اہم خبریںسندھ

وعدے پورے نہیں ہوئے : ایم کیو ایم و فاقی کابینہ سے الگ ہو گئی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
اتوار کو کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے ان کے ساتھ حکومت سازی کے وقت جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے جس کے بعد ان کا وفاقی کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے تحریک انصاف سے تعاون کا جو وعدہ کیا تھا وہ تعاون جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے پاس دو وفاقی وزارتیں ہیں۔ خالد مقبول صدیقی کے علاوہ ایم کیو ایم کے رہنما فروغ نسیم کے پاس وزارت قانون کا قلمدان ہے۔
ایم کیو ایم کنوینر کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے وقت ایم کیو ایم پاکستان نے تحریک انصاف سے قانون و انصاف کی وفاقی وزارت کا مطالبہ نہیں کیا تھا چنانچہ فروغ نسیم اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔فروغ نسیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ حکومت کو پاکستان میں جمہوریت، قانون، انصاف اور احتساب کے عمل کے لیے فروغ نسیم جیسے وکیل کی ضرورت ہے۔ حکومت نے اپنی ضرورت اور پاکستان کی ضرورت کے تحت انھیں لیا تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ان کے اور حکومت کے درمیان دو مختلف یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے جن میں ’پاکستان میں جمہوریت کے استحکام، انصاف اور میرٹ کے قیام اور شہری علاقوں کی ترقی‘ کے حوالے سے نکات تھے۔
’ہم نے اس وقت حکومت سے یہ وعدہ کیا تھا کہ حکومت بنانے میں آپ کی مدد کریں گے اور ہر مشکل مرحلے میں آپ کا ساتھ دیں گے۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔‘
خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے قیام کے تقریباً 17 ماہ بعد اگر ’کسی ایک نکتے پر بھی‘ پیش رفت نہ ہوئی ہو تو ان کے لیے مشکل ہے کہ وہ وزارت میں رہیں اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام انھی حالات کا سامنا کرتے رہیں جو ان کے حکومت میں شامل ہونے سے پہلے تھے۔
’جس تعاون کا ہم نے حکومت سے وعدہ کیا تھا وہ ہم کرتے رہیں گے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرا اب وزارت میں بیٹھنا بہت سارے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اگر ان نکات پر کچھ عملدرآمد ہو رہا ہوتا یا ہم دیکھ رہے ہوتے کہ اس حوالے سے کچھ مجبوریوں کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے، تو شاید ہم تھوڑا بہت اور انتظار کر لیتے۔‘انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے ’سنجیدگی کی کمی نے بھی‘ انھیں اس فیصلے پر مجبور کیا ہے۔
متحدہ رہنما کا کہنا تھا کہ رابطہ کمیٹی کی اس حوالے سے پرسوں تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور سب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کا کابینہ میں بیٹھنا بے سود ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے چند دن قبل متحدہ قومی موومنٹ کو دی گئی وزارتوں کی پیشکش کی جانب انھوں نے نام لیے بغیر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آج کے اعلان کا اس پیشکش سے تعلق نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے وقت تحریک انصاف سے دو وزارتیں مانگی تھیں تاہم یہ مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کیونکہ ایم کیو ایم کی جانب سے وہ وزیر تھے، اس لیے وہ رابطے کمیٹی کے اس فیصلے کا آج اعلان کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے رابطہ کر کے ان کے جائز مطالبات پورے اور تحفظات دور کیے جائیں گے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker