اسلام آباد : پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو پانچ اپریل اور ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو دو ہفتے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ 23 مارچ کو قومی دن کے موقعے پر ہونے والی فوجی پریڈ کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بڑے اجتماعات، شادی ہالز اور سینما گھروں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ’پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 28 ہوگئی ہے۔‘
ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ناصرف ملک کے تمام تعلیمی ادارے تین ہفتے کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے بلکہ ملک بھر میں بڑے عوامی اجتماعات پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ملک بھر کے تمام سنیما گھروں کو بند کیا جا رہا ہے، شادی کے اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈرز بھی مزید دو ہفتوں کے لیے بند رکھیں جائیں گے۔‘
معاون خصوصی برائے صحت کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے صرف تین ائیر پورٹس (کراچی، لاہور اور اسلام آباد) پر بین الاقوامی پروازیں آسکیں گی۔ظفر مرزا نے بتایا کہ مذہبی اجتماعات سے متعلق مشاورت کی ذمہ داری وزیر مذہبی امور کو دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کورونا سے لڑنے کے لیے ایک نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں مارچ کو ہونے والی فوجی پریڈ بھی منسوخ کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ معاون خصوصی معید یوسف نے بتایا ’زائرین کے کرتار پور جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ انڈیا سے آنے والے زائرین کے کرتار پور جانے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں ظفر مرزا نے اپنے اوپر لگائے گئے ان الزامات کی سختی سے تردید کی کہ انہوں نے ماسک بیرون ملک سمگل کرائے ہیں۔
قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو پانچ اپریل تک بند کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
( بشکریہ : اردو نیوز )
فیس بک کمینٹ

