کالملکھاریمظہر عباس

انتہا پسندی کا کینسر۔۔مظہر عباس

’’یہ کہیں سےبھی آئے ہوں سب مرنے والے ہمارے ہیں اور مارنے والے ہمارے نہیں‘‘۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے یہ جملے واضح طور پر مظلوم اور ظالم کا فرق بتا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا یقیناً مذہب انسانیت ہوتا ہے اور جس طرح کرائسٹ چرچ کے درندگی کے اس واقعہ کے بعد وہاں کے عوام ہر چیز سے بالاتر ہو کر مسلمان خاندانوں کے غم میں شریک ہوئے، اس سے یہ امید بہرحال باقی ہے کہ انتہا پسندی کی بیماری کو شکست ہو گی۔
اس المناک واقعہ نے (جس میں 9پاکستانی بھی 50شہدا میں شامل تھے) 9/11 کی یاد اس لحاظ سے بھی تازہ کر دی کیونکہ اس میں جس طرح ایک پاکستانی احمد ہمدانی نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں لوگوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان دیدی، اسے امریکہ میں اس کے ادارے نے اعزاز دیا مگر ہم نے کچھ نہیں کیا۔ ہمارے فوٹو گرافر انیس ہمدانی کا بھائی نیویارک میں فائر مین کی نوکری کرتا تھا۔ وہ اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر جا چکا تھا، جب اس نے ٹی وی پر حملہ کی خبر سنی تو وہاں پہنچا اور کئی افراد کی جان بچاتے ہوئے کوئی بھاری چیز اس پر گری جس سے اس کی شہادت ہوئی۔ کرائسٹ چرچ میں بھی نعیم رشید اور عبدالعزیز نے کئی لوگوں کی جان بچائی۔
ایسی بے شمار مثالیں مسلمانوں اور غیرمسلموں کی موجود ہیں جنہوں نے اس طرح کے واقعات میں انسانیت کا دامن تھامے رکھا۔ شاید اسی وجہ سے انتہا پسندی کے کینسر جیسی مہلک بیماری کے خاتمے کی کچھ امید باقی ہے۔ ہم تو اس بیماری کو چالیس سالوں سے شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کاش شروع میں ہی اس کا علاج کر لیا ہوتا۔ دہشت گردی کو اگر مذہب سے نہیں جوڑا جاتا اور دہشت گرد کو دہشت گرد ہی سمجھا جاتا تو شاید آج دنیا اس کی مناسب ’’تعریف‘‘ پر متفق ہوتی۔ چند سال پہلے امریکہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران میں نے امریکی ترجمان سے پوچھا۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ 9/11کے بعد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کئی بلین ڈالرز خرچ کرنے کے بعد دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کم ہوئی ہے کہ بڑھی ہے۔ شروع میں تھوڑی دیر اس نے مجھے دیکھا اور پھر اعتراف کیا۔ جی نہیں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اس میں اضافہ ہوا ہے مگر ہم کوشش کر رہے ہیں اسے ختم کرنے کی‘‘۔ اس بات کو تقریباً سات آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ دنیا میں ہمیں یہ کینسر ایک وبا کی مانند پھیلتا ہی نظر آرہا ہے۔
اپنے معاملات پر نظر ڈالیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ مرض ہمارے معاشرے میں کیسے پھیلا، جس نے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد کی جان لے لی ہے، جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ ہم نے چالیس سال انتظار کیا اور انتہا پسندی کو پھیلنے دیا۔ گفتگو اور دلیل کا کلچر ختم ہو گیا اور اس کی جگہ زور زبردستی اور غصے سے بات منوانے نے لے لی۔ پہلے ہاتھ میں قلم ہوتا تھا اب ہتھیار ہوتا ہے۔ قلم سے بات نہ بنے تو اسلحہ کا استعمال کر لو۔ نظریات کی جگہ نفرت نے لے لی۔ یہ سب آخر کیسے ہوا۔ اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے کچھ دنوں پہلے میں نے ان خفیہ دستاویزات کا دوبارہ مطالعہ کیا جو جولائی 1979کو تہران میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی طالبعلموں کے قبضے کے نتیجے میں محفوظ رہیں اور پھر لیک کردی گئیں۔ ان میں کچھ والیوم کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اسے پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی یہ وبا کیسے پھیلی۔ افغانستان کے راستے صرف اسلحہ، ڈرگ یا مہاجرین ہی نہیں آئے بلکہ گریٹر افغان گیم ’’پلان‘‘ کے نتیجے میں پاکستان کو ’’افغان جہاد‘‘ کے نام پر استعمال کیا گیا۔ کبھی غور کیجئے گا کہ آخر 1977میں امریکہ کیوں بھٹو حکومت کا خاتمہ چاہتا تھا۔ The Party is over کا امریکی سفیر کا تاریخی جملہ بھی ان خفیہ دستاویزات میں موجود ہے جو اسلام آباد میں نامزد سفیر نے اپنی حکومت کو مارشل لا لگنے سے چند دن پہلے لکھا تھا۔ بھٹو امریکی اتحادی نہیں رہا تھا اور پہلی بار پاکستان امریکی بلاک سے نکل کر غیر جانبدار تحریک کا حصہ بنا، تیسری دنیا اور اسلامی بلاک مضبوط ہوتا نظر آیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو ’’اسلامی بم‘‘ کا نام دیا گیا۔
روس افغانستان سے گیا تو ایک طرف خود افغان بدترین خانہ جنگی کا شکار ہو گئے تو دوسری طرف افغان جہاد کے نتیجے میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا جو ریاست کے کہے بغیر بھی تبدیلی کی سوچ کی جانب راغب ہوئی۔
9/11ہوا تو کل کے مجاہدین آج کے دہشت گرد قرار دے دیئے گئے۔ بات سعودی عرب سے امریکی بیڑے اٹھانے پر شروع ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا ہی بدل گئی۔ ایک بار پھر جنگ کا نشانہ افغانستان تھا اور ایک بار پھر پاکستان کو استعمال کیا گیا۔ دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ جیتی جا سکتی تھی اگر امریکہ اس کو اسلام سے نہ جوڑتا۔ اقوام متحدہ عراق میں، مہلک کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی جھوٹی خبروں پر امریکہ کی سرزنش کرتا۔ ہم نے یہ جنگ اس لئے جیتی یا اس پر خاصی حد تک قابو پایا کیونکہ 2008میں ریاستی طور پر فیصلہ ہو گیا کہ ریاست کے اندر ریاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
کرائسٹ چرچ کے واقعہ سے دنیا کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ بیانیہ مضبوط ہوا تو منفی سوچ مضبوط ہو گی۔ یاد رکھیں کینسر ایک مہلک بیماری ہے۔ ایک بار یہ مرض جسم میں پھیل جائے تو جان لے کر ہی دم لیتا ہے۔ انتہا پسندی بھی ایک کینسر کی مانند ہے جس نے اب تک لاکھوں لوگوں کی جان لے لی ہے۔ نیوزی لینڈ کے واقعہ کو اقوام متحدہ کو مذہبی جنونیت کی بدترین مثال قرار دینا چاہئے۔ اب بھی وقت ہے کہ دہشت گردی کی واضح تعریف کی جائے کہ دہشت گردی یا دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جو بلین ڈالرز دہشت گردی کیخلاف جنگ پر خرچ کئے وہ اگر غربت کے خاتمے اور تعلیم پر خرچ ہوتےتو شاید آج نہ 9/11ہوتا نہ کرائسٹ چرچ جیسا واقعہ۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker