پنجابتجزیےسرائیکی وسیبلکھاریمختار پارس

نئے صوبے یا اختیارات کی منتقلی؟ سوچ وچار / مختار پارس

میرا بیس سال کا حکومتی امور کا تجربہ ہے اور میں نے جاپان، جرمنی، کوریا اور انگلستان کے نظامِ حکومت کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ میری تعلیم اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کو مزید صوبوں کی نہیں، بلکہ اختیارات کی ضلع یا ڈویژن کی سطح پر منتقلی کی ضرورت ہے۔ دنیا آہستہ آہستہ اس ماڈل کی طرف جا رہی ہے جہاں ‘ شہر’ اپنی پہچان بنائیں گے اور اپنے لوگوں کی اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ بد قسمتی سے ملک میں اختیارات کا نچلی سطح پر منتقل کرنے سے متعلق ہمارا اتفاق نہیں ہو سکا۔ زیادہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں سب سے زیادہ مخالفت صوبائی حکومتوں کی طرف سے ہی سامنے آئی ہے۔ بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی ضلعی حکومتوں کو مکمل با اختیار کر دیں تو نہ صرف عوام کا بھلا ہو گا بلکہ نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
اس وقت جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی گفتگو پھر شروع ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ یہ گفتگو کسی نقطے پر منتہج نہیں ہو سکے گی کیونکہ ماضی میں اس معاملے میں سیاسی گفتگو زیادہ ہوئی اور عملی کام کم ہوا۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ حکومت بہت نیک نیتی سے جنوبی پنجاب کے عوام کی صورتحال کو بہتر کرنا چاہتی ہے۔ معاملہ اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا ہے اور کچھ نہیں۔ ابھی چند دن پہلے جنابِ وزیرِاعظم نے خود یہ بات کہی کہ شہر لاہور اس لیے زیادہ ترقی یافتہ ہے کیونکہ سارے صوبے کے وسائل کا بیشتر حصہ اس شہر کی ترقی پر خرچ ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کوئی ہرج بھی نہیں کیونکہ بڑے شہر اسی طرح وجود پذیر ہوتے ہیں اور لوگ جب بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں تو ان کی دیکھ بھال کےلیۓ انتظامات اسی پیمانے پر کیے جاتے ہیں۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ملک اس بات کا انتظام کرے کہ ہر شہر کے شہری کو زندگی کی ہر سہولت میسر ہو اور اس کو اپنے مسائل کے حل کےلیۓ کسی دوسرے شہر نہ جانا پڑے۔ یہ وقت نئے صوبوں کی تشکیل کی گفتگومیں ضائع کرنے کا نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کے اس نظام کو متعارف کروانے کا ہے جہاں ضلع کے سارے حکومتی امور اسی ضلع میں طے ہوں۔ میرا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ پنجاب میں اختیارات کو ڈویژن کی سطح پر منتقل کرنے کے تجربے کو کر گزریں اور ملک کے زریں مستقبل کی داغ بیل رکھ دیں۔
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ انتظام قابل عمل نہیں کہ کچھ افسران ملتان میں بیٹھیں اور کچھ بہاولپور میں دفتر لگائیں۔ اس سے لوگوں کو کیا حاصل ہو گا۔ ملتان اور ڈیرہ غازیخان سے لاہور جانا ہو یا بہاولپور، سفر تو درپیش ہو گا۔ ملتان اور بہاولپور کی بحث میں کہیں ہم ایک اہم پیشرفت سے محروم نہ ہو جائیں جو حکومتِ وقت عوامی امنگوں کے مطابق عمل پذیر کرنا چاہتی ہے۔
اگر حکومت کا مقصد جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کے حقوق، وسائل اور اختیارات دینا ہے تو پھر یہ اختیارات ڈویژن کی سطح پر تفویض کر دیے جائیں اور پنجاب کے سارے ڈویژن مقامی حکومت کی طرز پر ترتیب دے دیے جائیں۔ پنجاب میں اس وقت نو ڈویژن ہیں؛ لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاول پور اور ڈیرہ غازیخان۔ ان نو ڈویژنوں کا رقبہ اور آبادی اس نوعیت کی ہے کہ یقیناً ان کو نو مختلف انتظامی حصوں میں متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے کامیاب تجربہ جاپان کا ہے جہاں جب کسی ایک شہر کی آبادی پچاس لاکھ سے زیادہ تجاوز کرتی ہے تو اس شہر کو صوبے کا درجہ دے دیا جاتا ہے تاکہ شہریوں کی دیکھ بھال اچھے طریقے سے ہو سکے۔ کیا پنجاب اختیارات اور وسائل ان ڈویژنوں میں منتقل کرنے کو تیار ہے؟ اس طرح پنجاب کا صوبہ بھی قائم رہے گا اور نئے صوبے بنانے کا جواز بھی نہیں رہے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو سیاسی چپقلش میں اضافے کا اندیشہ رہے گا اور حکومت کی نیک نیتی پر مبنی یہ کوشش ضائع ہونے کا خدشہ رہے گا۔
سوال یہ ہے کہ ڈویژن کی سطح پر حکمران کون ہو گا اور وہ کیا خدمات سرانجام دے گا۔ مشرف دورِ حکومت میں مقامی حکومتوں کا نظام اس لیے ناکام ہو گیا تھا کیونکہ ممبرانِ اسمبلی یہ سمجھتے تھے کہ ضلعی ناظم نے ان کے عہدوں کو بے توقیر کر دیا ہے۔ مشرف کا ضلعی حکومتوں کا نظام اس لیے بھی ناکام ہوا کہ منتخب نمائیندوں کی استعدادِ کار، سرکاری کام کاج کو سر انجام دینے کےلیے کافی نہ تھی۔ پاکستان کے معروضی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوۓ یہ مناسب ہو گا کہ صوبائی حکومت قانون سازی کے ذریعے متعلقہ ڈویژن کو سارے صوبائی محکموں کا کام منتقل کر دے۔ ڈویژن کا سربراہ کمشنر ہی رہے گا اور سارے انتظامی معاملات کا نگران ہو گا۔ ہر ڈویژن میں اس ڈویژن کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کرنے والے ممبران پر مشتمل ایک مجلس عاملہ ہو سکتی ہے جو مالی اور ترقیاتی معاملات کے بارے میں فیصلے کرے۔ مجلس عاملہ کے سربراہ کا چناؤ وزیرِاعلیٰ کر سکیں گے۔ یوں مجلسِ عاملہ اس ڈویژن کے مالی اور ترقیاتی کاموں میں براہِ راست فیصلوں کی ذمہ دار ہو گی اور ڈویژنل کمشنر عوامی منصوبوں پر عوامی ترجیحات کے مطابق عملدرآمد کا ذمہ دار بھی ہو گا اور انتظامی امور کا سربراہ بھی۔
اگر صورتحال کو دانشمندی سے نمٹنا ہے تو اس سے بہتر تجویز نہیں کہ نیا صوبہ بناۓ بغیر اختیارات ڈویژنل سطح پر منتقل کر دیے جائیں۔ دنیا میں مقامی حکومتوں کے قیام اور فروغ کےلیے بہت تجربات ہو چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتیں اور مقامی نمائیندے معیاری اور موثر کام کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ اس تجویز پر عملدرآمد سے گورننس کی صورتحال بہتر ہو سکے گی کہ لوگوں کو ان کے سرکاری معاملات کا حل ان کے شہر میں دستیاب ہو گا۔ اس نظام سے مقامی حکومت کو اپنے ذرائع اور وسائل بڑھانے کا بھی موقع ملے گا اور ہر ڈویژن اپنی اجناس اور مصنوعات کے حوالے سے دنیا میں اپنی پہچان بنا سکے گا۔ یہ بھی توقع ہے کہ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی دستیاب ہونگے اور لوگوں کو اپنے شہر کی ترقی کےلۓ خدمات انجام دینے کا موقع مل سکے گا۔
سب سے بڑا مسئلہ یہی اٹھے گا کہ صوبے کے وسائل ڈویژن کی سطح پر کس فارمولے کے تحت تقسیم ہوں اور صوبائی دارالحکومت کو فنڈ کہاں سے اور کس حساب سے ملیں گے۔ یہ بھی بہت بڑا سوال ہو گا کہ اس طرح وسائل کی تقسیم کے بعد کیا وہ ڈویژن اس قابل ہونگے کہ اپنے سارے خرچے اخراجات خود پورے کر سکیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ وفاقی حکومت کو صوبوں کو ٹرانسفر کرنے والی گرانٹ میں اضافہ کرنا پڑے گا کیونکہ اب صرف ایک شہر نہیں، بلکہ نو بڑے شہر پنجاب میں ترقی میں مقابلہ کریں گے۔ حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق نے یہ دکھایا ہے کہ پنجاب کے ہر ڈویژن میں غربت کے مختلف زاویے ہیں اور اگر ڈویژن کی سطح پر وسائل کی تقسیم کی بات چلے گی تو وسائل کی تقسیم کا فارمولہ کوئی ایک نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر ڈویژن کی صورتحال کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر ڈیرہ غازیخان، ملتان اور سرگودھا میں معیار زندگی کو بہتر بنانا ہدف ہے تو پھر اسے دوسرے ڈویژنوں کی نسبت زیادہ فنڈز درکار ہونگے۔ ہو سکتا ہے وسائل کو ہر ڈویژن کی جی ڈی پی، شرح خواندگی، صحتِ عامہ اور آبادی کے تناسب سے تقسیم کرنا پڑے۔ مندرجہ ذیل اعداد و شمار اہلِ نظر کو دلچسپ تجزیہ کی دعوت دیتے ہیں۔ پنجاب کی آبادی کوئی گیارہ کروڑکے لگ بھگ ہے اور صوبے کو ہر سال اندازاً 374 ارب کی آمدنی ہوتی ہے۔ اگر یہ پیسہ فی کس حساب سے تقسیم کیا جاۓ تو ایک شخص کے حصے میں 12477 روپے آتے ہیں۔ پسماندہ ڈویژنوں کے حصے میں اس وقت یہ رقم 477 روپے فی کس کے حساب سے بھی نہیں دی جاتی۔
chart divisions
یقیناً حکومت کو ان ڈویژنوں میں آمدنی کے نئے ذرائع متعارف کروانے کا بندوبست بھی کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے کامیاب تجربات سے حوالے بھرے پڑے ہیں۔ یہ سارے کام ہو جائیں گے۔ پہلے آپ اس بات پر تو آ جائیں کہ پنجاب میں ڈویژنل سطح پر اختیارات کا منتقل کرنا نئے صوبے بنانے سے بہتر تجربہ ہو گا۔ آپ کیا کہتے ہیں؟؟؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker