کالملکھاریمسعود اشعر

سیماب صفت انور سجاد۔۔آئینہ/مسعود اشعر

خالد چودھری نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ”اس کا منہ تو دیکھ لو‘‘۔ مگر اس وقت تک جنازہ اٹھایا جا چکا تھا۔ میں نے شکر ادا کیا۔ میں اپنے دوست احباب کا جیتا جاگتا اور ہنستا مسکراتا چہرہ اپنے حافظے میں محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔ اور وہ تو مجسم زندگی، مجسم حرکت اور مجسم توانائی تھا۔ اس کے جسم میں تو جیسے پارہ بھرا ہوا تھا۔ کبھی نچلا نہیں بیٹھنا، کچھ نہ کچھ کرتے رہنا۔ کبھی خاموش نہیں رہنا۔ کسی نہ کسی سے سینگ پھنسائے رکھنا۔ پاک ٹی ہاؤس آیا ہے تو پہلے دروازے کے ساتھ سلیم شاہد اور کلیم اللہ کی نشست پر قہقہے بکھیرتا ہوا۔ پھر انتظار حسین کی میز پر دو دو چونچیں لڑاتا ہے۔ آخر انیس ناگی کی میز پر ٹھکانا بنا لیتا ہے۔ انیس ناگی پہلے ہی اکل کھرا۔ کسی کو بھی خاطر میں نہ لانے والا۔ اس کے ساتھ پچاس اور ساٹھ کی دہائی والا رشتہ ہے۔ وہ ہنگامہ خیز اور ہنگامہ پرور دہائی جب کلاسیکی فکر اور کلاسیکی اظہار دونوں کے سانچے توڑ پھوڑ کا شکار تھے۔ یہ سانچے کلاسیکی ترقی پسندوں کے بھی تھے، اور حسن عسکری اور سلیم احمد جیسے ان کے مقلدین کے بھی۔ یہ چند آتش نفس نوجوان باغیوں کا گروہ تھا۔ افتخار جالب اس گروہ کے سرغنہ تھے۔ انیس ناگی اور عباس اطہر جیسے شاعر اور ادیب اس قبیلے کے ممتاز رکن تھے۔ لسانی تشکیلات کا غلغلہ تھا۔ اور ”نیلی رفاقتیں‘‘ جیسی ترکیبیں سامنے آ رہی تھیں۔ یہ انگلستان میں اینگری ینگ مین اور امریکہ میں بیٹ جنریشن کا دور تھا۔ پاکستان بھلا پیچھے کیسے رہ سکتا تھا۔ وہاں انہوں نے ہنگامہ برپا کر رکھا تھا اور یہاں ہمارے ان باغیوں نے۔ یہ نوجوان لکھنے والے استعارے، علامات اور تجریدیت کا سونامی لے کر سامنے آئے۔ ان شاعروں نے شاعری میں نیا انداز، نیا اسلوب اور نئی زبان اختراع کی۔ انور سجاد نے افسانوی نثر کی کایا پلٹ دی۔ اردو میں جملوں کی ساخت کا جو کلاسیکی انداز چلا آ رہا تھا انور سجاد نے اسے بالکل ہی الٹ دیا۔ اس کے استعارے اور اس کی علامتیں بھی خالصتاً اس کی اپنی تھیں۔ اس کی اس تخلیقی اپج کو دیکھ کر ہی اردو کے ایک اور منفرد اور اپنے انداز کے تنہا شاعر صلاح الدین محمود نے ایک یورپی مصور بوش کی مشہور پینٹنگ انور سجاد کے سامنے رکھی، اور کہا کہ اس پینٹنگ کے ایک پینل کی اپنی زبان میں تشریح کر دو۔ انور سجاد نے اپنی زبان میں اس کی تشریح کی اور یہ تشریح بذات خود ایک ناول بن گئی۔ اور یہ انور سجاد کا ہی کمال ہے۔ یہ جو آج پوسٹ کلونیل سٹڈیز یا پس نوآبادیات مطالعے کا چرچا ہو رہا ہے، انور سجاد اس کا آغاز بہت پہلے کر چکا تھا۔ وہ سامراج دشمن تھا۔ آزادی سے پہلے کا سامراج اور آزادی کے بعد کا سامراج۔ وہ سامراج جو ہمارے اپنے ملکوں کا سامراج ہے۔ اس کے افسانے اسی سامراج کے خلاف احتجاج ہیں۔
اب ہم پھر پاک ٹی ہاؤس میں ہیں۔ انور سجاد انیس ناگی کے ساتھ بیٹھا ہے۔ مغرب کی اذان ہوتی ہے۔ وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ ”ہٹی تے جانا ہے‘‘۔ اور یہ ہٹی اس کے والد کا کلینک تھا۔ لاہور کے اندرون شہر چونا منڈی میں سید دلاور علی شاہ کا کلینک۔ اس کے والد برسہا برس سے یہاں انسانوں کا جسمانی اور روحانی علاج کرتے آ رہے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کلینک انور سجاد کے حصے میں آ یا تھا۔ اس ڈاکٹر انور سجاد کے حصے میں، جسے اس پیشے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے اپنے باپ کے کہنے پر زبردستی ایم بی بی ایس کیا تھا۔ اور انگلستان سے ٹراپیکل بیماریوں کا ڈپلومہ بھی لے آیا تھا۔ لیکن اس کی دلچسپیاں تو کچھ اور ہی تھیں۔ وہاں بھی وہ ڈرامہ نگاروں اور ڈرامہ پروڈیوسروں سے ملتا رہا تھا۔ لاہور میں میڈیکل پریکٹس تو وہ کیا کرتا‘ کبھی وہ آرٹس کونسل کی سیاست میں ملوث ہے‘ تو کبھی سیاسی پارٹیوں کی سیاست میں۔ اس دور کے تمام ترقی پسندوں اور سماجی باغیوں کی طرح اس کی وابستگی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ رہی۔ مگر شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو کہ ایک زمانے میں وہ علامہ طاہرالقادری سے بھی متاثر رہا۔ اب ان کی جماعت میں وہ شامل ہوا تھا یا نہیں؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ اس کا سیمابی دماغ ہی تھا۔ اسی زمانے میں وہ افسانے سے ڈرامے کی طرف آیا۔ پاکستان میں ٹیلی وژن آیا تو اس کے ساتھ ہی انور سجاد کی ڈرامہ نگاری کا آغاز بھی ہوا۔ اس نے یادگار ڈرامے لکھے۔ ڈرامے بھی لکھے اور ان میں اداکاری بھی کی۔ نئے افسانے سے ہٹ کر یہاں بھی خوب نام کمایا۔ یہ ٹی وی ڈراموں کا سنہری دور تھا۔ لیکن اس کی سیمابی طبیعت اسے کسی ایک جگہ ٹکنے نہیں دیتی تھی۔ اچانک اسے رقص سیکھنے کا شوق بھی ہو گیا۔ ناہید صدیقی کے استاد مہاراج غلام حسین کتھک کو اس نے اپنا استاد بنایا اور کتھک رقص سیکھا۔ اب رہ گئی تھی مصوری۔ بھلا انور سجاد سے وہ کیسے چھوٹ سکتی تھی۔ اس نے مصوری بھی کی۔ اس کی گلبرگ کی پرانی کوٹھی کی ایک دیوار پر جو طغرا لکھا ہوا تھا، وہ اسی کے مو قلم کا نتیجہ معلوم ہوتا تھا۔ وہ طغرا تصوف سے اس کی دلچسپی کا اظہار بھی تھا۔ اب پرانی کوٹھی پر مجھے اس پر جان چھڑکنے والی اس کی بیوی رتی یاد آئیں۔ پڑھی لکھی وفا شعار بیوی۔ وہ جرمن زبان بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے چند جرمن افسانے بھی اردو میں تر جمہ کئے ہیں۔ گلبرگ کی اس کوٹھی میں کیسی کیسی محفلیں جمیں؟ شہر کا کون ادیب اور شاعر ان محفلوں میں شریک نہیں ہوا۔ اب بھی وہ محفلیں یاد آتی ہیں تو دل سے ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ اب میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ آج جو ہوٹلوں میں ہم پیزا کھاتے ہیں، وہ پیزا اگر کسی گھر میں پکا ہوا ہم نے کھایا تو وہ انور سجاد کے اسی گھر میں کھایا۔ اور وہ بھی رتی بھابی کے ہاتھ کا پکا ہوا۔ والد کا انتقال ہوا تو گلبرگ کا وہ مکان بھی فروخت ہو گیا اور بہن بھائیوں کو ان کا حصہ مل گیا۔ اب انور سجاد نے دوسری شادی کر لی اور ڈیفنس میں نیا مکان بنایا۔ یہ مکان نئی بیوی کے نام تھا۔
پھر کیا ہوا؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جیسے ناسمجھ لوگ اپنے موروثی اثاثے خرچ کر ڈالتے ہیں، ویسے ہی انور سجاد نے اپنی تخلیقی اپج اور اپنے ذہنی صلاحیت بلا سوچے سمجھے خرچ کر ڈالی۔ میں نے یہاں بلا سوچے سمجھے لکھ دیا ہے۔ لیکن جب انسان یہ کام کر رہا ہوتا ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ سوچ سمجھ کر یہ کام کر رہا ہے۔ فکشن میں اس نے جو زبان اور جو اسلوب اختراع کیا تھا‘ اس نے اسے ایک طرح سے بند گلی میں لا کھڑا کیا تھا ۔ یہ میرا اپنا خیال ہے۔ ہو سکتا ہے ہمارے نقاد حضرات کا کچھ اور خیال ہو لیکن اس نے بیس تیس سال پہلے ہی افسانے اور ناول لکھنا چھوڑ دیئے تھے۔ اسی عرصے میں اس نے ایک اور شادی کر لی۔ رتی بھابی پاکستان سے باہر چلی گئیں۔ اسے بچے کی بہت خواہش تھی۔ نئی بیوی اپنے ساتھ ایک لڑکی تو پہلے ہی لائی تھی، ایک لڑکی انور سجاد سے بھی ہو گئی۔ بے حد خوش۔ بچی کی پہلی سالگرہ ہلٹن ہو ٹل (آج کے آواری) میں منائی گئی‘ اور پھر انسانوں کا معالج اور اردو فکشن کا بڑا نام گانوں کے کیسٹ (اس زمانے میں کیسٹ ہی ہوتے تھے سی ڈی اور ڈی وی ڈی ابھی نہیں آئے تھے) بنانے لگا۔ ظاہر ہے یہ نئی بیوی کا شوق تھا۔ نئی بیوی کے اور بھی بہت شوق تھے۔ نئی بیوی کے یہ سارے شوق پورے کرنے کے لیے اس نے ایک ٹی وی چینل میں نو کری کر لی‘ اور کراچی چلا گیا۔ ایک بار ائیرپورٹ پر ملا تو ویل چیئر پر تھا۔ پوچھا: خیر ہے؟ بتایا: کمر میں تکلیف ہے۔ کراچی میں ضیا محی الدین کے ساتھ بھی کام شروع کیا‘ لیکن بیماری نے جڑ پکڑ لی تھی۔ کراچی آرٹس کونسل میں ملاقات ہوئی تو ایک لڑکی سہارا دے کے اسے چلا رہی تھی۔ یہ لڑکی ضیا محی الدین کے ادارے کی طرف سے اس کی دیکھ بھال کے لیے دی گئی تھی۔ اب میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آ گے کیا لکھوں؟ کیا یہ لکھ دوں کی انور سجاد نے خود کشی کر لی؟ یا یہ لکھوں‘ جائے عبرت سرائے فانی ہے؟ بہرحال اردو ادب کا ایک بڑا نام ہم سے رخصت ہو گیا۔ کیسے رخصت ہوا؟ یہ نہ پو چھیے۔ آخری وقت میں پہلی بیوی رتی ہی اس کے ساتھ تھی، جسے وہ بہت پہلے چھوڑ چکا تھا۔ خیر، یہ اس کی ذاتی زندگی تھی۔ اسے سب بھول جائیں گے اور بھول جانا بھی چاہیے۔ یہ اس کا فنی سفر ہی ہے جو ہمیشہ یاد رہے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker