کالملکھاری

مظہر عباس کا کالم:سیاسی انتہا پسندی

جب معاشرے میں ’’گفتگو‘‘ کا کلچر ختم ہوجائے، جب زبان پر قابو نہ رہے کہ کس کے سامنے کیا بات کرنی ہے، جب دلیل کا جواب چیخ کر دیا جائے تو سمجھ لیں انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے اب یہ مذہبی انتہا پسندی ہو یا سیاسی مگر جو کچھ ان چند برسوں میں دیکھنے کو ملا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا کہ سیاسی گفتگو کرتے کرتے کسی کا قتل کردیا گیا ہو۔ اس کو اب نہ روکا گیا تو شاید بہت دیر ہوجائے ۔ سچ پوچھیں تو اب ’’ٹاک شوز‘‘ میں سیاست دان بیٹھے ہوں تو تجزیہ کار کا تجزیہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے ویسے تو ہم صحافیوں پر بھی صحافت کا کم اور سیاست کا شوق زیادہ سوار ہوگیا ہے۔
اس وقت ہماری سیاست میں جو گرما گرمی ہے وہ کوئی نئی نہیں مگر زبان کچھ زیادہ ہی بے لگام ہوگئی ہے بات آپ سے تم اور اب تو تک آگئی ہے اور معذرت کے ساتھ اس میں مرد و عورت کی کوئی تمیز نہیں۔ وہ جملے جو ایک زمانے میں فلموں یا ٹی وی ڈراموں میں استعمال ہوتے تو سینسر کی قینچی چل جاتی تھی آج سرعام استعمال ہورہے ہیں اب بے چارہ پیمرا بھی کیا کرے ڈراموں کو دیکھے یا سیاسی رہنمائوں کی تقاریر دیکھے۔ پہلے دور میں یعنی ماضی میں ’’زبان پھسل‘‘ جاتی تھی۔ ایک بار لاہور کے ایک جلسے میں بھٹو کے منہ سے گالی نکل گئی مگر فوراً PTV اور ریڈیو پاکستان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’اس کو نکال دینا‘‘۔ خیر اس زمانے میں اخبارات کے علاوہ ابلاغ کے یہی دو ذرائع تھے جن کو پڑھنے اور سننے والوں کی تعداد محدود تھی اب تو کروڑوں لوگوں کے پاس موبائل فون ہیں، سو سے زائد ٹی وی چینلز اور پھر بے لگام سوشل میڈیا یعنی ’’بول کے لب آزاد ہیں تیرے‘‘ کا ایسا بے دریغ استعمال کبھی دیکھا نہ سنا مگر بدقسمتی سے جو قوانین بنائے گئے۔ اس پر عمل صرف سیاسی مخالفین کے خلاف کیا گیا کون حکومت پر تنقید کررہا ہے اور کون ریاست یا ریاستی اداروں اور عدلیہ پر۔ یقین نہ آئے تو پیمرا کے نوٹس پڑھ لیں۔ پورا کلچر ہی ’’ٹک ٹاک‘‘ ہے۔
اب اگر بات خراب زبان سے غلیظ زبان تک آگئی ہے تو آنے والی ہماری نسلیں کس زبان میں گفتگو کریں گی یہ مجھ سے بہتر وہ بزرگ خواتین و حضرات بتا سکتے ہیں اور نوجوان جو آج کل سیاسی جلسوں میں جاتے ہیں جو بظاہر ایک اچھا سیاسی عمل ہے مگر وہ سنتے کیا ہیں؟۔ یاد رکھیں قائدین کو جنون کی حد تک فالو کرنے والے پھر وہی زبان بھی استعمال کرتے ہیں جس کی عکاسی ان جماعتوں کا سوشل میڈیا ونگ کرتاہے۔ یہاں ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا کوئی تصور نہیں سو بس سمجھ لیں کہ معاشرتی انتہا پسندی میں چپ رہنما یا کم گفتگو کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ جہاں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھنے والوں کی تعداد بڑھ جائے وہاں ’’فیک نیوز‘‘ ہی اصل نیوز ہے۔ جہاں صحافت خاص طور پر ٹی وی پر یہ کہا جانے لگے کہ ’’ہم تو وہی دکھاتے ہیں جو عوام دیکھنا چاہتے ہیں‘‘ تو پھر اللہ ہی خیر کرے۔سیاست میں انتہا پسندی اور بدتہذیبی کی مثالیں دینے پر آجاؤں تو پانچ ہزار الفاظ بھی کم پڑ جائیں بہرحال اس میں پی ایچ ڈی صرف شیخ رشید صاحب ہیں۔ خواتین کے حوالے سے ویسے بھی ہمارا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ منفی رہا ہے اب نہ زبان پر قابو ہے نہ بعد میں معذرت یا معافی کا رواج باقی رہا اب تو سیاسی مذاکرات دیکھے بھی عرصہ ہوگیا ہے۔
پچھلے دو ماہ سے ملک سیاسی انتشار کا شکار ہے اور اب سابق وزیر اعظم عمران خان کے لانگ مارچ کا آغاز ہوگیا ہے۔ وہ فوری الیکشن چاہتے ہیں اور حکومتی اتحادیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کی تاریخ اور وقت کا اعلان وہ کسی دباؤ میں آکر نہیں کریں گے۔ کیا اس پر مذاکرات نہیں ہوسکتے اور کوئی درمیانہ رستہ نہیں نکل سکتا۔ بدقسمتی سے خان صاحب نے جو بلاشبہ اس وقت اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں کبھی اپنے سیاسی مخالفین سے بات چیت کے ذریعہ معاملات سنبھلانے کی کوشش نہیں کی البتہ ان کی پارٹی میں شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، فواد چوہدری، علی محمد خان، اسد قیصر اور اسد عمر جیسے لوگ ہیں جو سیاسی معاملات کو سیاسی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔دوسری طرف حکومتی اتحادیوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں مگر جو کچھ چند دن پہلے محترمہ شیریں مزاری کے ساتھ ہوا وہ قابل مذمت تو ہے ہی مگر یہ بھی اسی انتہاپسند سیاسی کلچر کا حصہ ہے جس سے ماضی میں بیگم نصرت بھٹو، بیگم کلثوم نواز، محترمہ بےنظیر بھٹو اور مریم نواز صاحبہ گزر چکی ہیں اور ذرا پیچھے چلے جائیں تو محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کو بھی ایسے ہی القاب سے نوازا جاتا تھا۔ اس پورے عمل سے صرف اور صرف حکومت کو نقصان ہوا۔عمران خان کے لانگ مارچ کے ممکنہ نتائج کیا نکلیں گے، خاص طور پر اگر حکومت نے زور زبردستی کی یہ کہنا قبل ازوقت ہے مگر جو کچھ پنجاب اسمبلی میں ہورہا ہے وہ پھر شاید سڑکوں پر دیکھنے کو ملے۔ زبان کے معاملے میں تو ویسے بھی ماشاء اللہ پنجاب سب سے آگے نظر آتا ہے مگر اب فلموں کے مولا جٹ اور نوری نت سیاست میں بھی آگے آگے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک بے وقت کی راگنی تھی۔ خوف کسی کی تقرری کا تھا یا اپنے نااہل ہونے اور سزا کا مگر اس کی بھینٹ پورا نظام چڑھتا نظر آرہا ہے۔ اگر خوف اس بات کا تھا کہ عمران 2028تک وزیر اعظم ہوسکتا ہے تو وہ تو اب بھی ممکن ہے۔ تحریک عدم اعتماد آئینی عمل ہے مگر کیا یہ کسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا تو وہ نظر نہیں آئی کیونکہ پچھلے دو ماہ میں صرف ڈالر کو اوپر جاتے دیکھا ہے باقی تو سب کو ’’گرتے‘‘ ہوئے ہی دیکھا ہے کیا حکومت کیا اپوزیشن۔ تصادم کے نتیجے میں کیا ہو سکتا ہے یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ لا اینڈ آرڈر پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اگر معاملات بے قابو ہوگئے تو فوج بھی طلب کی جاسکتی ہے اور اب تو ویسے بھی اس کو خود خان صاحب نے ’’نیوٹرل‘‘ رہنے کا مشورہ یوٹرن لے کر دے دیا ہے مگر زبان پر کنٹرول کون کروا سکتا ہے بات گھروں سے بازار تک آگئی ہے۔
آخر میں بے چارا اسلام آباد اور اس کے شہری اور کاروبار کرنے والے جو سالہا سال سے دھرنوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کچھ تو کاروبار بند کرکے دوسرے شہر منتقل ہوگئے ہیں۔ یہ تماشا پرامن طریقہ پر ختم ہوگا یا تشدد پر مگر سیاسی انتہا پسندی کی جس لہر نے پورے معاشرہ کو لپیٹ میں لے لیا ہے وہ کس انتہا پر ختم ہوگی بس اللہ خیر کرے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker