اختصارئےلکھاریمہتاب حیدر تھہیم

مہتاب حیدر تھہیم کا اختصاریہ:خان صاحب ہم آپ سے کیوں نہ پوچھیں‌؟

ایک ٹرین میں ایک ہٹا کٹا شخص بغیر ٹکٹ کا ٹکٹ سفر کر رہا تھا اور ایک برتھ پر سویا ہوا تھا جیسے ہی ٹکٹ رکھنے والاایک مسافر ٹرین میں داخل ہوا اور اس نے اس ہٹے کٹے آدمی سے کہا کہ بھائی یہ سیٹ تو میری ہے آگے اس شخص نے کہا کہ جانتے ہیں کون ہوں میں تو وہ انسان خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا کہ اس بدمعاش کے منہ کون لگے۔
اسی اثناء میں ایک دفعہ اس قابض مسافر کو ساتھ والے مسافر نے بھی کہا کہ بھائی تم بغیر ٹکٹ کے مسافر ہو تو اس کی سیٹ واپس کیوں نہیں کرتے تو اس نے اس کو بھی یہی کہا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ کون ہوں میں؟ تو وہ شخص بھی ظاہر ہے خاموش ہو کر بیٹھ گیا اسی اثنا میں ایک صاحب ٹرین داخل ہوئے جو غالباً تند خو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سے تعلق رکھتے تھے اس نے جب یہ ماجرہ سنا تو اس قابض مسافر کو متوجہ کرکے سیٹ خالی کرنے کا کہا تو اس نے جواباً غصے میں کہا کہ تم جانتے نہیں کون ہوں میں تو آگے ان صاحب نے اتنے ہی غصے سے پوچھا کون ہو تم تو اس قابض مسافر نے سیٹ خالی کرتے ہوئے کہا جی میں بیمار ہوں
ہمارے ہاں بھی ایک لاڈلا چار سال تک اقتدار کے مزے لوٹتا رہا اور خوب ساتھیوں کو نوازا مگر اب اس کو امکان نظر آرہا ہے احتساب کا تو کبھی بین الاقوامی سازش کی کہانی اور میری جان کو خطرے کا شوشہ ۔
میری جان کو خطرہ ہے۔ مجھ سے 4 سال کی تباہی اور بربادی کا نہ پوچھو۔ مجھ سے فرح گوگی کی کرپشن اور اس میں سے بشری بی بی کو نذرانہ کے طور پر جو حصہ ملتا رہا ہے اس کا نہ پوچھو۔ میرے وزرأ کے اثاثے 250فی صد تک بڑھے اس کا بھی نہ پوچھو۔ کرونا فنڈ کے 1200 ارب کا نہ پوچھو۔ 20000 ارب کا قرضہ لے کے کہاں لگایا مت پوچھو۔ رنگ روڈ جیسے کرپشن سکینڈل کا تو ذکر بھی مت کرو۔ مجھ سے چینی کیسے55 سے 110 کی ہوئی نہ پوچھو۔ ۔مجھ سے آٹا کیسے35 سے 75 کا ہوا نہ پوچھو۔ ڈالر کیسے 105 سے 189 کاہوا نہ پوچھو۔ پیٹرول کیسے 70 سے 160 کا ہوا نہ پوچھو۔ فی یونٹ بجلی کیسے 8 روپے سے 21 پہ پہنچی نہ پوچھو۔ مہنگائی کی شرح 4 فی صد سے 14پر کیسے پہنچی مت پوچھو۔ خبردار اگر کسی نے مجھ سےایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھروں، 350 ڈیموں، 200 یونیوسٹیوں اور 150 نئے ہسپتالوں کا پوچھا۔ کیونکہ میری جان کو خطرہ ہے۔
مگر خان صاحب آپ کی بیڈ گورننس اور بد اعمالیوں کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے ، آپ کی نفرت کی سیاست سے پوری قوم کی جان کو خطرہ ہے ۔پاکستان کے اداروں کیخلاف بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آپ کسی بین الاقوامی سازش کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔آپ کو کسی نہ نہیں ہٹایا آپ کے غرور اور لاپرواہی نے ہٹایا ، اور اب آپ ایک نفرت کے جس کھیل میں قوم کو داخل کر رہے ہیں اس کے اثرات آنے والی نسلیں بھگتیں گی ، اللہ جانے آپ کی جان کے خطرے والے ڈرامے میں کتنی حقیقت ہے مگر پاکستانی معیشت کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اس کی وجہ آپ ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker