سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لندن میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے اپنی ’بپتا‘ سنائی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہیں سزا دینے کے لئے ملک کا نقصان کیا گیا ، اس کا حساب کون دے گا۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ ان کی اور مریم نواز کی زندگی کے پانچ سال ضائع کئے گئے، انہیں ناجائز طور سے جیل میں بند رکھا گیا اور جھوٹے مقدمات میں سال ہا سال تک عدالتوں میں پیشیاں بھگتنا پڑیں۔ اب کہا جارہا ہے کہ نااہلی کا قانون کالا قانون ہے۔ نواز شریف نے پوچھا تو پھر انہیں تاحیات نااہل قرار دینے کا جواب کون دے گا۔
نواز شریف کی طرف سے یہ سوالات دیر سے ایک ایسے وقت میں کئے جارہے ہیں جب ان کے اپنے بھائی پاکستان کے وزیر اعظم ہیں اور ملکی معاملات کی باگ ڈور ایک ایسی حکومت کے ہاتھ میں ہے جو مسلم لیگ (ن) نے دیگر اتحادی پارٹیوں کے ساتھ مل کر قائم کی ہے۔ اصولی طور پر ان شکایات کا ازالہ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کو کرنا چاہئے۔ ملک کا جو ادارہ بھی اس ’ناانصافی‘ کا مرتکب ہؤا ہے، اس سے جواب طلب کرنا چاہئے۔ تاہم ملکی سیاسی صورت حال ابھی تک بلوغت کی اس سطح تک نہیں پہنچ سکی جس میں معاملات کو میرٹ کی بنیاد پر طے کیا جاسکے، آئین جس سیاسی پارٹی کو فیصلے کرنے کا استحقاق دیتا ہے، اسے تمام فیصلے کرنے کا موقع حاصل ہو اور تمام اہم فیصلے کسی ادارہ جاتی سرپرستی یا عدالتی مداخلت کے بغیر کئے جاسکیں۔
نواز شریف کی پریس کانفرنس سے یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ فوج کی طرف سے بار بار یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ وہ اب ’غیر جانبدار‘ ہے اور سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی، تین بار ملک کا وزیر اعظم رہنے والا شخص اپنے خلاف ہونے والی ناانصافی کے لئے کسی عدالت یا سرکاری فورم سے رجوع کرنے کی بجائے میڈیا کے ذریعے اپنے ’دکھڑے‘ عوام کے سامنے رکھنے پر مجبور ہے اور ان سے ہی منصفی چاہتا ہے۔ سیاسی حد تک یہ رویہ قابل فہم بھی ہے۔ نواز شریف کی میڈیا ٹاک کا بنیادی مقصد بھی یہی دکھائی دیتا ہے کہ مسلم لیگ نے مختصر مدت کے لئے حکومت سنبھال کر جو عوامی ناراضی مول لی ہے، کسی طرح اس کا ازالہ کیا جائے۔ اسی مقصد سے نواز شریف نے اپنے دل کا حل بتا کر اور ذاتی صعوبتوں و دکھوں کا ذکر کرکے اپنے حامیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی خواہش ہوگی کہ آڈیو لیکس اور مختلف انتظامی طریقوں سے عمران خان کے خلاف شکنجہ کسے جانے کے بعد، اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ ایک بار پھر عوام کو سیاسی طور سے رجھانے کی کوشش کریں۔ اسی منصوبہ کے پہلے حصے کے طور پر اسحاق ڈار پاکستان واپس آئے ہیں اور انہیں وزیر خزانہ بنا کر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ سیاسی طور سے کارآمدمعاشی فیصلے کرکے آئیندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے لئے کامیابی کی راہ ہموار کرسکیں گے۔
تاہم نواز شریف کی گفتگو کے سیاسی مقصد کو سمجھنے کے باوجود اس بات چیت میں اٹھائے جانے والے سوالات اور ملک میں قانون کی بالادستی، آئینی حکمرانی اور سول حکومتوں کے اختیارات کے حوالے سے سامنے آنے والے معاملات سے درگزر کرنا ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف نے طویل پریس کانفرنس میں اپنے اور مریم نواز کے ساتھ پیش آنے والے سلوک کی جو تفصیلات پیش کی ہیں، ان کی روشنی میں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو بعض سیاسی عناصر کو راستے سے ہٹانے کے لئے ملکی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ منتخب حکومت اور عدالتوں تک کو آلہ کار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری نے نواز شریف کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے بجا طور سے تقاضہ کیا ہے کہ ادارے ان سوالوں کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف کی پریس کانفرنس اداروں کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ بہتر ہو گا اس کا جواب رجسٹرار سپریم کورٹ اور آئی ایس پی آر دیں کیونکہ ان کے تمام تر الزامات اداروں پر ہیں‘۔
البتہ فواد چوہدری کی یہ بات سو فیصد درست ہونے کے باوجود ادھوری اور نامکمل ہے۔ وہ نواز شریف کے خلاف تحریک انصاف کے دور حکومت میں کی جانے والی زیادتیوں کی تمام تر ذمہ داری عسکری اداروں اور عدالتوں پر ڈال کر خود اس الزام سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ اس سارے عمل میں تحریک انصاف ان عناصر کی آلہ کار بنی تھی اور ’مستفید‘ بھی ہوئی تھی۔ جس ہائیبرڈ نظام کی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے اب فوج بار بار غیر جانبدار ہونے کا اعلان کررہی ہے اور واشنگٹن سے کاکول تک خطابات میں جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوری اداروں کا احترام کرنے کی جوبات کررہے ہیں، ان خرابیوں کو پیدا کرنے میں فوج کی موجودہ قیادت اور تحریک انصاف شریک سفر رہی ہیں۔ اسی ہائیبرڈ نظام کی کامیابی کے لئے پہلے دن سے نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو کمزور کرنے کے منصوبہ پر کام شروع کیا گیا تھا ۔
سیاسی طور سے اس منصوبہ کی قیادت عمران خان کو سونپی گئی تھی جنہوں نے پہلے لانگ مارچ اور دھرنا کے ذریعے اور پھر پاناما کیس کو سیاسی ایجنڈا بنا کر نواز شریف کے خلاف سیاسی راہ ہموار کی۔ بالآخر ایک منظم منصوبہ کے تحت انہیں نااہل کرواکے، اقتدار سے محروم کرنے کے علاوہ 2018 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست یقینی بنانے کا اہتمام کیا گیا ۔ ان انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی اور بعد از انتخابات عمران خان کو اکثریت کی حمایت دلوانے کے لئے جن عناصر نے کردار ادا کیا، وہ وہی خفیہ ہاتھ ہیں جن کی نشاندہی نواز شریف نے کی ہے اور جن کے بارے میں فواد چوہدری اب آئی ایس پی آر سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ البتہ بہتر ہوگا کہ فواد چوہدری اپنے لیڈر عمران خان کو بھی مشورہ دے سکیں کہ تحریک انصاف اپنے حصے کا سچ سامنے لے آئے اور اس سیاسی ساز باز پر قوم سے معافی مانگ لے جس کے تحت اس نے 2018 میں اقتدار حاصل کیا تھا۔ تب ہی تحریک انصاف کی طرف سے سیاسی انجینئرنگ کے الزامات کو کوئی اہمیت دی جاسکے گی۔ اس کے برعکس عمران خان صرف اس بنا پر فوجی قیادت سے نالاں ہیں کہ ان کے خیال میں فوج کو شہباز حکومت قائم کروانے کی بجائے مسلسل تحریک انصاف کی سرپرستی کرنی چاہئے تھے۔ عمران خان اب بھی فوج کی یہ ’غلطی‘ معاف کرنے پر تیار ہیں بشرطیکہ وہ اتحادی حکومت کی کامیابی کے لئے کوشش کرنے کی بجائے جلد از جلد انتخابات کے ذریعے ایک بار پھر تحریک انصاف کے اقتدار کا راستہ ہموار کرے۔
سیاسی اقتدار کے لئے فوج کے ساتھ ساز باز کرنے کی اسی خواہش کی وجہ سے تحریک انصاف کا کوئی سیاسی بیانیہ نہ تو قابل اعتبار ہے اور نہ ہی اس سے ملک میں جمہوری راستہ ہموار ہونے کی امید ہے۔ عمران خان کا مسئلہ جمہوریت نہیں ہے۔ وہ عوام میں اپنی مقبولیت کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ، دراصل دوبارہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ماضی قریب کے تجربہ کی بنیاد پر چونکہ وہ جانتے ہیں کہ اقتدار کا سہل اور یقینی راستہ کون سا ہے۔ اسی لئے وہ کسی بھی قیمت پر عسکری قیادت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ اسی لئے فوج کا ‘نیوٹرل‘ ہونا انہیں کھلتا ہے اور وہ غیرجانبداری کو نت نئے نام دے کر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ’فوج کے پاس سچائی اور راستی کے واحد پیغامبر عمران خان کا ساتھ دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے‘۔ اسی لئے موجودہ حکومت کے دورانیہ میں طوالت اور معاشی و سفارتی طور سے اسلام آباد کی بعض کامیابیاں تحریک انصاف کے لیڈروں کو بدحواس کررہی ہیں۔
دوسری طرف اگرچہ نواز شریف اپنی ہڈ بیتی بتا کر انصاف کی دہائی دے رہے ہیں لیکن شہباز شریف نے ان کی اجازت سے ہی ان عناصر کے ساتھ ہاتھ ملاکر حکومت کا سربراہ بننے کا فیصلہ کیا تھا جنہوں نے عمران خان کو لیڈر اور وزیر اعظم بنوانے کے لئے نواز شریف کے زوال کا راستہ ہموار کیا تھا۔ نواز شریف کسی حد تک اس مفاہمت نما سیاسی لین دین کے ثمر ات بھی حاصل کررہے ہیں۔ شہباز شریف اور آصف زرادری کے منصوبہ ہی کی وجہ سے نواز شریف آج لندن میں مریم نواز کو ساتھ بٹھا کر اپنے دکھوں کی پٹاری کھول رہے تھے۔ اگر شہباز شریف کی حکمت عملی پر عمل نہ ہوتا تو اب بھی مریم نواز بدستور یا تو جیل میں بند ہوتیں یا عدالتوں میں پیشیا ں بھگت رہی ہوتیں۔ اسی مفاہمت کا نتیجہ ہے کہ اسحاق ڈار ’مفرور‘ رہنے کی بجائے پاکستان لوٹ کر وزارت خزانہ کا قلمدان سنبھال چکے ہیں اور نواز شریف پریس کانفرنس میں حال دل بیان کرکے سیاسی طور سے واپسی کے لئے راستہ ہموار کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں۔
نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ضرور جواب ملنا چاہئے لیکن اس کے لئے انہیں واقعی ’ووٹ کو عزت دو‘ کے اصول پر ڈٹ کر کھڑا ہونا پڑے گا اور وقتی فائدے کے لئے اصولوں کو نظر انداز کرنے کی حکمت عملی سے گریز کرنا ہوگا۔ نواز شریف اگر پاکستان میں اداروں کو سیاست سے دور رکھنے کی پالیسی کو نافذ کروانا چاہتے ہیں تو انہیں اداروں کے ساتھ درپردہ مفاہمت سے حاصل ہونے والے فائدے حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور اگر یہ مان لیا گیا ہے کہ اقتدار کا راستہ عسکری اداروں کی تابعداری سے ہوکر ہی گزرتا ہے تو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ یہ حقیقت اب عوام کے سامنے بھی عیاں ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ آئینی بالادستی کی بات کرتے ہیں اور جمہوری اداروں کو عزت دینا چاہتے ہیں۔ یہ خوش آئیند اعلان ہے ۔ تاہم سیاست دانوں کو فوج سے اس اعلان پر عمل درآمد کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ ملک کا آئین منتخب نمائیندوں کو تمام اختیارات تفویض کرتا ہے۔ سیاست دان ان اختیارات کو استعمال کرنے کا طریقہ اور سلیقہ سیکھیں، فوج اور عدالتیں خود ہی مقررہ حدود سے تجاوز کرنا بند کردیں گی۔ ملین ڈالر سوال البتہ یہ ہے کہ کیا ملک کی تمام سیاسی قوتیں اس ایک اصول کے لئے باہمی اختلافات اور دشمنیاں بھلا سکتی ہیں؟
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

