کالمگلگت بلتستانلکھاریمستنصر حسين تارڑ

’’شمال کے شیدائی‘ سودائی‘‘۔۔ہزار داستان/مستنصر حسین تارڑ

کم از کم میں تو اس حقیقت سے انکار کر کے کافر نہیں ہونا چاہتا کہ پاکستانی شمال ایک سحر انگیز خطہ ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بندے کو سودائی کر دیتاہے۔ شیدائی کر دیتا ہے۔ جونہی موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے۔ فیئری میڈو کی برفوں میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول نمودار ہوکر بہار کی نوید دیتا ہے۔ کرومبر جھیل پر چلتے ہوئے یاکوں کے قافلے محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سموں تلے جو منجمد برف تھی اس کے پگھلنے کے دن آ گئے ہیں۔ پھنڈر جھیل کے پانیوں میں ٹراؤٹ مچھلیاں اچھلنے لگتی ہیں۔ اور سنولیک کی برفوں پر پہلی تتلیاں اڑان کرنے لگتی ہیں تو وہ دن ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دل عشاق کی خبر لینا۔ پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں تو یہ وہ دن ہوتے ہیں جب شمال کے شیدائیوں کے دلوں میں پہاڑیوں کے جنون کے پھول کھلتے ہیں اور وہ بیتاب اور بے اختیار ہو کر ان خطوں کا رخ کرتے ہیں۔ میں تذکرہ کر چکا ہوں کہ ’’ہرکاش ناقابل فراموش‘‘ کی کوہ نوردی سے پیشتر گلگت بلتستان کے چیف منسٹر نے ازراہ کرم نہ صرف مجھے شمال کے بارے میں پندرہ کتابیں تحریر کرنے کے ’’جرم‘‘ میں ایک خصوصی ایوارڈ سے نوازا بلکہ شمال کے بارے میں ہر برس بہترین ڈاکومنٹری اور بہترین کتاب تخلیق کرنے پر میرے نام کا ایک ایوارڈ بھی جاری کرنے کا اعلان کیا۔


اللہ جانے اس ایوارڈ نے اعلان کے ساتھ ہی دم توڑ دیا یا وہ ابھی تک جاری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ازراہ تفنن مجھ سے کہاکہ تارڑ صاحب شمال میں جو بیشتر لوگ آئے وہ آپ کی کتابیں پڑھ کر آئے لیکن اب آپ سے درخواست ہے کہ کوئی ایسی کتاب لکھئے جس میں عوام الناس سے التجا ہو کہ پلیز آپ ذرا کم کم شمال آئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس برس عید کے فوراً بعد تقریبا بائیس ہزار کاریں اور کوسٹر شمال میں داخل ہوئے جب کہ گلگت بلتستان میں کل باون ہزارکاریں اور بسیں وغیرہ ہیں تو ہم ان بائیس ہزار کاروں وغیرہ کے لئے اتنا پٹرول کہاں سے لائیں۔ پورے خطے میں ہوٹلوں میں کل چھ ہزار بستر ہیں اور وہ تقریباً پچاس ہزار سیاحوں کے لئے کیسے کافی ہو سکتے ہیں۔ تو ذرا کم کم آئیے۔ ویسے ایک عجب تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ پاکستانی یکدم شمال کے عشق میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ موسم گرما میں سیاحوں کے انبار کاغان کی وادیوں میں جاگرتے ہیں۔ ہوٹلوں میں جگہ نہیں ملتی۔ بال بچوں سمیت ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ ادھر زیادہ تر مقامی آبادی ان سیاح بکروں کی کھال اتارنے کے لئے چھریاں تیز کئے منتظر ہوتی ہے۔ البتہ سکردو‘ گلگت اور ہنزہ وغیرہ میں صورت حال بہت بہتر ہوتی ہے۔ ہنزہ میں جگہ جگہ بورڈ آویزاں ہیں جن پر نمایاں ہوٹلوں کے نام اور ان کے کرائے درج ہیں تاکہ سیاحوں کو آسانی ہو اور وہ زیادتی کی صورت میں انتظامیہ سے شکائت بھی کر سکتے ہیں۔ چونکہ عمران خان بھی کسی حد تک پہاڑیوں کے عشق میں مبتلا ہیں بلکہ کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی پاکستانی سیاحتوں پر مبنی ایک تصویریں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے تو وہ کہیں دیر کی ایک غیر معروف وادی کمراٹ میں چلے گئے جس کی خاطر خواہ تشہیر بھی کی گئی چنانچہ لوگوں نے کمراٹ کا رخ کر لیا۔ ابھی پچھلے دنوں میرے کچھ دوستوں نے فرید‘ صدیقی شہزاد اور شاہد وغیرہ نے بیتاب ہو کر اس غیر معروف وادی کی جانب سفر کیا۔ لاہور سے منزلیں مارتے دیر تک پہنچے۔ وہاں سے نہایت مہنگی جیپ کرائے پر حاصل کی۔


ازحد دشواری کے بعد جانے کہاں پہنچے۔ وہاں سے چار پانچ گھنٹے کا پر اذیت سفر طے کیا اور بالآخر وادی کمراٹ میں قدم رنجہ فرما دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں رہائش کا کچھ انتظام نہ تھا۔ چند ایک خیمے تھے جن میں مہم جو سیاح ٹھنسے پڑے تھے۔ سینکڑوں لوگ جن میں سے کچھ ازراہ حماقت بچوں کو بھی ہمراہ لے آئے تھے۔ انہوں نے آسمان تلے ایک ٹھٹھڑتی ہوئی رات گزاری۔ اگلی سویر معلوم ہوا کہ ناشتے کا کوئی بندوبست نہیں۔ آٹا ختم ہو چکا ہے اور آخری انڈہ تین روز پہلے فرائی ہو چکا تھا۔ فرید نے ازراہ احتیاط دیر سے ایک ڈبل روٹی اور جیم کی بوتل خرید لی تھی جس نے انہیں مکمل فاقے سے بچا لیا۔ چنانچہ توبہ تائب ہو کر کمراٹ سے لوٹ آئے۔ ہمارے ہاں آئے دن سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔ جاہل وزراء اور محکمہ سیاحت کے اہلکار پاکستان میں سیاحت کے امکانات پر بصیرت افروز تقریریں کرتے ہیں کہ پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہے۔ سیاحت کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے لیکن ان جھلائے کرام سے کوئی نہیں پوچھتا کہ فروغ وغیرہ کی کچھ حاجت نہیں۔ آپ پہلے ان خطوں میں سیاحت کا کوئی انفراسٹرکچر تو تیار کیجیے۔ ہوٹلوں اور قیام گاہوں کے لئے منصوبہ بندی کیجیے۔عوام آپ کی تقریروں سے متاثر ہو کر جوق در جوق چلے آتے ہیں اور رہائش کی سہولتوں کا فقدان ہونے کی وجہ سے ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ کچھ تو حیا کیجیے۔ سیاحت کا فروغ نہ کیجئے ۔ خالی بے مغز رٹی رٹائی تقریریں نہ کیجیے۔ سیاحوں کے لئے مناسب سہولتوں کا بندوبست کیجیے۔


موسم گرما میں شمال کی جانب سفر کرنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنے خاندان یا کسی گروپ کے ہمراہ شدید گرمی سے فرار ہو کر چند روز بلند پہاڑوں میں بسر کرنے کے متمنی ہوتے ہیں۔ انہیں تفریح کی خاطر کچھ ہنگامہ کچھ ہلا گلا درکار ہوتا ہے۔ میں نے بابو سر ٹاپ کی شاہراہ پر نہائت ماڈرن خواتین کو کاروں میں سے لٹکتے گاتے دیکھا ہے‘ندیوں کے کنارے رقص کرتے دیکھا ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو شمال کے شیدائی ہوتے ہیں۔ پہاڑوںکے مریض ہوتے ہیں۔ وہ ان کے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں۔ عام لوگ ان کے جنون کو نہیں سمجھ سکتے۔ یوں بھی خرد اورجنوں کا عشق کے معاملوں میں ہمیشہ ایک دوسرے سے بیر رہا ہے۔ مثلاً ہنزہ کے کریم آبادمیں ایک صاحب بیک پیک اٹھائے گلے میں ہائکنگ بوٹ تسموں سے لٹکائے چلے آ رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر رک جاتے ہیں اور الفت کا اظہار کرتے ہیں۔’’تارڑ صاحب میں کراچی کے ایک سکول میں ٹیچر ہوں۔ گرمیوں کی چھٹیاں آتی ہیں تو کو نوروی کا سامان کاندھے پر ڈال کر شمال کی جانب چل دیتا ہوں۔ سکردو یا گلگت سے بلند پہاڑوں میں جانے والی کسی مہم کے لیڈر سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر میں آپ کے پیچھے پیچھے چلتا آئوں۔میرے پاس اپنی خوراک اور ذاتی خیمہ ہے تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔ اکثر وہ بخوشی مجھے ساتھ لے جاتے ہیں لیکن ان کی منزل میری منزل نہیں ہوتی۔ راستے میں کہیں بھی جب کوئی وادی مجھے ویران اور اجنبی لگتی ہے مہم سے جدا ہو کر تنہا اس تنہائی میں داخل ہو جاتا ہوں۔ میں نے ایسے ایسے منظر دیکھے ہیں جو آج تک شائد ہی کسی نے دیکھے ہوں۔ ایک بار ایک ایسی ہی دور افتادہ وادی میں ایک جھیل کنارے خیمہ زن تھا۔ صبح سویرے کیا دیکھتا ہوں کہ خیمے کے آس پاس مارخور گھوم رہے ہیں اور وہ مجھے دیکھ کر ٹھٹھکے نہیں کہ انہوں نے شائد آج تک کسی انسان کو نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے مجھ سے ڈرے نہیں۔ قریب آ کر مجھے حیرت سے تکتے رہے۔(جاری)
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker