کالملکھاری

مظہر عباس کا کالم۔۔کوئی ایسے بھی جاتا ہے!

’’زندگی‘‘ کے بغیر زندہ رہنا کتنا مشکل ہے، یہ احساس مجھے اپنی اہلیہ ارم عباس، جسے گھر والے اور دوست ڈولی کہہ کر بلاتے تھے، کے انتقال کے بعد ہوا۔ وہ میری عادت سی بن گئی تھی۔ وہ میری طاقت اور حوصلہ تھی۔ پچھلے چند دنوں سے زندگی میں واپس آنے کی کوشش کررہا ہوں کیونکہ وہ مجھے ایک ذمہ داری ایک امانت سپرد کر گئی ہے۔ اللہ اُسے کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، آمین!
کراچی کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی سے لوگ اتنا لگاؤ رکھتے تھے اِس کا اندازہ مجھے اُس کے جنازے میں شریک لوگوں سے ہوا۔ میں بات قابلِ احترام سیاست دانوں، شاعروں، صحافیوں، ادیبوں ،اینکرز کی نہیں کررہا، جن کی شرکت کا میں بےانتہا شکرگزار ہوں، میں بات کررہا ہوں اُن غریب لوگوں کی جو مجھ سے مل کر پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ میں بات کررہا ہوں اُس ماسی شہناز کی جو کرسمس کی تقریبات چھوڑ کر جنازے میں آئی۔ ’’بھائی جان یہ کیا ہو گیا، میری باجی چلی گئی‘‘۔ پھر بتانے لگی کہ ڈولی کس کس طرح اُس کی مدد کرتی تھی۔ میں بات کررہا ہوں اُس ڈرائیور نصیر کی جو اب ہمارے یہاں کام نہیں کرتا مگر جب سے وہ گئی ہے، صرف آکر بیٹھ جاتا ہے اور روتا رہتا ہے۔ اُس کو ڈولی اکثر ڈانٹ دیتی تھی اور وہ وہی ڈانٹ ڈپٹ سننے آیا تھا۔ ’’بھائی آپ کو نہیں پتا میں جب مشکل میں ہوتا تھا تو باجی میری کیسے مدد کرتی تھیں‘‘۔ میں بات کررہا ہوں کراچی پریس کلب کے اُنپرانے ویٹرز اور اسٹاف کی جو روتے ہوئے بتا رہے تھے کہ وہ اِن سے کس طرح شفقت سے پیش آتی تھی۔
ایسے بےشمار لوگ ملے۔ اپنی صحافی برادری کے لوگوں نے بھی وہ باتیں شیئر کیں جنہیں سن کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ جیو کے ساتھی رانا عقیل نے کہا ’’ڈولی کو خوش مزاجی کی نظر لگ گئی‘‘۔ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ، جس سے میری دوستی کو چالیس سال سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں، نے روتے ہوئے کہا ’’مظہر یاد ہے جب تمہاری شادی ہوئی تو کس طرح شہر میں گولیاں چل رہی تھیں اور میں اپنی گاڑی میں تم دونوں کو لے جارہا تھا‘‘۔ سینئر فوٹو گرافر ظفر احمد اپنی شدید بیماری کے باوجود شریک ہوئے۔ کراچی پریس کلب کے نومنتخب صدر فاضل جمیلی کی بیگم سے اُس کی بہت دوستی تھی اور اِسی طرح اکرم ڈوگر کی بیگم اور بچوں سے، دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔ صرف کراچی ہی نہیں اسلام آباد کے ساتھیوں کو بھی وہ یاد تھی۔ سب نے فون کرکے تعزیت بھی کی اور پرانی باتیں شیئر بھی کیں۔ میں شکر گزار ہوں ملک بھر کے صحافیوں، سیاست دانوں اور دیگر شعبہ ہائےزندگی سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا اور سوشل میڈیا پر اُن ہزاروں لوگوں کا جنہوں نے اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں تعزیت کی۔ میں SIUTکے اُن ڈاکٹروں کا بھی بےانتہا شکرگزار ہوں جو 2007سے اُس کا علاج کررہے تھے۔ پھر تو کچھ ایسا رشتہ بن گیا تھا کہ وہ کبھی کبھی اُن کے لئے کچھ پکا کرلے جاتی۔ آخری بار ڈولی کو ICUمیں بولتے سنا، وہ میرے ساتھ کھڑے ایک ڈاکٹر کو دیکھ کر بولی ’’یہ اویس ہے نا۔ اِس سے کچھ کھانے کا تو پوچھ لو‘‘۔ وہ ڈاکٹر چلے گئے تو مجھ سے ناراض ہوتے ہوئے بولی ’’اویس کو کیوں باہر بھیج دیا؟‘‘ یہ بات جب میں نے اویس توحید کو بتائی تو اُس کی آواز بھر آئی۔ میں اُس نجی اسپتال کے ڈاکٹرز اور نرسوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اُس کا خیال رکھا۔ میں جنگ اور جیو انتظامیہ کا بھی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے لمحہ بہ لمحہ میری مدد کی۔ میں رپورٹ کارڈ کے ساتھیوں کو کیسے بھول سکتا ہوں جنہوں نے پروگرام میں اس کا ذکر کیا۔
مجھے آج بھی یقین نہیں آرہا کہ وہ چلی گئی ہے۔ اب بھی گھر میں کوئی چیز ادھر سے ادھر کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو لگتا ہے پیچھے سے آواز آئے گی۔ ’’آپ تجزیہ کریں، جوکام آپ کو نہیں آتا وہ نہ کریں‘‘۔ دماغ پھٹ سا جاتا ہے جب سوچتا ہوں کہ یار ابھی ٹھیک ایک ماہ پہلے ہی تو ہم نے 25نومبر کو اپنی بڑی بیٹی کی رخصتی کی تھی۔ کل لوگ مبارکباد دینے آرہے تھے اور آج تعزیت کرنے۔ ایسے بھی کوئی جاتا ہے مگر اس نے اس کو رخصت کرتے ہوئے مجھ سے کہا ’’میں نے اپنا فرض ادا کردیا اب اس چھوٹی کو تم سنبھالنا۔ مجھے نہیں لگتا تب تک میں ہوں گی‘‘۔ بڑی سے تو گھر میں داخل ہی نہیں ہوا جارہا تھا مگر چھوٹی نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا۔ وہ ماں کے ساتھ ICUمیں کھڑی رہتی وہیں سے اپنی آن لائن کلاس بھی کرتی اور ٹیسٹ بھی دیتی رہی۔ انتقال ہوا تو وہ ہمیں تسلی دے رہی تھی۔ ارم یا ڈولی سے میری شادی کو 30سال اور 10ماہ ہوئے ہیں۔ 6فروری 2021کوشادی کی 31ویں سالگرہ ہے۔ اِس تمام عرصے میں اُس نے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی، اگر کی تو ایک جو میں بوجوہ پوری نہ کر سکا۔ پچھلے سال گھر کے کرائے میں اضافہ ہوا تو گھر بدلنے کا فیصلہ کیا۔ سامان پیک کرتے ہوئے بولی ’’یار اب ہمت جواب دے گئی ہے۔ کیا ایمانداری میں صرف قربانی ہوتی ہے آرام نہیں۔ دیکھو تم سے کتنے جونیئر صحافیوں کے پاس کیا کیا ہے‘‘۔ میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا ’’ پاپا نے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ حلال کمانا۔ بہت سے لوگوں نے محنت سے ایمانداری سے بھی گھر بنائے ہیں‘‘۔ چلو اب یہ بحث بھی ختم ہو گئی۔ میں آخری بار جب اِس سے ملنے گیا تو اُس نے کہا ’’بہت بھوک لگ رہی ہے، نیچے سے کچھ لے کر آئو‘‘۔ میں جانے لگا تو ہاتھ اُٹھا کر ایسے خدا حافظ کہا، جیسے کہہ رہی ہواِس دنیا میں یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ پھر میں نے اُس کو بولتے نہیں سنا۔ دو دن وہ وینٹی لیٹر پررہی اور پھر… ڈاکٹرز نے تصدیق کردی کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی۔
دوستو! یہ بھی عجیب اتفاق تھا کہ میں 24دسمبر کی صبح جب کالم لکھنے بیٹھا تو اُس کا عنوان تھا ’’2020موت کا سال‘‘ کیونکہ دنیا میں سوائے لوگوں کی ہلاکتوں کے سوا دوسری ’’خبر‘‘ نہیں۔ ابھی اتنا ہی لکھا تھا کہ اسپتال سے فون آیا، ’’آپ یہاں آجائیں، ڈاکٹر ملنا چاہتے ہیں‘‘۔ میری بیٹی وہیں تھی۔ اُس کو میں نے فون کیا کہ تم اوپر جاؤ میں آ رہا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد کزن ڈاکٹر حیدر کا فون آیا کہ حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وہاں پہنچے تو کچھ دیر بعد وہ ’’خبر‘‘ سنی جو میں سننا نہیں چاہتا تھا۔ اب میں گھر میں اس کی چیزیں اکٹھی کررہا ہوں۔ سب سے زیادہ دوائیں ملی ہیں۔ ایک دن میں 14سے 12ٹیبلٹ اور اس سب کے باوجود اس کا مسکرانا۔ زندگی کے بغیر زندہ رہنا کتنا مشکل ہے یہ احساس ڈولی کے جانے کے بعد ہوا۔ اللہ اس سمیت سب وفات پانے والوں کو مغفرت کرے۔
خدا حافظ…ڈولی
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker