کالملکھارییاسر پیرزادہ

میں عقل کُل ہوں۔۔ذراہٹ کے/یاسر پیر زادہ

کبھی کبھار میں شام کو واک کیلئے باہر نکلتا ہوں تاکہ ’’عوام میں گھل مل سکوں‘‘ یہ اور بات ہے کہ عوام آج کل خود ہی گھلنا ملنا پسند نہیں کرتے، کل شام کو بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میں واک کرنے گھر سے نکلا، میرا اصول ہے کہ سڑک کے دائیں طرف چلتا ہوں، ٹریفک کا قانون بھی یہی کہتا ہے کیونکہ یوں آپ سامنے سے آنے والی گاڑی باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے پیچھے سے کوئی ٹرک آ رہا ہو، میں نے مُڑ کر دیکھا تو کُوڑا اٹھانے والی گاڑی جس کے ایک سرے پر جہازی سائز کا بلیڈ ہوتا ہے غلط طرف سے آ رہی تھی اور اُس کا ڈرائیور نہایت اطمینان سے موبائل فون پر باتیں کرتا ہوا ایک ہاتھ سے سٹیرنگ گھماتا ہوا چلا آرہا تھا، رات کا وقت تھا، اِس سے پہلے کہ گاڑی کا بلیڈ مجھے بھی کُوڑے سمیت اٹھا لیتا میں فوراً پرے ہٹ گیا، ڈرائیور نے مجھے دیکھ کر دانت نکالے، گویا کہہ رہا ہو کہ اچھا ہوا خود ہی پیچھے ہٹ گئے۔ ہاتھ کے اشارے سے روک کر میں نے اُس مرد عاقل سے پوچھا کہ رات کے وقت بغیر بتی کے، ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ایک ہاتھ میں موبائل فون پکڑ کر یہ جناتی گاڑی چلاتے ہوئے اگر تم کوئی بندہ مار دو تو کیسا رہے، جواب میں وہ دانا شخص قصہ چہار درویش کے چوتھے بزرگ کی طرح مسکرایا اور بولا ’’بندہ مرا تو نہیں نا!‘‘ اِس ’’دلیل‘‘ نے مجھے لاجواب کر دیا۔
آج کل ہم سب کی منطق بھی کچھ ایسی ہی ہو گئی ہے، کوئی شخص یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ وہ غلطی پر ہو سکتا ہے یا کسی معاملے میں اُس کی رائے درست نہیں بھی ہو سکتی یا زندگی، سیاست، معاشرت وغیرہ کے بارے میں اُس کا کوئی نظریہ غلط ہو سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں ہم سب ہی عقل کُل ہیں، ہم نے جو نظریات اپنا لیے بس وہی ہمارے نزدیک اٹل حقیقت ہیں اور اُن میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ ہمارے طریقہ استدلال میں اور کسی جاہل ڈرائیور کی منطق میں بس زبان کا فرق ہے، ایک اَن پڑھ شخص اپنی مادری زبان میں جہالت کا اظہار کرتا ہے جبکہ پڑھا لکھا شخص انگریزی میں بالکل اُسی قسم کی جاہلانہ منطق کا استعمال کرتا ہے۔ بحث و مباحثہ کے بنیادی اصول سے یہاں شاید ہی کوئی آگاہ ہو، اول تو ہم مکالمے کے قائل ہی نہیں اور اگر کسی سے ڈائیلاگ شروع بھی کر لیں تو ہمارے مکالمے میں سرے سے اِس بات کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہوتی کہ ہمارا کوئی موقف غلط بھی ہو سکتا ہے۔ گزشتہ شب ایک ریٹائرڈ صاحب سے میں نے کسی موضوع پر بات شروع کی، آہستہ آہستہ بحث گرم ہو گئی اور پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ آپے سے باہر ہو گئے، جناب کی حالت دیکھ کر میں نے اطمینان سے سگریٹ سلگایا اور اُن کی خدمت میں پیش کرکے پوچھا کہ آپ کی رائے غلط ہونے کا کتنے فیصد امکان ہو سکتا ہے، جواب میں انہوں نے زور سے سر ہلا کر کہا بالکل نہیں، میں بالکل غلط نہیں ہو سکتا۔ فوراًمجھے کُوڑا اٹھانے والا ڈرائیور یاد آ گیا۔
دراصل قصور جاہل ڈرائیور کا ہے اور نہ کسی پڑھے لکھے صاحب کا، ہمیں کسی نے یہ بات سکھائی ہی نہیں کہ اپنی غلطی تسلیم کرنے میں بڑائی بھی ہو سکتی ہے، ہم اسے سُبکی سمجھتے ہیں کیونکہ اِس سے ہماری پہاڑ ایسی انا کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ مگر بات صرف انا یا ہٹ دھرمی کی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ہمیں کسی نے یہ بھی نہیں سکھایا کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کے اِس دور میں سچ کی تلاش کیسے کی جائے، یہاں تو ہر کوئی سچ کا پیامبر بنا پھرتا ہے، کوئی خود کو مرد حُر کہتاہے تو کوئی حسینؓ کا سپاہی، کسی نے اپنے آپ کو جابر سلطان کے آگے کلمہ حق کہنے والے مجاہد کا خطاب دیا ہوا ہے تو کسی نے خود ہی اپنے گلے میں دانشوری کی تختی لٹکائی ہوئی ہے، ایک ہی سانس میں یہاں لوگ خود کو انقلابی کہتے ہیں اور اسی سانس میں بورژوا زیوں کے حق میں قصیدے پڑھتے ہیں، ہر کسی کا دعویٰ ہے کہ وہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑا ہے اور اس دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے وہ مخالف نقطہ نظر رکھنے والوں کو اسی طرح رگیدنا چاہتا ہے جیسے ہٹلر اور سٹالن کی فاشسٹ حکومتیں اپنے مخالفوں کو کچلتی تھیں۔ اب جہاں ایسے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہوں وہاں کوئی یہ بات کیسے تسلیم کر لے کہ اُس کا کوئی نظریہ، کوئی رائے یا طریقہ استدلال غلط ہو سکتا ہے، یہ تو سراسر سُبکی اور اپنی کم علمی کا اعتراف ہوا۔ حالانکہ ایسی بات نہیں۔ دانشوری کا پہلا اور آخری اصول ہی یہی ہے کہ دانشور ہمیشہ اپنی رائے کے بارے میں کھلے ذہن کے ساتھ بات کرتا ہے، قطعی یا حتمی لہجے میں فیصلہ یا فتویٰ صادر نہیں کرتا، اور محض دانشور کی بات نہیں، کوئی بھی صحت مند دماغ رکھنے والا شخص یہی رویہ اپنائے گا، یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی شخص نے آج سے تیس سال پہلے ایک معاملے پر اپنی رائے قائم کی ہو اور وقت گزرنے کے ساتھ اُس رائے میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہو، مگر اپنے یہاں لوگ اِس بات کو دانشوری کی دلیل سمجھتے ہیں کہ آج سے تیس سال پہلے میں جو کہتا تھا آج بھی وہی کہتا ہوں، اِس کا سیدھا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ وقت کے ساتھ بڑے ہی نہیں ہوئے، وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ دانشوری چیک کرنے کا ایک طریقہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ اِن لوگوں کے پانچ دس برس پرانے خیالات اٹھا کر پڑھنا شروع کردیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ جس شدومد کے ساتھ وہ کسی کی امیج بلڈنگ میں لگے تھے آج اُس کا نام لینا بھی انہیں گوارا نہیں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہوں نے اپنے خیالات سے رجوع کر لیا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پہلے وہ اپنے خیالات کو غلط قرار دے کر معافی مانگتے اور پھر کوئی دوجا کام کرتے مگر ایسا نہیں ہوا۔
بات واک سے شروع ہوئی تھی اور کہاں کی کہاں جا نکلی۔ دراصل یہ واک ہی ہے جو تمام برائیوں کی جڑ ہے، اُس ڈرائیور کی بات کی منطق درست تھی سو آج سے میں نے بھی اسی منطق کے تحت بحث کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آج کے بعد جو بھی مجھ سے اختلاف کرے گا میں (اُس کے) سینے پر دوہتڑ مار کرسب سے پہلے تو اسے جاہل قرار دوں گا، اس سے بھی بات نہ بنی تو اسے دبے لفظوں میں سمجھاؤں گا کہ تم بھارتی موقف کی تائید میں بکواس کر رہے ہو، وہ پھر بھی باز نہ آیا تو اسے ملک دشمن کا خطاب دوں گا اور آخر میں میرے پاس غداری کا سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار تو ہے ہی۔ اس ’دلیل‘ کا ڈسا ہوا تو پانی بھی نہیں مانگتا۔
کالم کی دُم:یہ کالم 26مارچ کو لکھا گیا جو بنگلہ دیش کایوم آزادی ہے، 26مارچ 1971کو شیخ مجیب الرحمٰن نے ’آزادی‘ کا اعلان کیا تھا، کچھ لوگوں کو اِس بات میں شبہ ہے مگر بنگلہ دیشیوں کو اِس میں کوئی شبہ نہیں اوراِس سے اب کوئی فرق بھی نہیں پڑتا، فرق صرف اِس بات سے پڑتا ہے کہ کیا ہم نے تاریخ سے کچھ سبق سیکھا یا نہیں، جملہ یقیناً گھسا پٹاہے اور جواب بھی، مگر افسوس کہ ہمیں اسی گھسی پٹی تاریخ کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا، نئی تاریخ رقم کرنے والی قومیں پہلے اپنی تاریخ درست کرتی ہیں جبکہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker