سڑ رہا تھا۔ میرے سارے جسم سے بد بو آتی تھی۔ کسی اور کو محسوس ہو نہ ہو مگر مجھے وہ سڑاند مسلسل آتی رہتی تھی۔ ایک شام جب میں اس بد بو کو مزید برداشت نہ کر پایا تو محل سرا چلا آیا۔ ویسے میں وہاں بالکل نہیں جاتا تھا۔ امرائو بیگم سارا دن وہاں اپنی نمازوں میں مشغول ہوتی تھیں۔ ان کے لیے میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر تھا۔ ذرا تصور کیجئے منٹو بھائی، دو لوگ پچاس برس سے بھی زیادہ عرصے سے ایک ساتھ رہ رہے ہوں، اور ان کے بیچ نہ کوئی بات ہو، نہ ہی کبھی وہ ایک دوسرے کو پہچان پائیں‘ اسی کا نام نکاح ہے۔ محبت کسے چاہیے؟ یہ نہ سمجھئے گا کہ میں سارا الزام امرائو بیگم کو ہی دے رہا ہوں کافر تو میں بھی تھا۔ جیسا کہ میر صاحب نے اپنے شعر میں کہا تھا کہ کس طرح اسے اپنے قریب لاؤں، مجھے نہیں پتہ۔ وہ کبھی آئی ہی نہیں، اس میں اس کی کیا خطا‘‘۔
اس ناول کا یہ مزہ ہم نے آپ کو اس لئے چکھایا ہے کہ آپ تھوڑا بہت اندازہ لگا سکیں کہ کہانی یوں بھی بنائی جا سکتی ہے۔ ہمیں جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا‘ وہ ہے ہندوستان میں اردو زبان و ادب کی سخت جانی۔ شاعری میں غالب اور نثر یا افسانہ نگاری میں سعادت حسن منٹو کے بغیر وہاں بات ہی نہیں بنتی۔ اور آخر میں غالب کا ایک شعر
اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال
آدم نہیں ہے صورت آدم بہت ہیں یاں
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker