ملتان ۔۔گردو پیش نیوز ۔۔ ( رضی الدین رضی سے ) ۔۔ معروف ادیب، شاعر اور صحافی سید مسعود کاظمی کو ہم سے بچھڑے آٹھ برس بیت گئے ۔ تاہم اور بہت سے قلم کاروں کی طرح دبستان ملتان کے مصنف کو بھی ملتان والوں نے فراموش کر دیا ۔ ان کی برسی کے موقع پر اس برس بھی کوئی تقریب منعقد نہ ہوسکی ۔ مسعود کاظمی 21 اپریل 2017 کی شب 67 برس کی عمر میں ملتان میں انتقال کر گئے تھے ۔ مسعود کاظمی سخن ور فورم کے سینئر رکن ملتان ٹی ہاﺅس کے اعزازی ممبر اور کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔انہوں نے ملتان میں بہت متحرک زندگی گزاری۔
وہ 12 دسمبر 1949 کو ملتان میں پیدا ہوئے اسی شہر میں تعلیم حاصل کی ۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے گورنمنٹ ایمرسن کالج میں طالب علم رہنما کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ۔ وہ 1971-72 میں ایمرسن کالج کی سٹوڈنٹ یونین کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ مسعود کاظمی نے طالب علم رہنما کی حیثیت سے ایوب دورحکومت میں آمریت کے خلاف جدوجہد کی، بنگلہ دیش نامنظور تحریک میں بھی وہ سرگرم رہے ۔ 1969سے 1974 تک انہیں متعدد مرتبہ قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔زمانہ طالب علمی میں انہوں نے بین الکلیاتی مباحثوں اور مشاعروں میں بہت سے انعامات اور اعزازات حاصل کئے ۔ 1971سے 1976 تک وہ ریڈیوپاکستان ملتان میں طلباء اور نوجوانوں کے پروگراموں میں شریک رہے ۔ بھٹو دورمیں مسعود کاظمی نے مختصر وقت کےلئے ملتان آرٹس کونسل میں خدمات سرانجام دیں۔
مسعود کاظمی نے کاٹن ریسرچ اور زراعت سے متعلق امور پرمختلف رسائل اورجرائد بھی شائع کئے ۔وہ پندرہ روزہ” آس ٹائم“ کے مدیر رہے جو 1997 کے بعد تسلسل کے ساتھ شائع ہوتارہا۔مسعود کاظمی متعدد کتابوں کے مصنف تھے پاکستان اورملتان ان کابنیادی موضوع تھا۔انہوں نے تحریک آزادی کے حوالے سے ”آزادی “کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں 1847سے 1947تک کی تحریک آزادی کا احوال اور تحریک پاکستان کے کارکنوں کے انٹرویوز شامل تھے ۔قومی المیوں پران کے مرثیوں کا مجموعہ ’’یہ کیساجشن بہار جاناں “ کے نام سے شائع ہوا۔مسعودکاظمی نے ملتان کے قلمکاروں کے تذکرے پر مشتمل ایک تحقیقی کتاب ”دبستان ملتان “بھی ترتیب دی ۔اس کتاب میں قیام پاکستان کے بعد سے 2015 تک ملتان میں رہنے والے 195 قلمکاروں کے حالات زندگی ،تصاویر اورنمونہ کلام موجود ہے۔
فیس بک کمینٹ

