اہم خبریں

سیاسی یتیم الوداع : بلاول بھٹو کا لیاقت باغ راول پنڈی کے مقتل میں خطاب

راول پنڈی : بینظیر بھٹو کی بارہویں برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کررہی ہے جس سے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری خطاب کررہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا بے نظیر کی شہادت کے بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پہلا جلسہ ہے جس میں ملک بھر سے جیالے اور رہنما شریک ہیں۔
12 سال میں پہلی بار محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی برسی لیاقت باغ میں منائی جارہی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں 2007 میں بینظیر کو شہید کیا گیا تھا۔
راولپنڈی کی اہم سڑکوں اور لیاقت باغ کے اطراف پیپلز پارٹی کے بینرز اور جھنڈے آویزاں ہیں جب کہ لیاقت باغ کے اطراف میں پارٹی کیمپس بھی قائم ہیں۔
لیاقت باغ میں پنڈال پارٹی کارکنان سے مکمل طور پر بھر ا ہوا ہے اور پولیس کارکنوں کو سٹیج کے پاس جانے سے روک رہی ہے۔ خواتین کے لیے مختص کی گئی جگہ پر بھی اس وقت مرد کارکنان کی کثیر تعداد موجود ہے۔لیاقت باغ کے باہر بھی لوگوں کا ہجوم جمع ہے۔ لیاقت باغ پہنچنے والوں میں سے زیادہ تر کارکنان کا تعلق راولپنڈی، خیبر پختونخوا اور سندھ کے مختلف شہروں سے ہے۔بلاول بھٹو نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیاسی یتیم الوداع کا نعرہ لگا دیا ۔انہوں نے کہا کوفے کی سیاست سے مدینہ کی ریاست نہیں بن سکتی
لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ذوالفقار بھٹو نے ٹوٹا ملک جوڑا اور 90 ہزار جنگی قیدی دشمن سے واپس لائے، بھٹو نے ملک کو پہلا متفقہ جمہوری اسلامی آئین دیا، ذوالفقار بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، مسلم اُمّہ کو پاکستان کی قیادت میں اکٹھا کیا، مسئلہ کشمیر کی آواز بنے۔
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی گواہ ہے کہ بھٹوکی بیٹی نے والد کا پرچم تھاما، آپ گواہ ہیں کہ شہید محترمہ نے اپنے والد کی جدوجہد جاری رکھی، شہید بی بی نے 30 سال عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، بینظیر نے آمروں اور انتہا پسندوں کا مقابلہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو 12 سال جیل میں رکھاگیا، ایک الزام ثابت نہیں ہوا، شہید بی بی نے جلاوطنی کاٹی، خطرے کے باوجود اپنے وطن واپس آئیں، 2007 میں اسی لیاقت باغ سے بی بی شہید نے آخری خطاب کیا تھا، بینظیرکوبم دھماکے میں شہید کیا گیا، وہ طاقت کا سرچشمہ عوام کو مانتی تھیں۔بلاول کا کہنا تھا کہ آج پھر یہ دھرتی پکار رہی ہے کہ میں خطرے میں ہوں، دھرتی کہہ رہی ہے کہ یہ وہ آزادی نہیں جس کا وعدہ قائداعظم نےکیا تھا، آج پارلیمنٹ پر تالا لگ چکا ہے، 18 ویں ترمیم پر حملے ہورہے ہیں، صوبوں سے حقوق چھینے جارہے ہیں، دہشت گردی کوضرورشکست دی ہوگی لیکن انتہاپسندی آج ملک بھرمیں پھیلی ہوئی ہے، سندھ کے عوام ناراض ہیں، گیس پیدا کرنے والے صوبے کو گیس سے محروم رکھاجارہاہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا معاشی قتل ہورہا ہے، یہ حکومت عوام کے لیے عذاب بنی ہوئی ہے، لاکھوں غریبوں کے سر سے چھت چھینی لی گئی ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 8 لاکھ لوگوں کو نکالا گیا، اس ملک کے معاشی فیصلے عوام نہیں آئی ایم ایف لے رہا ہے، کشمیر پر تاریخی حملہ ہوا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker