اسلام آباد : سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق تحریک عدم اعتماد پر ہونے والے پارلیمان کے ایوانِ زیریں کا اجلاس ووٹنگ کے بغیر چوتھی مرتبہ ملتوی ہوگیا رات ساڑھے گیارہ بجے تک ووٹنگ نہ ہونے کے باعث آئینی بحران شدت اختیار کر گیا اور سپیکر اورر ڈپٹی سپیکر نے استفے دے دیے ہیں
یہ اہم اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا، جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی گئی اور قومی ترانہ بجایا گیا۔
ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل خاتون رکن قومی اسمبلی شازیہ ثوبیہ کی وفات پانے والی والدہ کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔تاہم دو گھنٹے کے طویل وقفے کے بعد جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اس کی صدارت امجد خان نیازی نے شروع کی تو دونوں جانب سے رہنماؤں نے طویل تقاریر کیں اور نماز عصر کے لیے 20 منٹ کا وقفہ کیا گیا۔
نماز عصر کے وقفے کے بعد اجلاس شروع نہیں ہوسکا اور اعلان کیا گیا کہ اب نماز مغرب اور افطار کے بعد ساڑھے 7 بجے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے متعلق اجلاس ایک مرتبہ پھر شروع ہوگا۔
بعد ازاں اجلاس شروع ہوا تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور وفاقی وزیر حماد اظہر کی تقریروں کے بعدساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
بلاول بھٹوزرداری نے اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ اس وقت نہ صرف توہین عدالت کر رہے ہیں بلکہ آئین شکنی میں بھی ملوث ہور ہےہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے 5 رکنی بینچ نے حکم سنایا اور اس کے مطابق اس آرڈر کے علاوہ کسی اور ایجنڈہ آئٹم کو نہیں اٹھا سکتے ہیں، آپ اور اس سے پہلے اسپیکر نے بھی ایسا کیا۔
انہوں نے کہا کہ 3 اپریل کو ایک وزیر نے صرف وزیراعظم پاکستان، صدر پاکستان اور ڈپٹی اسپیکر کو آئین شکنی میں پھنسا دیا تھا اور آج کی کوشش کی وجہ نہ صرف وہ لوگ بلکہ اسپیکر اور آپ خود ان جرائم میں ملوث ہیں۔
اس موقع پر ڈپٹی چیئر نے کہا کہ عدالت پارلیمنٹ کے ڈومین میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے، ایجنڈا اسپیکر، قومی اسمبلی اور حکومت کا ہوتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ توہین عدالت کرتے ہوئے نااہل ہوجائیں گے، یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی عدالت نے اسپیکر کی رولنگ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سےپہلے ایک اسپیکر صاحبہ اسی کرسی پر بیٹھی تھیں، انہوں نے ایک فیصلہ سنایا لیکن عدالت نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کو مسترد کردیا تھا، ایک دفعہ پھر حکم آیا ہے، عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے کہ آپ نے آج 3 اپریل کی کارروائی مکمل کرنی ہے اور ووٹنگ کروانی ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

