تجزیےعامر  ذکاء الدینلکھاری

جرمنی ، کسی حکومت کے بغیر ترقی کی راہوں پر ۔۔ عامر ذکاء الدین

یورپی یونین کا طاقت ور ترین ملک ایک سو چالیس دن سے بغیر کسی حکومت کے ہے۔جرمنی کے موجودہ سیاسی بحران سے پیشتر جرمنی میں نگران حکومت کا اوسط دورانیہ چالیس دن رہا ہے ۔ستم ظریفی یہ کہ یورپ کے چھوٹے ملکوں کو حکومتی امور سے متعلق ہدایات دینے والاطاقت ور ترین ملک بغیر کسی حکومت کے ہے۔ انتخابات کے چار ماہ گزرنے کے بعد جرمنی میں ہارس ٹریڈ نگ عروج پر ہے۔انجلا مرکل واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اور یوں ایک معلق ایوان میں انہیں اتحادیوں کی ضرورت ہے۔متعدد سیاسی جماعتوں سے جاری مذکرات اپنے انجام کو پہنچتے نظر آرہے ہیں ۔ وہ بھی اس صورت میں جب جرمنی کی غیر معروف اور نسبتا کم نمائندگی والی سیاسی جماعتیں بھی اہم وزارتوں کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گی ۔
شہری زندگی
جرمنی میں شہری زندگی کے روز مرہ معمولات خوش اسلوبی سے چل رہےہیں اور نئی حکومت بنانے میں سیاست دانوں کی ناکامی کے باوجود مقامی سطح کے فیصلوں پر حکومت کی عدم موجودگی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑرہا۔ تاہم ایک حالیہ سروے کے مطابق جرمنی کی تقریبا نصف آبادی عاجز آ چکی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انجلا مرکل کو اب دست بردار ہوجانا چاہئے ۔ اس کے باوجود کہ چارماہ قبل انہی افراد نے مرکل کو ووٹ دیا تھا ۔
اقتصادی صورت حال
چارماہ سے زیادہ عرصہ میں غیر یقنی صورت حال کے باوجود جرمنی کی معیشت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ میونخ میں اقتصادی تحقیق کے قومی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کی فی کس آمدنی میں نمایاں اضاٖفہ ہوا ہے۔اگر چہ گزشتہ ماہ کاروباری ماحول میں اعتماد کا فقدان رہا ہے،مگر اس کے باوجود گذشتہ چھ ماہ میں جرمنی کی مجموعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہی نہیں اقتصادی تعاون برائے ترقی کی تنظیم کے مطابق اسی عرصہ کے دوران جرمنی میں نہ صرف یہ کہ بے روزگاری کم ہوئی بلکہ پراپرٹی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بغیر حکومت کے امور مملکت نمٹانے کا ریکارڈ
توقعات ظاہر کی جارہی ہیں کہ 5 مارچ کو انجلا مرکل کی نئی حکومت کا آغازہو گا۔ یہ اس صورت ممکن ہوگا کہ آئندہ ہفتہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت مکمل ہو۔اس طرح 160 دن کے بعد جرمنی میں حکومت دوبارہ قائم ہوجائے گی ۔یہ پہلا موقع نہیں کہ حالیہ تاریخ میں کوئی ریاست بغیر حکومت کے اتنا طویل عرصہ تک معلق رہے۔گزشتہ برس ہالینڈ میں انتخابات کے بعدمذاکرات میں225دن لگ گئے اور بیلجیم میں 2011سے 2010 کے درمیان نئی حکومت کے قیام میں 589دن لگے۔
یورپی یونین
یورپی سیاست میں بھی معاملات بلا تعطل نمٹائے جارہے ہیں۔ اگر چہ فرانس کے صدر مکراں یورپی ترقی کی کوششوں میں شدت سے جرمنی کا فعال کردار چاہتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا یورپ کے رہنما ملک کو کسی رہنما کی ضرورت نہیں ؟
جرمن تاریخ میں بغیر سیاسی لیڈر کے چار ماہ کی حکومت ایک غیر معمولی بات ہے۔ مگر بیشتر یورپی ممالک اس تجربے سے ناآشنا نہیں۔
( بشکریہ: کرنٹ افیئرز ڈائجسٹ )

 

 

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker