اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ رکوانے کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ کی درخواست منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور غداری کے مقدمے کا فیصلہ 19 نومبر کو محفوظ کیا تھا جو 28 نومبر کو سنایا جانا تھا تاہم اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت کو یہ فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار اعظم خان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے خصوصی عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ ابھی فیصلہ نہ سنائے اور فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فریقین کو سن کر فیصلہ دیا جائے۔ عدالت نے خصوصی عدالت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پرویزمشرف کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کا موقف بھی سنے۔
خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی عدالت سے مسلسل غیرحاضری اور بیان ریکارڈ نہ کروانے کی وجہ سے انھیں اشتہاری قرار دیا تھا اور ان کے وکیل کو عدالت میں اپنے موکل کی پیروی سے بھی روک دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنگین غداری کیس میں حکومت کو پانچ دسمبر تک پراسیکیوٹر تعینات کرنے کا حکم بھی دیا ہے جبکہ خصوصی عدالت سے کہا ہے وہ جلد از جلد اس معاملے کی سماعت مکمل کرے۔ خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے 24 اکتوبر کو سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی پیروی کرنے والی استغاثہ کی ٹیم کو تحلیل کر دیا تھا۔ فیصلے کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر نے میڈیا سے بات کرتے کہا کہ قانون میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اگر کوئی وکیل عدالت میں موجود نہ ہو تو وفاقی حکومت یا عدالت وکیل مقرر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وکیل صفائی اس وقت مقرر کیا جاتا ہے جب ملزم اس قابل نہ ہو یا اسے کوئی مالی مشکلات ہوں۔
’یہاں ایسا نہیں تھا میں پہلے سے موجود تھا اور عدالت کی رہنمائی کر رہا تھا تو آج عدالت نے یہ متفقہ فیصلہ دیا ہے اور مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں پانچ دسمبر کو عدالت میں پیش ہوں گا اور اپنے دلائل دوں گا۔‘ نامہ نگار کے مطابق جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن کیانی پر مشتمل بینچ نے بدھ کو اس معاملے کی سماعت شروع کی تو جسٹس محسن کیانی کا کہنا تھا کہ کیا آج وفاقی حکومت پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل نہیں کرنا چاہتی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کل فیصلہ سنانے سے روکا جائے اور ہمیں نئی پراسیکیوشن ٹیم تقرر کرنے دی جائے۔ دو گھنٹے کی سماعت میں عدالت کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ اس معاملے میں درخواست گزار ہی یہ کہہ رہا ہے کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں ہماری غلطیوں کی درستگی کی جائے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ کیا خصوصی عدالت صرف اس لیے فیصلہ نہ سنائے کہ آپ (حکومت) سے غلطی ہوئی تھی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ غلطی سدھار لی جائے تاکہ کل عدلیہ کے لیے شرمندگی کا باعث نہ ہو جس پر جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کے لیے نہیں وفاقی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہو گا۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت اپنی غلطیاں خود کیوں درست نہیں کرتی اور اگر اس معاملے میں غلطیاں ہیں تو حکومت اس مقدمے کو واپس کیوں نہیں لے لیتی، کیونکہ وفاقی کابینہ کو اختیار ہے کہ وہ اپنی غلطیاں خود درست کر سکتی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے سامنے ایسے شخص کا کیس ہے جس نے عدلیہ پر وار کیا تھا اور جو اشتہاری بھی ہو چکا ہے‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ پیچیدگی یہ ہے کہ اس سب کے باوجود فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے ہیں۔ پرویز مشرف کے وکیل کی حیثیت سے خصوصی عدالت میں پیش ہونے والے بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ انھیں خصوصی عدالت کے سامنے اپنے موکل کا موقف پیش کرنے نہیں دیا گیا اور یہ کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف اشتہاری ہیں اس لیے ان کا موقف نہیں سنا جا سکتا۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس بارے میں اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سلمان صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ویسے وزارت داخلہ کے وکیل نے پرویز مشرف کا کیس پیش کر دیا ہے۔‘ اس سے قبل منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہی کہا تھا کہ چونکہ پرویز مشرف ایک اشتہاری ملزم ہیں اس لیے عدالت انھیں متاثرہ فریق نہیں سمجھتی اور قانون کے مطابق مشرف کے وکیل کے دلائل نہیں سنے جا سکتے۔
پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا پس منظر
سنہ2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز نے حکومت میں آنے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے چار سربراہان تبدیل ہوچکے ہیں لیکن یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچا۔ ملزم پرویز مشرف صرف ایک مرتبہ ہی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سابق فوجی آج تک عدالت پیش نہیں ہوئے ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف مارچ 2016 کو طبی بنیادوں پر بیرون ملک چلے گئے تھے۔ ان کا نام اس وقت کی حکمراں جماعت مسلم لیگ ن نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بعد ملک سے جانے کی اجازت دی تھی۔
اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے 31 مارچ 2014 کو غداری کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ واضح رہے وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے شخص ہیں جن کے خلاف آئین شکنی پر مقدمہ چل رہا ہے۔
فیس بک کمینٹ

