اے پی پی ملتان کا پرانا دفتر ڈیرہ اڈا ویگن اسٹینڈ کے سامنے ایک دکان کی دوسری منزل پر تھا اور اس دفتر کی سیڑھیاں ایک تنگ و تاریک گلی کی آخری نکڑ پر ہوتی تھیں ۔ ویگن اسٹینڈ پر ہر وقت گہما گہمی لگی رہتی تھی ۔ صبح نماز کے بعد ہی کلینروں کی آوازیں آنا شروع ہو جاتیں تو دوسری طرف ہوٹل والے بھی اپنا سٹال سجا لیتے اور وہاں لوگ ناشتہ کرنے اور چائے پینے پہنچ جاتے اورپھر رات گئے تک رونقیں رہتیں۔
اب تو ویگن اسٹینڈ بھی ناگ شاہ چوک کے قریب منتقل ہو چکا ہے البتہ یہاں پر سینٹر ی کی مارکیٹ بن گئی ہے مگر وہ رونقیں بحال نہیں ہو سکیں۔ یہ دفتر دو کمروں کا ایک چھوٹا سا مکان تھا۔ ایک کمرہ اسٹیشن منیجر کے لئے مختص تھا جبکہ دوسرے کمرے میں رپورٹر ، فوٹو گرافر اور کلرک بیٹھتے تھے جبکہ نائب قاصد برآمدے میں رکھے بنچ پر بیٹھتے تھے۔صحن میں ایک ”گھڑونجی “پڑی ہو تی تھی جس پر مٹی کا گھڑا رکھا ہو تا تھا اور نائٹ شفٹ والے نائب قاصد کی ڈیوٹی میں شامل تھا کہ روزانہ اس گھڑے کو دھوکر اس میں تازہ پانی بھرے کہ ہم لوگ اسی گھڑے سے پانی پیتے تھے البتہ بعد میں اس کے ساتھ ہی ایک واٹر کولر بھی رکھ دیا گیا ۔ دفتر کا عملہ جب بھی ڈیوٹی پر آتا تو اپنی سواری نیچے گلی میں کھڑی کر کے اوپر دفتر آتے اور اکثر وہاں سے نائب قاصدوں کی سائیکل چوری ہو جایا کر تی تھی ۔
2005 کی اس تصویر میں تین شخصیات جن میں محمد اقبال مفکر جو کہ اسٹیشن منیجر کے عہدے پر تعینات تھے اور میرے محسن بھی کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں انہی کی وجہ سے ہوں ۔ غضنفر علی شاہی اردو رپورٹر تھے اور خلیل احمد خانزادہ انجینئر سپر وائزر کے عہدے پر تعینات تھے۔ اب یہ تینوں شخصیات اس دنیا میں نہیں رہیں۔
دوسر ی جانب سید رضوان امیر گیلانی اور مقبول حسین تبسم اردو رپور ٹر ، محمد سرور بخار ی آئی ٹی سیکشن کے انچارج ، شیخ محمد اشفاق اور شیخ ظفر اقبال نائب قاصد ریٹائرڈ ہوگئے ہیں جبکہ محمد سلیم خان اردو رپورٹر ،محمد جاوید اقبال اور چوہدری محمد طارق کا تبادلہ اسلام آباد ہو چکا ہے ۔غلام محمد کاشف جو کہ نائب قاصد تھے وہ انٹرنل ارینجمنٹ کے تحت ویڈیو نیوز سروس میں کام کر رہے ہیں۔ افتخار احمد قاضی اس وقت انگریزی رپورٹر تھے جو کہ اب اسٹیشن منیجر کے عہدے پر ترقی پا چکے ہیں ۔اے پی پی ملتان میں اردو سروس صغیر احمد وڑائچ نے بطور اردو رپورٹر شروع کی جو کہ کنٹریکٹ پر تھے یہ الگ بات ہے کہ انہیں خبریں مقبول حسین تبسم بنا کر دیتے تھے ۔صغیر وڑائچ بعد میں محکمہ تعلیم میں بھرتی ہو گئے۔اسی طرح ملتان اے پی پی میں فوٹو سروس کا آغاز حسن محمود ڈھڈی نے کیا مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب وہ پہلے دن دفتر آئے تو کیمرہ ساتھ لائے تھے اور اے پی پی ملتان کی جو سب سے پہلی فوٹو شائع ہوئی وہ ملتان آرٹس کونسل کی عمارت کی تصویر تھی جو کہ دی نیشن اخبار میں شائع ہو ئی تھی ۔حسن محمود نے اپنے شعبے میں بڑا نام کمایا اور بعد میں ان کا بھی تبادلہ ہو گیا ۔جب وہ ملتان سے جانے لگے تو سب سے زیادہ الوداعی پارٹیاں ان کے اعزاز میں منعقد کی گئیں۔یادوں کا ایک سلسلہ ہے جو اس تصویر کی وساطت سے مجھے اسی منظر اور دفتر میں لے گیا ۔ جو لوگ اس جہان میں نہیں ان کی مغفرت اور دیگر احباب کی سلامتی کی دعائیں
فیس بک کمینٹ

