اسلام آباد : پاکستان بھر میں گھروں، گاڑیوں اور صنعتوں میں گیس کی کمی شدت اختیار کر گئی۔ ملک میں گیس کی طلب 6 ارب مکعب فٹ ہے، جبکہ ملکی پیداوار 4 ارب مکعب فٹ ہے۔ گیس کی اس کمی کو دور کرنے کے لیے 90 کروڑ مکعب فٹ ایل این جی درآمد کی جا رہی ہے۔
ملک میں گیس کی طلب اور رسد میں فرق ایک اعشاریہ ایک ارب مکعب فٹ ہے۔دوسری جانب سندھ میں گیس کا بحران برقرار ہے جس کی وجہ سے صنعتوں میں کام متاثر ہوا ہے۔کراچی میں سی این جی اسٹیشن بدستور بند ہیں جس کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور شہریوں کو آمدو ورفت میں دشواری کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان گیس پورٹ ٹرمینل پر گنجائش سے 50 فیصد کم ایل این جی امپورٹ ہوئی، گیس پورٹ ٹرمینل سے 300 ملین مکعب فٹ گیس پمپ کی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ زائد گیس ترسیل نہیں کی جا سکتی، سوئی نادرن کے منصوبے کے مطابق گیس منگوائی ہے، پورٹ قاسم سے یومیہ تقریباً 900 ملین مکعب فٹ گیس کی ترسیل ہورہی ہے۔
ادھر لاہور میں گیس بحران شدت اختیار کر گیا، سوئی گیس حکام کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے سوئی ناردرن نے پنجاب میں انڈسٹری اور سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی بند کر دی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں 12 گھنٹے کی گیس لوڈ شیڈنگ جاری ہے جن میں اقبال ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، ٹاؤن شپ، گارڈن ٹاؤن، فیروز پور روڈ ، مسلم ٹاؤن،باٹا پور، ہربنس پورہ، کینٹ، سبزہ زار اور وحدت روڈ کے ملحقہ علاقے بھی شامل ہیں۔اندرون شہر بھی پریشر کم ہونے کے باعث ہوٹل اور تندور والے شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم جنوری سے گیس کی قیمتیں بڑھانے کی تجاویز وزارت پیٹرولیم کو بھجوا دیں۔ اوگرا نے سوئی ناردرن کے لیے گیس کی فی یونٹ اوسط قیمت میں 82 روپے اور سدرن کے لیے 24 روپے فی ایم ایم بی ٹی فی یونٹ اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔گیس کی قیمت بڑھانے کی تجویز رواں مالی سال کی نظرثانی شدہ درخواستوں کی مد میں دی گئی۔
اوگرا نے سی این اجی، صنعت اور پاور سیکٹر سمیت کھاد کے کارخانوں کے لیے بھی گیس مہنگی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔روٹی تندوروں کے لیے گیس 221 فیصد، کمرشل سیکٹر کے لیے 31 فیصد اور فرٹیلائز سیکٹر کے لیے 153 فیصد تک مہنگی کرنے کی تجاویز ہیں۔
فیس بک کمینٹ

