کالمکتب نمالکھاریمستنصر حسين تارڑ

’’بغداد کا فرینکن سٹائن اور لاشوں کو نہلانے والے‘‘: ہزارداستان / مستنصر حسین تارڑ

میں تذکرہ کر رہا تھا ان مسلمان ناول نگاروں کا جو میری نظر میں مارکیز‘ سراماگو اور میلان کُندیرا کے نہ صرف ہم پلہ ہیں بلکہ اسماعیل قدارے البانیہ کا ان پر بھی سبقت رکھتا ہے۔ میرا گھرانہ کچھ ترکی ترکی سا ہے یعنی میرے بڑے بیٹے کا نام سلجوق ہے اور بڑے پوتے کا نام ترک ناول نگار یاشار کمال کے نام پر یاشار ہے ۔ سلجوق جن زمانوں میں نیشنل کالج آف آرٹس میں آر کی ٹیکچر کا طالب علم تھا وہ اپنے کلاس فیلوز کے ہمراہ ترکی کی سیاحت پر گھر سے نکلا۔ اور پہلی بار گھر سے نکلا تب میرا دل ڈوب ڈوب جاتا تھا اور جب میں نے اسے سفر کے لیے اپنا نک سک پیک کرتے دیکھا تو بالکل ہی ڈوب گیا کہ ہائے میرا بچہ ایک اجنبی دیس میں دربدر ہو گا۔ جی چاہا کہ اسے روک لوں اور پھر خیال آیا کہ بھائی جان ذرا نصف صدی پیشتر کے فلیش بیک میں چلے جائیے۔ جب آپ اپنا نک سک اٹھا کر دربدر ہونے کے لیے نکلتے تھے تو کیا آپ کے ابا جی کا دل نہیں ڈوبتا تھا۔ تو وہ کیا کہتے تھے سیانے کہ باپ پہ پوت‘ پتا پہ گھوڑا۔ بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا تو سلجوق اگر بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا تم پر گیا ہے۔ اسے مت روکو۔دل کو ڈوب جانے دو …میں نے سلجوق کے نک سک میں اپنا سفر نامہ ’’خانہ بدوش‘‘ رکھا اور کہا بیٹے استنبول پہنچ کر وہاں میرے پسندیدہ ناول نگار یاشار کمال کو تلاش کرنا کہ وہ اس شہر میں رہتا ہے اور اسے میرا سفر نامہ پیش کر کے کہنا کہ یہ آپ کے ایک پاکستانی مداح کی جانب سے ہے آپ اسے پڑھ نہیں سکتے نہ سہی۔ اپنی لائبریری کے ڈھیر میں بے تُک پھینک دیجیے میرے لیے یہی کافی ہو گا۔ سلجوق واپس آیا تو کہنے لگا، ابا جی آپ تو مجھے مروانے لگے تھے۔ میں یاشار کمال کا ایڈریس حاصل کرنے کے لیے استنبول کے پریس کلب میں پہنچا کہ وہاں کے صحافی اور ادیب مجھے اس کے گھر تک بخوشی پہنچا دیں گے۔ لیکن جونہی میں نے یاشار کمال کا نام لیا تو ہر سو سناٹا چھا گیا۔ ایک نوجوان ترک صحافی مجھے کلب سے باہر لے گیا اور کہنے لگا۔ اے پاکستانی طالب علم تم نے یہ کیا غضب کیا۔ یاشار کمال کا نام لینا یا اس کا تذکرہ ترکی میں کرنا تقریباً ایک جرم ہے کہ وہ ایک کرد ہے۔ چپکے سے چلے جائو ورنہ ممکن ہے کہ تم کسی مصیبت میں پڑ جاؤ‘‘ اس دورے کے دوران سلجوق خصوصی طور پر اپنے ہم نام شہر ’’سلجوق‘‘ گیا تو وہاں سے ایک تصویری پوسٹ کارڈ روزانہ کیا جس کی پشت پر لکھا تھا ’’سلجوق فرام سلجوق‘‘ اب منظر نامہ تبدیل ہوتا ہے۔ بہت عرصے کے بعد چھوٹا بیٹا سمیر بھی کسی سلسلے میں استنبول جا رہا ہے اور میں اس سے فرمائش کرتا ہوں کہ تم جانتے ہو کہ میرے ایک پسندیدہ ناول نگار ارہان پاموک نے اپنے ناول ’’اے میوزیم آف انوسنس‘‘ یعنی ’’معصومیت کا ایک عجائب گھر‘‘ کو بنیاد بنا کر استنبول میں واقعی ایک ایسا میوزیم قائم کیا ہے جس میں اس ناول کی محبوبہ افسوں کی یادگاریں محفوظ ہیں۔ اس کے میک اپ کا سامان جوتے لباس کانوں کے جھمکے کمرے کا ماڈل اور وہ بجھا ہوا آئینہ جس میں وہ اپنی شکل دیکھتی تھی اور سمیر نے خصوصی طور پر یہ میوزیم دیکھا اور میرے لیے اس کا ایک پوسٹر لے کر آیا۔ ارہان پاموک ادب کا نوبل انعام یافتہ ‘ بین الاقوامی شہرت یافتہ اور کہاں میں… بے شک وہ انیتا ڈیسائی کی زلفوں کا اسیر ہوا اور وہ ہندوستانی تھا اور میں ایک پاکستانی بجھتا ہوا دیا۔ ہم کیسے قریب آ سکتے تھے۔ البتہ پچھلے برس ارہان پاموک نے کولمبیا یونیورسٹی نیو یارک میں ایک لیکچر دیا اور چونکہ سلجوق نے بھی اسی آئیوی لیگ یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور کے موضوع پر ڈگری حاصل کی تھی تو اسے بھی مدعو کیا گیا۔ پاموک نے اسے مداحوں کے ہجوم میں خصوصی توجہ سے نوازا کہ تمہارا نام ترک ہے اور تمہارے بھتیجے کا نام بھی یاشار ہے تو ہم دونوں کے درمیان ایک ترک بندھن ہے، پاموک نے صرف سلجوق کو اپنا ذاتی ایڈریس اور ای میل دی اور کہا کہ نوجوان مجھے اطلاع کرتے رہنا لیکن جواب کے لیے تنگ نہ کرنا۔ بعدازاں سلجوق نے میرے ناول’’اے غزال شب‘‘ کا انگریزی ترجمہ’’لینن فارسیل‘‘ روانہ کیا۔ پاموک ابھی تک خاموش ہے۔ حضور‘ یہ جو میں نے اتنا بکھیڑا کیا ہے، دنیا بھر کے مسلمان ناول نگاروں کے تذکرے کیے ہیں تو یونہی بے وجہ تو نہیں کیے، میں آپ کو شریک کرنا چاہتا ہوں چند اور لبنانی‘ بغدادی اور مصری ادیبوں کی تخلیقات میں ۔اگر میں نے نہیں تو آپ نے بھی کہاں سن رکھا ہو گا کہ ایک ناول نگاراحمد سعدوی نام کا ہے جس نے ایک ہولناک ناول ’’فرینکن سٹائن ان بغداد‘‘ لکھا ہے اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا موضوع کیا ہے۔ فرینکن سٹائل مختلف لاشوں کے حصوں کو جوڑ کر ایک سائنس دان نے تخلیق کیا تھا لیکن بغداد میں امریکی حملے کے بعد جو فرینکن سٹائن وجود میں آیا ہے وہ ان لاشوں کے بدنی پرخچوں سے جوڑا گیا ہے جو آئے دن کے دھماکوں سے اڑتے رہتے ہیں۔ایک کاٹھ کباڑ جمع کر کے اسے فروخت کرنے والا شخص ہادی ’’یعنی ایک کباڑیہ‘‘ مختلف دھماکوں میں لوتھڑے ہو جانے والے انسانوں کے بدن کے حصے جمع کرتا ہے تاکہ انہیں غسل دے کر دفن کر سکے اور پھر جانے اسے کیا خیال آتا ہے کہ وہ ان سب کو سوئی دھاگے سے جوڑ کر ایک بندہ تخلیق کرتا ہے اور اس میں جان پڑ جاتی ہے اور یہ فرینکن سٹائن بغداد کی گلیوں میں گھومتا ان لوگوں کو تلاش کرتا ہے جن کی وجہ سے اس کے پرخچے اڑے تھے۔ شائبہ ہوتا ہے کہ وہ امریکہ کو تلاش کرتا ہے ایک اور ناول ’’وے بروکن مررز‘‘ یعنی کرچی کرچی ہو چکے آئینے‘ الیاس خورے کا لکھا ہوا ہے اور الیاس کو نقاد’’عرب دنیا کا سب سے بڑا ناول نگار‘‘ قرار دیتے ہیں۔ الیاس خورے لبنانی نژاد ہے اور نیو یارک یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کا پروفیسر ہے، ویسے ’’دی بروکن مررز‘‘ پڑھنے کے بعد میں نے نقاد حضرات سے کچھ اختلاف کیا۔ کم از کم یہ ناول عرب دنیا کے سب سے بڑے ناول نگار کا نہیں ہو سکتا۔ اس سے بہتر لکھنے والے تو ہم ہیں۔ پر ہمارے ناولوں کے ترجمے کون کرے۔ کون باہر کی دنیا کو خبر کرے کہ ہم میں بھی گارسیا مارکیز اور یاشار کمال موجود ہیں پر گمنام ہیں۔ میں نے بک شیلف سے ایک ناول اس لیے اٹھا لیا کہ اس کا عنوان نہائت لرزہ خیز تھا۔ کسی نسان انتون کا تحریر کردہ ’’لاشوں کو نہلانے والے‘‘ نسان جو میرے ناول ’’پیار کا پہلا شہر‘‘ کے ہیرو کا ہمنام ہے ایک ایسی دنیا تخلیق کرتا ہے جہاں دکھ کے سمندر ہیں اور ہوائیں ماتم کرتی ہیں نسان انتون بھی نیو یارک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے۔ لاشوں کو نہلانے والے‘ ایک ایسا ناول ہے جو راتوں کو آپ کو سونے نہیں دیتا۔ شہر بغداد میں ایک آبائی غسال ہے جس کے باپ دادا بھی لاشوں کو غسل دینے کا پیشہ اختیار کئے ہوئے تھے نوجوان جواد نہیں چاہتا کہ وہ بھی اپنے باپ کی مانند لاشوں کو نہلانے انہیں کفناتے اور ان پر کافور چھڑکتے اپنی زندگی گزار دے اور وہ بغداد اکیڈمی آف فائن آرٹس میں داخلہ لے کر ایک شاندار مصور کی صورت میں ابھرتا ہے اور پھر امریکہ حملہ کر دیتا ہے۔ سب کچھ پریشان اور بکھر جاتا ہے جواد مجبوراً پھر سے لاشیں نہلانے لگتا ہے۔ اس ناول کا سب سے موثر انار کا ایک درخت ہے۔ لاشوں کو نہلانے والے پانی اس کی جڑوں کو سیراب کرتے ہیں اور جواد اس درخت کے اناروں کو چن کر محلے والوںمیں تقسیم کر دیتا ہے۔ میں نے بک شیلف پر سجی ایک ایسی کتاب دیکھی جس پر نجیب محفوظ کا کم شکل مہرہ تھا ۔’’آف لٹریچر اینڈ فلاسفی‘‘ اس کے مضامین کا مجموعہ تھا اور جب گھر آیا تو نجیب محفوظ کے مضامین کے عنوان پڑھے تو میری سٹی گم ہو گئی کہ اتنا ڈھیر سارا فلسفہ مجھے کہاں ہضم ہونا تھا۔ مثلاً سقراط کا فلسفہ ‘ فلسفے کا سبق کیا ہے؟ ذہن کیا ہے؟ محبت اور جنسی کشش وغیرہ …تو میں نے ان دقیق مضامین کو چوم کے چھوڑ دیا۔ آپ یقینا آگاہ ہوں گے کہ عرب بلکہ مسلم دنیا کے سب سے پہلے ادب کے نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ کو مصر کی جماعت اسلامی کی جانب سے بہت دھمکیاں روانہ کی گئیں۔ انہیں جان کا خطرہ لاحق ہوا۔ ارہان پاموک کو بھی مذہبی حلقوں نے بہت رگیدا۔ ترکوں نے کُرد یاشار کمال کو قبول نہ کیا اور جب وہ پابند سلاسل ہوا تو شائد یہ وزیر اعظم سلمان ڈمرئیل تھے جن سے پوچھا گیا کہ آپ نے ترکی کے سب سے عظیم ناول نگار کو کیوں جیل میں بند کر دیا تو اس نے کہا تھا کہ آپ چیک کر سکتے ہیں کہ آج بھی میرے تکیے کے نیچے یاشار کمال کا ایک ناول ہو گا۔ لیکن میں کیا کروں کہ میں اپنے آئین کا پابند ہوں۔ دراصل مذہب اور ادب زندگی کی نیلی جھیل کے دو مخالف کنارے ہیں۔ ادب میں برداشت ہے لیکن مذہب میں نہیں اور ہم ایسے لوگ زندگی کی نیلی جھیل کے کناروں پر کھڑے ہیں۔ ہمیں کسی بھی کنارے سے جدا ہونا پسند نہیں تو کیا کریں۔ آپ کچھ نہ کریں‘ صرف اسماعیل قدارے اور نسان انتون کے ناول پڑھ لیں تو آپ پر عیاں ہو جائے گا کہ ان کے مقابلے میں اردو ناول کہاں ٹھہرتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker