پنجابکالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

حویلی بیج ناتھ اور پرنس بمباں سدر لینڈ ۔۔ مستنصرحسین تارڑ

گہرے جامنی رنگ کے لشکیلے پہناوے میں، سیاہ دھاریوں والے ایک بوسیدہ ہوتے گرم سویٹر میں، جامنی رنگ کی ہی چادر اوڑھے ہوئے جس میں سے اُس کے مہندی رنگ بال ایک ایسے چہرے پر نمایاں ہوتے تھے جس پر بہت موسم گزرے تھے اور اُس کی رنگت اگرچہ دُھندلا گئی تھی پر اُس دھند میں پوشیدہ اُس کا دو دھیائی ماضی جھلکتا فریاد کرتا تھا کہ ۔۔۔ کبھی ہم بھی خوبصورت تھے۔۔۔پژمردہ آنکھوں میں کجلے کی دھاریں سیاہ سوگ میں تھیں اور ناک میں شاید چاندی کا بجھتا ہوا ایک کیل بمشکل دکھائی دیتا تھا تو کیا وہاں کبھی ایک نتھلی ہوا کرتی تھی۔ خزاں آلود ہونٹوں پر، ہونٹوں کی رنگ کی ہلکی سی لپ سٹک کا لیپ، ایک اُنگلی کے گرد لپٹا چھلاّ چاندی کا اور کلائی میں ایک سُنہری کڑا جو سونے کا ہو سکتا تھا پر نہ تھا۔۔۔ ایک گم گشتہ تمکنت کی حامل ایک عورت، ایک نرالے انداز کی پُروقار عورت، کسی ایسے سحر کو پوشیدہ کئے ہوئے جس میں گزر چکے زمانوں کی پائل کی چھنک تھی۔ کسی بیت چکے سُندر سپنے کی پرچھائیاں، کسی پریم میں سب کچھ ہار جانے کی جھلکائیاں تھیں۔ وہ ہمارے استقبال کے لئے اٹھی اور اپنے بالوں کا دھیان کیا تو اُس رکھ رکھاؤ میں ماضی کے دھندلکوں میں گمشدہ کسی تہذیب کی سرگوشیاں تھیں۔ ایک ایسی عورت جو آپ سے احترام اور وقار کا تقاضا کر سکتی ہے، وہ کوئی معمولی عورت نہ تھی، وہ ظہیر کاشمیری کے اس شعر کی تفسیر تھی کہ ۔۔۔
ہمارا عشق ہمیں تمکنت سکھاتا ہے
کشیدہ سر بھی ہیں، پابندِ زلف یار بھی ہیں
’’پھولوں والی گلی‘‘کے اختتام پر ایک زمانوں کے قدموں سے روندی گئی گھِس چکی چوکھٹ میں نصب بوسیدگی کا شکار ایک شاہکار بلند دروازہ جو بمشکل دھکیلنے سے کھلتا تھا اُس کے اندر حویلی بیج ناتھ کے قدامت میں سِسکتے درودیوار کی دبیز دیواروں کے اندر مغل اور سِکھ محرابوں والے گھر میں وہ جانے کب سے رہتی تھی، جس کے صحن میں ابھی تک اُن چاروں فواروں کے تالاب کے خشک ہو چکے آثار تھے جن میں سے چاندنی راتوں میں پانیوں کے جھرنے چھوٹتے، حویلی کے وسیع کوٹھے پر اترتے ماہتاب سے بُوندوں کی باتیں کیا کرتے تھے، اور وہاں شالیمار باغ کے آبشاری تختے ایسا ایک مختصر سنگ مر مر کا تختہ سُوکھا پڑا تھا اور کبھی اُس کی ڈھلوان پر بھی پانی اٹک اٹک کر رم جھم کرتے اُس تالاب میں گرتے تھے۔۔۔رم جھم رم جھم پڑے پھوار کی نم آلود تصویراں وجود میں آیا کرتی تھیں۔۔۔اُس قدیم صحن کے ایک کونے میں جو شجر اس خشک ہو چکے پانیوں کے گلزاروں پر سایہ فگن ہوتا تھا، وہ پیپل کا تھا یا برگد کا اس سے کیا فرق پڑتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ ان باغوں میں کبھی جھولے پڑا کرتے تھے۔۔۔وہ عورت جس نفاست اور آراستگی سے حویلی بیج ناتھ کی محرابوں، طاقچوں، بجھ چکے چراغوں، قدیم ظروف اور منقش چھتوں کے بُجھ چکے آئینوں کے تلے حرکت کرتی تھی، وہ مجھے شناسا لگی، دیکھی ہوئی، کسی حد تک جانی پہچانی لگی اگرچہ یہ تو ممکن نہ تھا اور پھر مجھ پر کُھلا کہ وہ تو ’’راکھ‘‘ کی نوراں کی ہمزاد تھی، اگرچہ نوراں میرے تصور کا ایک واہمہ کردار تھا، لال حویلی کے درودیوار میں بھٹکتے ایک خشک ہو چکے فوارے اور اُس کی چھت پر واقع ایک مجرا مقام میں سانس لیتے ہوئے وہ میرے تخیل کے پانیوں میں سے ایک کنول کی مانند ظاہر ہو گئی تھی۔۔۔نوراں محض ایک کردار تھی جب کہ یہ عورت حویلی بیج ناتھ میں نوراں کی مانند جوتیوں کے تلوں میں سریش لگا کر ایڑیاں چسپاں کرنے کی مزدور ی نہیں کرتی تھی، اس حویلی کی مالک تھی۔
’’اور جب وہ کھڑی ہوئی تو اُس کی ایستادگی میں ایک عجیب شاہانہ پن تھا، ایک حُسن کا گم گشتہ غرور تھا۔۔۔ اُس کا سراپا آئینوں میں چلتا تھا۔۔۔ اور کون ہے آئینوں میں۔۔۔بس تُو ہی تُو ہے‘‘۔۔۔ ’’راکھ‘‘
حویلی بیج ناتھ کی شکستہ چھت میں نصب آئینوں کی جو ٹکڑیاں اندھی ہو چکی تھیں اُن آئینوں میں اگر دمک ہوتی تو وہ بھی اس سراپے کا تماشا کرتے۔۔۔ اور کون ہے آئینوں میں۔
اُس عورت کا نام بھی یکتا تھا، خاور خورشید۔۔۔اُس کا کہنا تھا کہ بیج ناتھ دیوان، مہاراجہ رنجیت سنگھ کا بیٹا تھا۔۔۔ اگرچہ یہ قرین از قیاس نہ تھا۔۔۔ بے شک اس شیرِ پنجاب کی اولادوں کا کچھ باقاعدہ شمار نہ تھا کہ وہ اتنا وسیع القلب مہاراجہ تھا کہ اگر اُس کی کسی سرکار مہارانی کے بطن سے کسی بہشتی یا معمولی درباری اہلکار کی کاوشوں سے کوئی برخوردار ظہور پذیر ہو جاتا تھا تو وہ اُسے بخوشی اپنی جائز اولاد میں شامل کر لیتا تھا۔۔۔لیکن اس فراخ دلی کے باوجود بیج ناتھ کسی طور اُس کا بیٹا نہیں ہو سکتا تھا کہ زمانوں کا بہت فرق تھا۔۔۔بیج ناتھ انگریز سرکار کے زمانوں میں لاہور کا نائب ڈپٹی کمشنر ہوا کرتا تھا۔۔۔ اس حویلی کے بارے میں ایک اور امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ بہرطور یہ انگریزوں کے عہد سے پہلے کی تعمیر ہے، بلکہ اس کے درودیوار گواہی دیتے ہیں کہ شاید یہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت سے بہت پہلے شاید داراشکوہ کے زمانوں کے لاہور میں تعمیر کی گئی تھی کہ اس میں مغل عمارتوں ایسی تعمیری آرائشیں اور بناوٹیں ہیں۔۔۔بے شک بعدازاں ان میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔۔۔ جیسے تختِ شاہی پر براجمان ہونے والے شاہ بدلتے رہتے ہیں، تخت نہیں بدلتے، ایسے یہ جو شاہانہ رہائش گاہیں، محلات اور حویلیاں ہوتے ہیں یہ بھی اپنے مکین بدلتے رہتے ہیں۔۔۔خود نہیں بدلتے۔۔۔جیسے میکلوڈ روڈ چوک میں سربلند لکشمی بلڈنگ کے ماتھے پر آویزاں لکشمی دیوی کی مورتی طاقچے میں سے اکھاڑ کر اُسے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک کر اُس کی جگہ ’’ماشاء اللہ‘‘ کی تختی آویزاں کردی جائے تو بھی وہ لکشمی بلڈنگ ہی رہتی ہے، مکینوں کا مذہب اختیار نہیں کرتی۔
حویلی بیج ناتھ کے صحن میں جو آبشاری تختہ اور فواروں کا تالاب ہے یہ شالیمار طرز کی ایک مغل خواب گری ہے۔۔۔اور پھر یہ امکان بھی ہے کہ یہ حویلی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانوں کی ایک یادگار ہے اور چونکہ ابھی مغلوں کو رخصت ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا یہاں تک کہ مہاراجہ کی درباری زبان بھی فارسی چلی آتی تھی یہاں تک کہ اگر آپ آج جیل روڈ کے سیمی قبرستان میں داخل ہو کر دائیں جانب چلتے جائیں تو آپ کے قدموں تلے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پوتی پرنس بمباں سدرلینڈ کی قبر آجائے گی جس کے کتبے پر انگریزی کے علاوہ فارسی زبان کی ایک رباعی درج ہے۔۔۔ چنانچہ مغلوں کی زبان اور فن تعمیر کی پرچھائیاں مہاراجہ کے سنہری عہد کو ابھی تک اجاگر کر رہی تھیں۔۔۔ مہاراجہ کے عہد میں شہرِ لاہور بے شمار پر شکوہ حویلیوں اور رہائش گاہوں سے آراستہ ہوا۔۔۔سکھ سردار، شہزادے، وزیر اور خالصہ فوج کے جرنیل لاہور شہر میں شاندار حویلیاں تعمیر کرنے لگے۔۔۔ جیسے غرناطہ کے ’’البسین‘‘ محلے میں مور مسلمانوں نے مراکو کے طرز تعمیر کو اپنا کر حویلیاں تعمیر کیں، آگرہ کے نواح میں مغل شہزادوں اور وزیروں نے بے مثل رہائش گاہوں کی بنیاد رکھی ایسے ہی لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں شاہانہ تعمیرات کا آغاز ہوا۔
بے شک حویلی بیج ناتھ، شہر لاہور کی سب سے یادگار اور خوش نظر حویلی دھیان سنگھ اور حویلی نونہال سنگھ کی ہمسری تو نہ کرتی تھی، اُن کے مقابلے میں یہ ہیچ ہے لیکن اس کی پوشیدہ سحر انگیزی اور سامری جادوگری میں بھی کچھ کلام نہیں۔
وہ عورت، خاور خورشید اُس حویلی کے دربار ہال یا مرکزی حصے کی وسعت میں ایک متروک شدہ مہارانی کی مانند ایک عجب چال سے چلتی تھی اور جب کھڑی ہوتی تھی تو اُس کی کاجل زدہ آنکھیں ہم سے داد طلب کرتی تھیں کہ دیکھو میں کیسے ایک فراموش کردہ خاموش جہان میں رہتی ہوں۔
محراب در محراب۔۔۔صحن کی جانب کھلتے دروازوں کے چوکھٹوں میں نصب رنگین، سرخ، زرد، سبز اورنیلے شیشے جن پر صحن میں پھیلے ہوئے شجر کے پتے نقش ہوتے تھے۔۔۔بھڑکیلے رنگوں کے قدرے عامیانہ پردے، پرانے صوفے جن کی بوسیدگی جھالروں والی چادروں سے ڈھکی ہوئی تھی، طاقچوں میں بجھے ہوئے چراغ، فرش پر بچھے ہوئے اپنے رنگ کھو چکے قالین جن پر چھت سے پیوستہ شکستہ چوبی نقش اور اُن میں جڑے ہوئے اندھے ہو چکے شیشے گرتے رہتے تھے.

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker