کالملکھاریمحمود شام

یہ ہفتہ فیصلہ کن ہے ۔۔ محمود شام

پارلیمانی نظام پھر مجبور کررہاہے کہ احتساب کو ترک کر دیا جائے۔ بجٹ کی منظوری بندوں کے گنے جانے سے مشروط ہے تولے جانے سے نہیں۔ارکان کی تعداد کا توازن 24ہزار ارب کے حساب کتاب پر غالب آسکتا ہے۔ پھر عمران خان بھی روٹین کے حکمران بن جائیں گے۔ اور پی ٹی آئی۔ پی پی پی ۔ پی ایم ایل(ن) کی رضاعی بہن۔ جون کا یہ آخری ہفتہ بہت فیصلہ کن ہونے والا ہے۔



آج اتوار ہے۔ بچوں سے ملنے ملانے کا دن۔ بچے بہت سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔ کرکٹ ٹیم کے بارے میں بھی۔ اور یہ بھی کہ عمران خان ناکام ہورہے ہیں۔ یا انہیں چلنے نہیں دیا جارہا ہے۔ انتظامی طور پر بھی افراتفری ہے۔ اقتصادی حوالے سے بھی۔ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر بزنس صرف 30فیصد پر کھڑا ہے۔ ہم نے بینکوں میں کھاتے داروں سے بد سلوکی کے بارے میں لکھا۔ بہت سوں نے پسند کیا کہ وہ بھی اسی بے رُخی کا شکار ہورہے تھے۔ اتنا تو ہوا کہ ہفتے اور اتوار کو بینک خاص طور پر ’’انگوٹھا شناسی‘‘ کے لیے کھولے جارہے ہیں۔ پہلے ہی اگر دماغ استعمال کیا جاتا۔ خصوصی کاؤ نٹر کھولے جاتے۔ تو یہ شکایتیں نہ ہوتیں۔ہمیں تو آج ایک جواں عزم بزرگ ابراہیم مراد کی طرف جانا ہے۔ جن کے پاس نایاب کتابوں کا خزانہ ہے۔دنیا کی سب سے بڑی ہستی حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ پر غیر مسلم اسکالرز کی کتابیں انگریزی۔ جرمن۔ فرانسیسی میں لکھی ہوئی تمام مشہور کتابیں۔ اور ساری کتابیں ان کی پڑھی ہوئی ہیں۔ 50کی دہائی میں برطانیہ چارٹرڈ اکائونٹنٹی پڑھنے گئے تو آتے ہوئے کئی ہزار پونڈ کی کتابیں لے کر آئے۔ اللہ کرے آپ کا اتوار بھی اچھا گزرے۔ جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آجائے۔ وہ ہمارے کھلاڑیوں کی طرح جان بوجھ کر خراب کھیلیں۔



ہر طرف ایک بے یقینی اور انتشار کی کیفیت ہے۔ یہ سب کچھ خلاف توقع نہیں ہے۔ حکمران طبقے کی باریوں نے ایک ظاہری استحکام قائم کر رکھا تھا۔ فوجی حکمراں ہوں یا سیاسی۔ سب اپنے اپنے حساب سے امور مملکت چلاتے ہیں۔ آئین اور قانون کی پیروی نہیں کی جاتی۔ ان کے منہ سے نکلے حرف ہی قانون ہوتے ہیں۔ جب ان کا دبدبہ رخصت ہوتا ہے۔ تو ظاہری مصنوعی استحکام کا چھلکا اترتے ہی اندر سے انتشار دندناتا ہوا باہر نکل آتا ہے۔ یہ تاریخ کے کئی موڑوں پر ہوا ہے۔ ایوب خان کے ظاہری استحکام کے خاتمے کے بعد ذرا حالات پر نظر ڈالیے۔ بالآخر ملک دو لخت ہوگیا۔ آج کل یہ دونوں پارٹیاں اپنے جس کامیاب دَور کی بات کرتی ہیں وہ بھی ایک ظاہری رکھ رکھاو تھا۔عمران خان بیک وقت کئی محاذ کھول رہے ہیں۔ ان کی ٹیم تربیت یافتہ نہیں ہے۔ مخالفین کا ایک سیلاب ہے جو پارلیمنٹ اور اقتدار کے ایوانوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہیں وزیر اعظم۔ وزیر کالونی۔ فیڈرل لاجز میں سرکاری خرچ پر رہنے کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں۔ اب اپنے پاس سے خرچ کرنا پڑ رہا ہے تو دال روٹی کا بھاو معلوم ہورہا ہے۔ مہذب ملکوں میں رخصت ہونے والی حکومتیں آنے والی حکومتوں کا خیر مقدم کرتی ہیں۔ اور یہ دیکھتی ہیں کہ آنے والوں کو ایڈمنسٹریشن چلانے کی تربیت ہے یا نہیں۔ برطانیہ میں جب ٹونی بلیئر کی پارٹی 12سال بعد حکومت میں آنے والی تھی تو جان میجر وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے کسی طرح بھی ان کا راستہ نہیں روکا۔ بلکہ انہیں خط لکھا کہ آپ کی پارٹی گزشتہ 12سال سے حکومت میں نہیں رہی ہے۔ آپ کے کسی بھی ساتھی کو حکومت کا تجربہ نہیں ہے۔ اس لیے آپ اپنے چند کلیدی معاونین کو تربیت کے لیے نامزد کریں۔ آپ چونکہ سرکار میں نہیں ہیں اس لیے آپ کو اس تربیت کی رقم ادا کرنی پڑے گی۔ میں نے یہ خط تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس کا متن تو نہیں مل سکا۔ البتہ اس وقت کے کلیدی بیورو کریٹس کی طرف سے ٹونی بلیئر کو بھیجے گئے مشوروں اور تجاویز تک رسائی ہوئی جو بی بی سی نے تلاش کرکے اپنی ویب سائٹ پر ڈال دی ہیں۔ دیکھیں یہ ہوتی ہے ۔ اپنی ریاست سے وفاداری۔ وہاں سرکار۔ اپوزیشن اگر لڑتے بھی ہیں تو امور مملکت بہتر چلانے کے لیے۔ حکمراں ہوں۔ حزب مخالف یا بیورو کریسی۔ سب کی توجہ کا مرکز اپنی ریاست ہوتی ہے۔ انہیں میثاق جمہوریت کی ضرورت پڑتی ہے نہ میثاق معیشت کی۔کتنے دُکھ کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ہرجانے والی حکومت آنے والی سرکار کی راہ میں جتنی رکاوٹیں کھڑی کرسکتی ہے کرتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے دفتروں میں بھی جب سربراہ تبدیل ہوتا ہے۔ تو جانے والا آنے والے سے باقاعدہ ملتا ہے۔ چارج دیتا ہے۔ ہمارے حکومتی یا مملکتی سربراہ جب تبدیل ہوتے ہیں ۔ تو آج تک کوئی ایسی رسم نظر نہیں آئی۔ کسی برطرف معزول یا شکست خوردہ وزیر اعظم کی نو منتخب وزیر اعظم سے رسمی ملاقات کا کوئی تصوّر نہیں ہے۔ نہ ہی صدر مملکت کی تبدیلی کے وقت ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایک تصویر شہید ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل یحییٰ خان کی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔ دونوں دستخط کررہے ہیں۔ غلام اسحاق خان پیچھے کھڑے ہیں۔ اس سے اندازہ کرلیں کہ جانے والوں اور آنے والوں کے درمیان کس نوعیت کا رشتہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا کسی تسلسل اور استحکام کی اُمید رکھی جاسکتی ہے اور رہے بیورو کریٹ۔ وہ سب نئے حکمران کے رابطے تلاش کررہے ہوتے ہیں کہ کس طرح ان کی خوشنودی حاصل کرلیں۔ جس طرح آج کل نعیم الحق صاحب کے رابطے سب سے زیادہ تلاش کیے جاتے ہیں۔اس خلفشار میں عمران خان دنیا کے مشکل ترین ملک کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ ان کو مسلسل Electedکی بجائے Selectedکہا جارہا ہے۔ ملک جن سیاسی۔ معاشی اور جغرافیائی دشواریوں سے دوچار ہے اس کے لیے جس تدبّر۔ تربیت کی ضرورت ہے۔ وہ ظاہر ہے کہ وزیراعظم میں ہے نہ ان کی ٹیم میں۔ بہت سے تو ابھی تک کھلنڈرے پن سے نہیں نکلے ہیں۔ ان کے انداز گفتگو میں وہی بے احتیاطی۔ سطحی پن ہے جو اپوزیشن میں ہوتےہوئے ہوتی تھی۔ عمران خان بے باک ہیں لیکن تاریخ پر ان کی گہری نظر نہیں ہے۔ ریاست مدینہ کا بار بار ذکر کرتے ہیں۔ مگر اس دَور کے واقعات اسباب طرز حکومت پر انہوں نے تحقیقی کتابیں نہیں پڑھیں۔ یہ نظام تو 1500سال میں کبھی بھی کسی ملک میں دہرایا نہیں جاسکا ہے۔کیونکہ آنے والے مسلم حکمراں عمران خان سمیت ان جیّد ہستیوں کے پائوں کی دھول بھی نہیں ہیں۔ عمران خان آج کل کے کسی کامیاب رول ماڈل کو سامنے رکھ لیں۔ ملائشیا۔ ترکی۔ ویت نام۔ انڈونیشیا۔ اس پر عملدرآمد ان کے لیے آسان ہوگا۔ اور کسی گستاخی کا احتمال بھی نہیں ہوگا۔ ان کی کچن کابینہ میں جو شخصیات ہیں۔ان کا بھی ملک یا صوبہ چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ نہ ہی انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔اس لیے ہر بحران کے بطن سے نئے بحران پیدا ہورہے ہیں۔ ان کی نیت درست ہے۔ کرپشن ختم ہونی چاہئے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ لیکن یہ پہاڑ سر کرنے کے لیے جیسی کوہ پیما ٹیم کی ضرورت ہے اس کی تشکیل بھی کریں۔ اس انتشار کے اندر کئی صوبائی علاقائی نسلی انتشار کروٹیں بدل رہے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت سر اٹھا سکتے ہیں۔

( بشکریہ روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker