سوشل میڈیا اور موبائیل کیمرہ بڑی غنیمت ہے کیونکہ اس کے ذریعے بعض اوقات ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو مفاد عامہ میں تو بہت اہم ہوتی ہیں مگر شائد الیکٹرانک میڈیا اسے اپنے مفاد یا ان کے پالنہار کے مفاد میں نہیں ہوتا ۔ایسی ہی ایک فوٹیج میری دھرتی کے دو بیٹوں منیر الحسینی اور راشد چانڈیہ نے کچھ روز پہلے شیئر کی تو میں پوری رات سو نہ سکا اس 72 سیکنڈ کے کلپ نے ہمارے سرمایہ داری نظام ، معاشی بے انصافی ، لوٹ کھسوٹ ، جاگیر داری اور سرداری نظام ، لاقانونیت ،سماجی نا انصافی غربت اور بے بسی پر مبنی معاشرے کا 75 سال کا نوحہ پڑھ ڈالا ویسے معاشرتی کہنا نہیں چاہئے کیونکہ معاشرے انسانوں کے ہوتے ہیں اور اگر یہاں انسان ہوتے تو دھرتی کی بیٹی کو ایسے ” نروار” کی ضرورت نہ ہوتی ۔
سرائیکی بڑی وسیع زبان ہے اور اس کا لفظ نروار معنی اور مطلب کے اعتبار سے بڑا جامع ہے اس کا مطلب ہے کہ نروار کرنے والا شخص ایک ایسا سچا دعویدار ہوتا ہے جس کے دعوے کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے ، مگر جبر استبداد پر مبنی معاشرےاوروہاں کے قاضی گواہیاں طلب کرتے ہیں حالانکہ انکی قطعی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ دعویٰ حق اتنا واضح اور عیاں ہوتا ہے کہ انکو جھٹلایا نہیں جاسکتا مگر اس موقع پر پیش کردہ گواہیوں کو قوانین جبر مسترد کردیتے اور وجہ مذہب اور قسمت کو قرار دیا جاتا ہے اور دعویٰ کرنے والا سوائے خدا کے اور کسی کو بطور گواہ پیش نہیں ہوسکتا ، ماضی گواہ ہے جس جس قاضی نے نروار میں بے انصافی کی وہ مقام لعنت و ذلت سے بچ نہیں سکا تاریخ کے سیاہ پنوں میں اس کا نام لکھا گیا اور خدا نے اس کے لئے ایسا بندوبست کیا کہ پھر کوئی کسی بنیاد پر اس قاضی و حکمران کے عمل اور ناانصافی کی توجیہ پیش نہ کرسکا ۔
سرائیکی دھرتی کی اس بیٹی نے اللہ جانے کس وقت اپنے بچوں کی آنتوں کی بھوک سے "لسکنے” کی آواز سنی یا کسی بیمار کی درد میں کراہنے کی آواز کہ وہ پردے جیسی عبادت کو پیچھے رکھ سادہ برقع میں کہاں سے اپنے اندر ایک دلیر انقلاب پسند مرد لے آئی اور اس نے اس ملک و معاشرے میں پھیلی اندھیر نگری اور ناانصافی کو للکار ڈالا ایسا لگ کہ اس خاتون کی آہ و بکا اور احتجاج شائد ایوان اقتدار کو ہلا دے گا یا شائد خدا کا وہ عذاب جس کے ہم شھر والے متلاشی ہیں اللہ نازل نہ کردے
(شھر کے عذاب متلاشی سے مراد یہ ایک ملا کی خوفناک آوازیں ہیں ہم سیلاب زدگان کی ویڈیو میں لگاتے ہی۔ اور وہ سارے گناہ جو شھروں میں عام ہیں سیلاب کو انکی سزا قرار دیتے ہیں حالانکہ ہمارے گاؤں والے تو شائد ان سے کافی دور ہیں مطلب یہ بھی عجب ناانصافی ہے کہ فحاشی و عریانی ، کم تولنا ، شھروں میں اور سیلاب دہی علاقوں میں
اس فوٹیج میں بی بی نے معاشرتی اور شدید معاشی ناانصافی کو اس لفظ سمو دیا کہ ” اگر یہ جاگیر دار دیتے تو فاضل پور میں کوئی غریب نہ ہوتا ” اور ساتھ عجب درویشانہ لفظ کہا کہ یہ کسی کو کیا دیں گے یہ تو خود ہی بڑے غریب ہیں یہ تو ہم غریبوں سے پہلے لائنوں میں لگے ہوئے ہیں۔
اس سے زیادہ نا امیدی اور بے بسی کیا ہوگی کہ ایک 75 سال کے بعد ایٹمی قوت والا ملک اپنی ایک بیٹی کو اتنی معاشی اور سماجی انصاف کا یقین نہیں دلا سکا کہ وہ کہہ رہی ہے کہ اللہ سائیں ہم غریبوں کو مار دے کہ اس سے زیادہ قیامت اور کیا ہوگی کہ میرے بچے بھوکے اور پیاسے بے چھت بیٹھے اور ماں برقعے میں ان کے لئے در بہ درہو رہی ہے یا اللہ ہمیں موت دے دے اور یہ سب ایک ایسے سیلاب سے جس کی وجہ صرف اور صرف کرپشن ، بد انتظامی ، بجری مافیا اور قدرت سے کھلواڑ ہے اور اس سیلاب نے اتنا بے یقین کردیا ہے کہ اس بی بی اور اس جیسے کروڑوں سیلاب متاثرین کو بے وطنی میں موت و تدفین جیسا خوف بھی لاحق ہے
میں آج سوچ رہا ہوں کہ ہمارا ملک و ملت کیوں قائم ہے تو وجہ شائد وہ خوبصورت جسم و ذہن ہیں جو اس بے سروسامانی اور محدود وسائل کے باوجود ان سیلاب متاثرین کی مدد کررہے ہیں ، لوگ بے گھر افراد کے لئے فون نمبر دے رہے ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں ان افتادگان کا ساتھ دے رہے ہیں
مگر ضرورت ہے حکومتی سطح پر موثر حکمت عملی کی اس لوٹ کھسوٹ اور معاشی ناہمواریاں کو کم کیا جائے ، غریب کو انکا حق اور عزت دلائی جائے اس معاشی ظلم کو اب ختم ہونا چاہئے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بی بی کا نالا و نروار ہمیں تباہ و برباد کردے کیونکہ یہ ایک ایسی ماں کی آواز ہے جس کے بچوں سے جینے کی امید بھی چھن چکی ہے
فیس بک کمینٹ

