کالملکھاریمحمود احمد چودھری

سعید احمد صدیقی : ایک بے باک صحافی ۔۔ محمود احمد چودھری

گزشتہ دنوں بعض اخبارات کے اندرونی صفحات پر چند سطری خبر شائع ہوئی کہ روزنامہ امروز کے سٹاف رپورٹر اور سینئر صحافی سعید احمد صدیقی انتقال کر گئے۔ اللہ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے (آمین) ۔ خبر پڑھ کر میں انتہائی کرب کے عالم میں‌ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ وقت کیسے بدلتا اور اپنا رنگ دکھاتا ہے کہ جن کی تحریروں، تبصروں، کالموں، تجزیوں اور خبروں پر اخبار کی سرکولیشن کا دارومدار ہوتا ہے جن کے نام پر اخبار فروخت ہوتا ہے۔ اور جو کسی بھی اخبار کی پہچان ہوتے ہیں، شان ہوتے ہیں جب وہ جہانِ فانی سے کوچ کر جاتے ہیں تو اخبار میں ان کی خبر اس طرح شائع ہوتی ہے کہ ڈھونڈے سے بھی نہیں‌ ملتی۔ اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والے شاید اپنی موت بھول چکے ہوتے ہیں۔
سعید صدیقی مرحوم سے میرا پہلا تعارف کب ہوا ؟ مجھے ٹھیک طرح سے یاد نہیں بس اتنا معلوم ہے کہ اس وقت میں شائد تیسری یا چوتھی جماعت کا طالب علم تھا والد مرحوم چودھری محمد جمیل امروز میں کام کرتے تھے۔ بھلے وقتوں میں انہوں نے زرعی اراضی پر بینک سے قرض لیا جو حکومت نے معاف کر دیا تھا۔ سیدھے سادھے بزرگ بینک سے کوئی کلیئرنس سرٹیفکیٹ نہ لے سکے۔ وقت گزرتا گیا بینک نے زرعی اراضی کی قرقی کے احکامات جاری کر دیئے سعید احمد صدیقی مرحوم روزنامہ امروز میں سینئر سٹاف رپورٹر تھے، والد مرحوم نے ان سے ذکر کیا انہوں نے حسین آگاہی میں واقع حبیب بینک کے ریجنل آفس میں کسی آفیسر کے پاس انہیں بھیجا اور معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ زمانہ طالب علمی میں مجھے اخبارات کے مطالعہ کا بہت شوق تھا، انہی دنوں ملتان میں جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ جو اس وقت سٹوڈنٹ لیڈر تھے ان کے بھائی سعادت بلوچ کا (جو قتل اور ڈکیتی کی کئی وارداتوں میں اشتہاری تھا) ملتان پولیس سے مقابلہ ہوا ، اس مقابلے کی خبر بہت زیادہ مقبول ہوئی۔ یہ مقابلہ کئی گھنٹے جاری رہا۔ اور پھر اس سے متعلقہ خبریں‌ روزانہ شائع ہوتی تھیں‌۔ بحیثیت کرائم رپورٹر روزنامہ امروز کے لئے اس کی تمام رپورٹنگ سعید صدیقی مرحوم نے کی۔ سعید صدیقی مرحوم کے قلم کا کمال یہ تھا کہ وہ کرائم کی اس خبر میں بھی اتنی چاشنی اور تحیئر پیدا کرتے کہ قاری اس کی تمام جزئیات میں‌ کھو جاتا تھا ۔ وہ خبر کا اختتام بھی اس انداز سے کرتے کہ اگلے روز اخبار آنے تک قاری بے چین رہتا تھا۔ خبر پڑھ کر ایسے لگتا تھا کہ سعید صدیقی دونوں جانب سے چلنے والی گولیوں کے درمیان کھڑے کمنٹری کر رہے ہیں۔ انہی دنوں مظفرگڑھ یا غالباً جتوئی میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ کسی نے یہ افوا ہ پھیلادی کہ اس نے قبرستان میں ایک دس سالہ بچی کو زندہ دفن ہوتے دیکھا ہے،اس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا صرف اخبارات ہی اطلاعات اور معلومات کا واحد ذریعہ تھے، افواہ پھیلنے کی دیر تھی کہ قبر پر منتیں ماننے اور چڑھاوے چڑھانے والوں کا ہجوم لگ گیا۔ تفتیشی ادارے اور پولیس والے چکرا کر رہ گئے،معاملہ بھی کچھ عقیدت کا بن گیا تھا اور قبر کی بے حرمتی کا احتمال تھا مگر اس معاملہ کو بھی مرحوم سعید صدیقی کی تفتیشی رپورٹنگ نے حل کر دیا۔ سب سے پہلے انہوں نے اس خبر کے راوی کا سراغ لگایا جو پانچ چھ سال کی بچی تھی، پھر انہوں نے کھوج لگایا کہ بچی کو کیسے پتہ چلا۔ بچی نے بتایا کہ وہ دیوار کے اوپر سے دیکھ رہی تھی۔ سعید صدیقی مرحوم نے فوراً بچی کے قد اور قبرستان کی دیوار کی اونچائی کا معاملہ ا ٹھایا جو بچی کے قد سے زیادہ اونچی تھی۔ اس طرح ہہ معاملہ جھوٹ نکلا اور اس افواہ کا ڈراپ سین ہوگیا۔
اس وقت کی اور آج کی کرائم رپورٹنگ میں بہت فرق ہے اس دور کے رپورٹر اپنی تحقیق کی بنیاد پر خبر دیتے تھے۔ آج کے رپورٹر کا سارا دارومدار ایف آئی آر کی کاپی پر ہے۔ اس وقت خبر کا فالو اپ بھی ہوتا تھا، اب تو رات گئی بات گئی والی کہانی ہے۔
سعید صدیقی مرحوم نہ صرف صحافی تھے بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ تھے۔ بچپن میں جب بھی ملتے سلام کے جواب میں میرے گال کو تھپتھپا کر آگے گزر جاتے کانوں کے عارضہ کے باعث ہمیشہ آلہ سماعت کانوں کو لگا کر رکھتے تھے۔ پھر جب میں بھی صحافت کا ادنیٰ سا طالب علم بنا تو پریس کلب میں اکثر ان سے ملاقات ہوتی بچپن کے حوالے سے انہیں تعارف کراتا تو ہاتھ کا اشارہ کر کے سرائیکی میں جواب دیتے جانتاہوں خوش رہو۔
امروز کی بندش کے بعد گو انہوں نے کوئی باقاعدہ اخبار تو جوائن نہ کیا تاہم روزنامہ خبریں میں ان کا کالم تواتر سے چھپتا رہا۔ تحقیقی رپورٹنگ کی طرح ان کا کالم بھی تحقیق پر مبنی اور حقائق سے بھرپور ہوتا تھا جسے پسند کیا جاتا تھا زندگی بھر شعبہ صحافت سے وابستہ رہنے کی وجہ سے مرحوم کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا، جیسے زندگی بھر بیباک، غیر جانبدار، حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور صحافت کی اسی طرح بے داغ زندگی گزاری۔ مرحوم صحافت کی آبرو اور شان تھے۔
سعید صدیقی جیسے صحافی ہم نوجوان صحافیوں اور صحافت کے طالب علموں کےلئے مشعل راہ ہیں ہمیں ان کی زندگیوں کے بارے میں جان کر ان کی راہ پر چلنا چاہئے تاکہ ہم بھی ان کی طرح نیک نامی کما سکیں اللہ تعالیٰ مرحوم کے اعمال بلند کرے اور انہیں جوار رحمت میں جگہ دے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker