کالملکھاریمسعود اشعر

ہم سب مطلب پرست ہیں!۔۔آئینہ /مسعوداشعر

ایسا کیوں ہے کہ جس شخصیت کو ہم آج اچھا سمجھتے ہیں کل اسے برا سمجھنے لگتے ہیں یا اسے الٹا کر دیجئے کہ جسے کل تک ہم برا سمجھتے تھے آج اسے ہم اچھا سمجھنے لگے ہیں؟ کل ہم جس کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے، آج ہم اس کی شکل دیکھتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں؟ یا پھر جس شخص کی باتیں کل تک ہمیں بہت ناگوار گزرتی تھیں، آج اس کی باتیں ہم پوری توجہ سے سنتے ہیں، اور اس کی تائید میں سر ہلا تے ہیں؟ کیا سیاست اسی کا نام نہیں ہے؟ مگر یہ صرف سیاست میں ہی تو نہیں ہوتا۔ آپ اس میں ادب اور دوسری علمی اصناف کو بھی شامل کر لیجئے۔ ہم اپنی مرضی کی بات سننا چاہتے ہیں۔ اور جو شخص ہماری مرضی کی بات کرتا ہے ہمیں وہ اچھا لگتا ہے مگر ہماری مرضی بھی تو حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اسے نفسیات میں کیا کہا جاتا ہے؟ یہ ہمیں معلوم نہیں البتہ اتنا ہم ضرور جانتے ہیں کہ یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے اور صرف ہمارے ساتھ ہی ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آج کل ہم اسی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ہم ٹی وی سکرین پر ان لوگو ں کو دیکھتے ہیں جو کل تک ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے مگر اب وہ اچھے لگنے لگے ہیں۔ اس لئے کہ وہ ہمارے مطلب کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اس سے ہرگز یہ نہ سمجھ لیجئے کہ ہم ان سیاستدانوں کے لیے جواز پیدا کر رہے ہیں جو حالات کی تبدیلی کے ساتھ پارٹی بھی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ جیسے یہ صاحب جو کل تک کسی اور پارٹی کی حمایت میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے آج اس کے خلاف ایسے باتیں کر رہے ہیں‘ جیسے اس پارٹی سے کبھی ان کا کو ئی واسطہ ہی نہیں تھا۔ جب وہ ٹی وی پر اپنی پرانی پارٹی کے خلاف باتیں کر رہے ہوتے ہیں تو ہم غور سے ان کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ شاید کہیں شرم و حیا کی کوئی رمق نظر آ جائے۔ مگر صاحب، توبہ کیجئے۔ مجال ہے جو ان کے چہرے پر شرمندگی کا شائبہ تک دکھائی دے جائے۔ ایسا پکا منہ بنا کر اپنی پرانی پارٹی اور اس کے لیڈروں کو برا بھلا کہتے ہیں کہ ہمیں شرم آ جاتی ہے۔ اسے ہم نفسیاتی کیفیت نہیں کہہ سکتے۔ یہ سیاسی کیفیت ہے۔ اسے عام آدمی نے ایک اور ہی نام دے رکھا ہے جو ہم یہاں لکھنا نہیں چاہتے۔ اب یہاں تک لکھنے کے بعد خیال آ رہا ہے کہ انسان پتھر کا بنا ہوا تو نہیں ہے کہ اس میں تبدیلی ہی نہ آئے۔ وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔ اس کی رائے بدل بھی سکتی ہے۔ بالکل صحیح ہے۔ لیکن ایسی تبدیلی کے لیے مالی اور سیاسی منفعت بخش وقت کا انتخاب ہی کیوں کیا جاتا ہے؟ ہمارا سوال تو یہ ہے۔ مالی اور سیاسی منفعت یا پھر کسی کا اشارہ؟ ایسا اشارہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بس یہیں ہمیں غصہ آ جاتا ہے۔ اور سارے بت ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور ہاں، اوپر ہم نے اپنے پسندیدہ اور ناپسندیدہ افراد کا ذکر کیا ہے۔ ان میں بعض ایسی شخصیتیں بھی تو ہیں جو چاہے اِدھر چلی جائیں یا اُدھر۔ بائیں جائیں یا دائیں، ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ تمہیں کیوں ان شخصیتوں کے ساتھ اللہ واسطے کا بیر ہے۔ اب یہ اللہ واسطے کا بیر ہے یا نہیں؟ لیکن ہم کیا کریں، وہ ہمیں اچھی نہیں لگتیں۔ اور ہمیں ابھی ابھی یاد آیا کہ ہم نے ٹیلی وژن پر نظر آنے والی خواتین کے بارے میں ”لپی پتی‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ڈاکٹر نجیب جمال نے یاد دلایا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ناول ”کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ میں اس کے لئے ”بنی ٹھنی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔


بہرحال یہ آپ کی مرضی ہے۔ آپ کو جو بھی پسند آ جائے اسے قبول کر لیجئے۔ ہم نے تو اپنی بات کہہ دی۔
اوپر ہم نے جن تبدیل شدہ سیاست دانوں کا ذکر کیا ہے‘ ان میں ان نوزائیدہ ارکان پارلیمنٹ کو بھی شامل کر لیجئے جو تحریک انصاف کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ ٹیلی وژن سکرین پر جس دھڑلے سے یہ نوجوان باتیں کرتے ہیں وہ تو آپ دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ وہاں ان کا یہ رویہ ہوتا ہے کہ کسی اور کو بات ہی نہ کرنے دو۔ بولے جائو۔ بولے جائو۔ بولو، اور اتنا بولو کہ وقت ختم ہو جائے۔ لیکن قومی اسمبلی میں وہ کیا گل کھلا تے ہیں؟ اس کا نقشہ رئوف کلاسرا نے اپنے کالم میں کھینچا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمراں پارٹی کے یہ ارکان اپنی قومی اسمبلی اور اس کی کارروائی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ رئوف کلاسرا کے بقول، اجلاس میں خواہ کتنے ہی اہم مسئلے پر بات ہو رہی ہو‘ یہ ارکان اپنی خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے مصروف رہتے ہیں کہ ان کی باتیں اور ان کے قہقہے دور دور تک سنائی دیتے ہیں۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر صاحب کو سلیکٹڈ کے لفظ پر اتنا غصہ آ جاتا ہے کہ اسمبلی کے باہر بھی وہ اس کے استعمال پر پابندی لگانے سے گریز نہیں کرتے، وہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں ان نوزائیدہ ارکان کے ہنسی مذاق پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ اصل میں یہ نوزائیدہ ارکان بھی خوب جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کوئی اور چلا رہا ہے، اور سیاست کوئی اور۔ وہ اسمبلی کے اجلاس میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لیں نہ لیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کا اپنا لیڈر بھی پارلیمنٹ کو جتنی اہمیت دیتا ہے وہ بھی ان کے سامنے ہے۔ پارلیمانی سیاست میں قاعدہ یہ ہے کہ کوئی بھی پالیسی بیان وزیر اعظم قومی اسمبلی یا سینیٹ میں دیتا ہے۔ لیکن ہمارا وزیر اعظم یہ بیان ٹیلی وژن پر دیتا ہے حالانکہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ اب وہ اسمبلی کے اجلاس میں آتے ہیں یا نہیں آتے۔ اس بارے میں ان سے سوال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ نواز شریف صاحب بھی تو پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں کب تشریف لاتے تھے۔ وہ تو پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم ہی تھے جو پارلیمنٹ کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ وہ ہر اجلاس میں موجود ہوتے تھے۔


ایک لفظ ہمیں کافی عرصے سے پریشان کر رہا ہے۔ وہ ہے ”نوٹس‘‘۔ جب بھی کوئی ایسا ویسا واقعہ پیش آتا ہے تو خبر آتی ہے کہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ نے اس کا نو ٹس لے لیا۔ پہلے یہ لفظ اخباروں میں نظر آیا۔ اس کے بعد اب ٹی وی چینلز پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ جب بھی ہم یہ لفظ پڑھتے یا سنتے ہیں تو ہمیں ہنسی آ جاتی ہے۔ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ قومی اہمیت کے تمام معاملات پر ہر وقت نظر رکھیں۔ اچانک نوٹس لینا تو ان کا کام نہیں ہے۔ کبھی کبھی تو یہ نوٹس لینے والا معاملہ خاصا مضحکہ خیز بھی بن جاتا ہے۔ جیسے یہ خبر کہ عمران خاں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نوٹس لے لیا۔ کوئی پوچھے کہ یہ مہنگائی آج بڑھی ہے جو انہوں نے اچانک نوٹس لیا ہے؟ تماشہ یہ ہے کہ خبر کے مطابق عمران خاں نے اس کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ شکر ہے اس پر جے آئی ٹی بنانے کا حکم نہیں دیا۔ ورنہ آج کل تو ہر مسئلے پر جے آئی ٹی بنا لی جاتی ہے۔ آخر عمران خاںکس بات کی تحقیقات کرائیں گے؟ یہ کہ پٹرول کس نے مہنگا کیا؟ گیس کون مہنگی کر رہا ہے؟ بجلی کے نرخ کون بڑھا رہا ہے؟ ڈالر کیوں آسمان کو چھو رہا ہے؟ مزے کی بات یہ ہے کہ ادھر عمران خاں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا نو ٹس لیا، ادھر ہمارے وزیر اعلیٰ نے بازاروں اور منڈیوں پر چھاپے مارنا شروع کرا دیئے۔ مارے گئے غریب دکان دار۔ خاص طور سے پرچون فروش۔ وہ خود جس قیمت پر چیزیں خریدتے ہیں اس پر تھوڑا بہت منافع لگا کر وہی تو فروخت کرتے ہیں۔ جب اوپر سے ہی انہیں زیادہ قیمت پر چیزیں ملیں گی تو وہ کم قیمت پر کیسے فروخت کریں گے؟ اب رہی منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی بات، تو حکومت کی اپنی پالیسی ہی انہیں یہ موقع فراہم کر رہی ہے۔ اور بڑھاؤپٹرول، گیس اور بجلی کے نرخ۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker