لاہور:وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے۔
لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈز کو سزا دینا ناگزیر ہے، ایک شخص کو سہولت دینے کے لیے جو کانٹے بوئے گئے اس کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ کیا ملکی معیشت کی تباہی و بربادی کے فیصلوں پر تنقید ہونی چاہیے۔
میاں جاوید لطیف نے کہا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات میں ملوث سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے، ایسے لوگوں کو چوک چوراہوں میں سنا اور لٹکایا جائے ،یہ ایک ادارے پر نہیں پاکستان کی ریاست اور سلامتی پر حملہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم شروع دن سے کہہ رہے تھے کہ سہولت کاری ہو رہی ہے جو آج ثابت ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف ان لوگوں کو سزا دینا نہیں بلکہ ہمارا ہدف فیصلہ کر کے تفریق پیدا کرنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کی آڑ میں پاکستان کی جو تباہی انہوں نے کرنی تھی وہ آج ثابت ہو گئی،9 اور 10 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو کوئی رعایت ملی تو قوم اسے برداشت نہیں کرے گی۔
میاں جاوید لطیف نے کہا کہ خود احتسابی کا عمل ایک اچھا عمل ہے ،یہ پاکستان کی پریشان حال قوم کے لیے نوید ہے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایک طاقتور ادارہ اپنی خود احتسابی کا عمل شروع کرتا ہے تو خوش آئند ہے، دیگر اداروں کو بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے ، ایک ادارے نے خود احتسابی کر کے دوسروں کے لیے مثال قائم کی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے انصاف فراہم کرنے والا ادارہ بھی اس عمل سے گزرے گا، جن لوگوں نے صرف ایک شخص کو تاج پہنانے کے لیے غلط فیصلے کئے وہ بھی خود احتسابی سے گزریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حاضر سروس کے ساتھ ساتھ اس پراجیکٹ کو لانچ کرنے والوں کو گرفتار کر کے سزا نہ ملی تو خدانخواستہ 9 مئی جیسا واقعہ دوبارہ ہو سکتا ہے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئی ادارے میں ہو یا باہر ہو پاکستان سب کو مقدم ہے ،اداروں میں بیٹھے لوگوں پر ماضی میں بھی تنقید ہوتی رہی ہے ، جن فیصلوں سے پاکستان کے حالات خراب ہوتے ہیں ایسے فیصلوں پر تنقید کرنا لازم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جو پٹیشن لے کر گئے ہیں کہ آرمی ایکٹ کے تحت سزا نہیں ہونی چاہیے، ان سے پوچھنا چاہیے کہ آرمی ایکٹ کب بنا تھا ، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں پاکستان کا قانون جائے بھاڑ میں انہوں نے صرف ایک شخص کو بچانا ہے ، ایسے لوگ جو گرین کارڈ ہولڈر بننے کی خواہش رکھتے ہیں وہ اس کا ساتھ دے رہے ہیں ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سہولت کاری کے ثبوت مل چکے ہیں ایک بندے کو بچانے کے لیے پاکستان کی تباہی کی جا رہی ہے، 9مئی کے فیصلوں کے حوالے سے اس کلچر کو روکیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہاکہ پارٹی قائد نواز شریف ڈھائی گھنٹے کی دوری پر ہیں جلد پاکستان آکر انتخابی اتحاد سے متعلق خود بتائیں گے، نواز شریف کا ماضی گواہ ہے کہ جب جب وہ حکومت میں آئے ملک میں ترقی اور خوشحالی آئی، ان کی فہم و فراصت، تجربہ اور عالمی سطح پر اعتماد ملک کو دلدل سے نکال سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں ملک کی بربادی ہوئی ، ان کے دور میں ہونے والے ملکی نقصان کی لمبی فہرست ہے ، پی آئی اے کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت کے ایک فیصلہ سے اس اہم قومی ادارے کو 67 ارب سالانہ کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بھنور سے نواز شریف ہی نکال سکتے ہیں ۔
میاں جاوید لطیف نے کہا کہ قوم کے ساتھ اداروں میں بیٹھے لوگ بھی حالات کو دیکھتے ہوئے مان رہے ہیں کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان کا چلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ،ابھی وہ باہر بیٹھ کر ہدایت دے رہے ہیں تو روس سے تیل اور گیس آ رہی ہے،جب نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بنیں گے تو ملک میں خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ( ن ) نے ماضی میں دو بار بغیر انتخابی اتحاد کے دو تہائی اکثریت حاصل کی، 2018 میں پنجاب میں اکثریت کے باوجود ہمیں حکومت نہیں بنانے دی گئی ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج ملک میں ووٹر آزاد ہے یہی نواز شریف کا نعرہ تھا کہ ووٹ کو عزت دو۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف کا خیال ہے کہ پچھلے چار پانچ سالوں میں جس پارٹی ورکر نے وفا کی اس کو ٹکٹ دی جائے گی ،نواز شریف پچاس فیصد نئے چہرے آگے لانا چاہتے ہیں ،موجودہ اراکین اسمبلی جو پارٹی کے ساتھ مکمل طور پر نہیں چلے ان کے حوالے سے بھی فیصلہ نواز شریف کریں گے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

