شاکر حسین شاکرکالملکھاری

پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی اور دولے شاہ کے چوہے ( 2 ) کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

وہ ڈاکٹر سرور نقوی جو دنیا کے سب سے بڑے خلائی ادارے ”ناسا“ میں 38 برس تک کام کرتے رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے چاند پر سب سے پہلے قدم رکھنے والے نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ مل کر بھی کئی برس ناسا میں کام کیا اور اپنی تحقیق کے ذریعے بے شمار نئے دَر وا کیے۔ دسمبر 2013ءمیں اسلام آباد سے آنے کے بعد انہوں نے کوشش کی کہ وہ اپنے ملک کے بچوں کو کسی نہ کسی طور پڑھاتے رہیں لیکن ہمارے ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جو ”دولے شاہ کے چوہے“ براجمان ہیں وہ کسی کو آگے نہیں آنے دیتے۔ سو ڈاکٹر سرور نقوی تھک ہار کر کبیروالہ کے نواح میں زندگی کے دن پورے کرنے لگے۔ وہ ڈاکٹر سرور نقوی جو انگریزی لہجہ میں اُردو بولتے تھے ایک ایسے علاقے میں رہنے لگے جہاں پر سرائیکی کے علاوہ کوئی زبان نہیں بولی جاتی تھی۔ راؤ شاہد اس کی اہلیہ ان کے بچے ڈاکٹر سرور نقوی کی کل کائنات ٹھہرے۔ وہ دریائے راوی کے کنارے بستی ہمن چونترہ میں رہنے لگے۔ یہاں رہ کر انہوں نے راؤ شاہد کے بچوں کے ساتھ مل کر سرائیکی بولنا شروع کی تو اس کو سب سے آسانی اس علاقے کی گالیاں، ٹپے اور لڑائی مار کٹائی میں جو الفاظ استعمال ہوتے تھے سیکھنے میں ہوئی۔ وہ راؤ شاہد کے اہلِ خانہ میں ایسے مصروف ہوئے کہ انہیں یاد ہی نہ رہا کہ ان کا ناسا سے کبھی کوئی تعلق تھا یا انہوں نے اپنی زندگی میں ہزاروں بچوں کو تعلیم کے زیور سے آشنا کیا۔ وہ تمام دن راؤ شاہد کے بچوں کے ساتھ کھیلتے، بات کرتے کرتے مذاق میں سرائیکی زبان میں اپنے مخاطب کو گالی بھی دے دیتے۔ بہرحال زندگی کے یہ مشکل ترین ایام انہوں نے گوشہ نشینی میں گزارے۔ پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی نے اس دوران اپنے بچوں سے بھی رابطہ کیا لیکن انہوں نے اپنے باپ کی خبرگیری تک نہ کی۔ چند برس قبل ان کے جوان بیٹے کا جب انتقال ہوا تو ٹوٹ پھوٹ گئے۔ صدمے نے ان کو نڈھال کر دیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے درس و تدریس کے سلسلے کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھا۔
ڈاکٹر سرور نقوی نے دو شادیاں کیں اور دونوں کا انتقال بھی ان کی زندگی میں ہوا۔ اپنی بیگمات کے بارے میں اکثر کہا کرتے تھے مَیں نے دونوں بیویوں کی جان بچانے کے لیے لاکھوں خرچ کیے لیکن وہ بچ نہ سکیں۔ نجانے لوگوں کی بیگمات اتنا عرصہ کیسے جی لیتی ہیں۔ میری تو دونوں بیگمات نے میرے لاکھوں روپے خرچ کروائے لیکن مَیں اس کے باوجود رنڈوا ہو گیا۔
پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی کا تعلق کراچی کے متوسط خاندان سے تھا جو شاہراہ فیصل پر قیام پذیر تھا۔ ابھی سرور نقوی پڑھ ہی رہے تھے کہ ان کے والدِ محترم کا انتقال ہو گیا۔ سرور نقوی نے میٹرک ایس ٹی لارنس بوائز سکول کراچی جبکہ ایف ایس سی ڈی جے سائنس کالج کراچی سے کیا۔ ایف ایس سی کے انہوں نے ایروناٹیکل نے کوئین میری انسٹیٹیوٹ کا انتخاب کیا۔ ابھی ان کی عمر 22 برس تھی کہ انہوں نے اے بی سی کمپنی کے تحت آئی بی ایم کے چار اداروں کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ ساری کمپنیاں ناسا کے ساتھ رجسٹرڈ تھیں۔ انہی کمپنیوں کی وجہ سے انہوں نے ناسا میں نوکری کا آغاز کر دیا۔ جہاں پر وہ 2003ءتک کام کرتے رہے۔ناسا میں جاب کے دوران یوں تو بے شمار نامور سائنسدان ان کے ساتھ پڑھتے رہے لیکن پاکستانیوں کے لیے ایک معروف نام نیل آرمسٹرانگ نہ صرف ان کا کلاس فیلو رہا بلکہ اس کے بعد مل کر بے شمار تحقیقی مقالے تحریر کیے۔ اپالو اور چاند کے سفر پر ان کی ٹیم کو خاصی شہرت ملی۔ اس دوران انہوں نے ایک امریکن خاتون سے شادی کی جس سے ان کے دو بیٹے ہوئے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں برطانیہ میں 6سال جبکہ امریکہ میں 50 برس گزارے۔ امریکہ میں جب ان کی پہلی بیوی کا انتقال ہوا تو پھر وہ وطن واپس آ گئے اور کراچی کی ایک خاتون کے ساتھ دوسری شادی کی۔ دوسری اہلیہ کے بطن سے بھی دو بیٹے پیدا ہوئے۔ دوسری اہلیہ بھی کچھ عرصہ بعد انتقال کر گئی۔
ان کے بڑے بیٹے کا چند سال قبل کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کو سرور نقوی نے بہت دل پہ لگایا۔ ان کے دو بیٹے امریکہ جبکہ تیسرا بیٹا کراچی میں رہائش پذیر ہے۔ بیٹے کے انتقال کے بعد ان پر فالج کا حملہ بھی ہوا۔ جس نے سرور نقوی کو توڑ پھوڑ کے رکھ دیا۔ اگر ہم ان کے تعلیمی ریکارڈ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ایم اے براؤ ن یونیورسٹی جبکہ پی ایچ ڈی ایروناٹیکل انجینئرنگ رائس یونیورسٹی لندن سے کیا۔ انسٹی ٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی اسلام آباد کے پہلے رجسٹرار مسٹر کھوکھر سے ان سے آئی ایس ٹی کے قیام پر رابطہ کیا اور یونیورسٹی میں پڑھانے کی دعوت دی۔ ان کے لیے یہ آفر بہت اہم تھی کہ وہ پاکستان کے پہلے ایئرسپیس کے ادارے میں بطور سینئر پروفیسر کے کام کریں۔ ڈاکٹر سرور نقوی نے اسلام آباد کے اس ادارے کو جوائن کیا اور 2014ءتک اس میں پڑھاتے رہے۔ اس دوران انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کو ادارے کے لیے وقف کیا اور جی لگا کر اپنے طالب علموں کو پڑھاتے رہے۔ ملازمت کے آخری دنوں میں ان کے ایک قریبی عزیز نے ان کی بیماری کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی کے سربراہ کو شکایت لگائی حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب وہ اپنے جوان بیٹے کی موت کا صدمہ دل میں لیے یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے کہ یونیورسٹی نے پہلے ان کا مستقل پڑھانے کا معاہدہ ختم کیا پھر چند لیکچر دینے شروع کیے اور آخر میں ان کو کہا گیا وہ اب ہمارے کام کے نہیں رہے۔
یہیں سے ان کی موت کے سفر کا آغاز ہوا۔ وہ اسلام آباد سے اپنے ڈرائیور راؤ شاہد کے ہمراہ کبیروالہ کے نواحی علاقہ باگڑ سرگانہ پہنچے اور پھر وہیں کے ہو رہے۔ اس دوران پوری دنیا میں موجود ان کے شاگرد کسی نہ کسی طرح ان کے ساتھ رابطے میں رہے۔ یوں پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی کا جب انتقال ہوتا ہے تو علاقے کے لوگوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کتنے بڑے سائنس دان کی آخری رسومات میں شریک ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی کے شاگرد اگر سوشل میڈیا پر خبر بریک نہ کرتے تو قارئین کرام آپ یہ کالم بھی نہ پڑھ رہے ہوتے۔ راؤ شاہد کا فون نمبر مجھے میرے بیٹے نے دیا۔ مَیں نے راؤ شاہد سے ان کے آخری دنوں کے متعلق بات کی پھر کبیروالہ کے ایک ذمہ دار صحافی اور میرے چھوٹے بھائی فرخ رضا نے ان کی قبر کا کھوج لگایا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں کبیروالہ سے 32 کلومیٹر دور دریائے راوی کنارے بستی ہمن چونترہ میں دفن کیا جائے۔
راؤ شاہد نے اپنے محسن ڈاکٹر سرور نقوی کی وصیت کا احترام کیا اور ان کو خواہش کے مطابق دفن کیا گیا۔ یہاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر ہم اپنے ہیروز کے ساتھ کب تک سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتے رہیں گے۔ اگر ڈاکٹر سرور نقوی اپنے آخری ایام ناسا میں گزارتے تو ان کی خدمات پر انہیں اعزازات پیش کیے جاتے۔ان کی موت کی خبر کو اہمیت دی جاتی۔ اس دن ناسا میں پرچم سرنگوں ہوتا۔ ان پر تھیسز لکھوائے جاتے اور ہم نے ان کو پہلے یونیورسٹی سے نکالا۔ پھر انہوں نے اپنے لیے پاکستان کا وہ علاقہ چنا جہاں پر شاید بجلی کے وولٹیج بھی پورے نہ آتے ہوں گے۔ تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔ ایسے علاقے میں بے یار و مددگار تین سے چار برس گزارنا کتنا اذیت ناک ہو گا۔ لیکن سرور نقوی نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ ان کی موت کا جب مَیں سوچتا ہوں تو عجیب و غریب باتیں ذہن میں آتی ہیں کہ آخری دنوں میں ان کو نہ تو ہسپتال میسر آیا ہو گا اور مرنے کے بعد جب ان کا جنازہ گھر سے اٹھا ہو گا تو کسی نے چارپائی نہیں روکی ہو گی۔ نہ بین نہ رونے کی آوازیں۔ کتنی خاموشی سے ان کا جنازہ اٹھا ہو گا۔ جنازہ گاہ میں کتنے لوگ آئے ہوں گے۔ کیا کسی نے ان کی طرف سے حاضرین سے معافی معانگی ہو گی؟ یقینا وہاں کسی نے ان کی طرف سے معافی کی درخواست نہیں کی ہو گی البتہ مَیں پوری قوم یعنی بے حس قوم کی طرف سے جناب پروفیسر ڈاکٹر سرور نقوی سے معافی مانگتا ہوں کہ سر ہمیں معاف کر دیں آپ نے ہمارے ہزاروں بچوں کو علم کی روشنی سے بہرور کیا اور ہم نے آپ کو کیا دیا، دربدری۔ امریکہ سے پاکستان۔ اسلام آباد سے کبیروالہ کا ایک دیہات۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں معاف کر دیں۔ معاف کر دیں۔ ہم آپ کے گناہگار ہیں……..!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker