اہم خبریں

پاکستان میں ایک روز میں کورونا کے سب سے زیادہ کیس : تعداد 53 ہو گئی

اسلام آباد : پاکستان میں اتوار کے روز کورونا وائرس کے 19 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے ساتھ ملک میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب کے دارا لحکومت لاہور میں بھی کورونا کا پہلا مصدقہ کیس رپورٹ ہوا ہے۔
اتوار کو سامنے آنے والے کیسز پاکستان میں اب تک ایک دن میں رپورٹ ہونے والے کورونا کے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق بلوچستان کے سرحدی شہر تفتان سے سکھر آنے والے 13 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ تمام افراد ایران سے براستہ تفتان پاکستان آئے تھے جنہیں 14 دن قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 293 زائرین کو سکھر لایا گیا جن میں سے 40 افراد کے نمونے لیے گئے جن میں سے 13 افراد کا رزلٹ مثبت آیا ہے۔
وزیرِاعلیٰ سندھ کے معاون مرتضیٰ وہاب کے مطابق کراچی میں ایک اور شخص میں کورونا کی تصدیق ہوگئی ہے۔ یہ شخص سنیچر کی رات بلوچستان سے کراچی آیا تھا۔
اس سے قبل محکمہ صحت سندھ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ صوبے میں چار نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ بیان کے مطابق نئے کیسز میں سے تین افراد حال ہی میں سعودی عرب سے واپس آئے تھے جب کہ چوتھے فرد کی حالیہ دنوں میں سفر کی کوئی ہسٹری نہیں ہے۔
اتوار کو کورونا وائرس کے نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سندھ میں متاثرہ افراد کی تعداد 35 ہوگئی ہے جس میں سے دو کو صحتیاب ہونے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔
سکھر میں کورونا وائرس کے متعدد مریض سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے متاثرہ افراد کو علیحدہ کرنے اور زیادہ بیمار افراد کو گھمبٹ منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔وزیراعلیٰ نے وڈیو لنک کے ذریعے میڈیکل عملے سے بات کی اور سکھر میں موجود ڈاکٹروں کو آئیسولیشن سینٹر بھیج دیا تاکہ وہ مریضوں کو الگ کر لیں۔
دوسری جانب صوبہ پنجاب میں بھی کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔ پنجاب کے پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق لاہور کے میو ہسپتال میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔
اتوار کو ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے بتایا کہ مریض گذشتہ شب سے ہسپتال میں داخل تھا جبکہ مریض دس مارچ کو برطانیہ سے واپس لوٹا تھا۔
ترجمان کے مطابق 54 سالہ مریض کو سنیچر کو علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال لایا گیا تھا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ مریض سے براہ راست رابطے میں آنے والے تمام افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جو نیگیٹو آئے۔ ایس او پی کے مطابق مریض سے براہ راست رابطے میں آنے والوں کو گھر میں ہی آئسولیشن میں رکھا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایس او پی کے مطابق آئسولیشن میں رکھے گئے افراد سے کسی کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں ہو گی۔
خیال رہے پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا۔ اب تک صوبہ سندھ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 34 کیسز سامنے آئے ہیں۔
بلوچستان میں ان تک کورونا کے 10 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ گلگت بلتستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد پانچ ہیں۔فیڈرل ایریاز سے بھی کورونا وائرس کے اب تک چار کیسز سامنے آئے ہیں جن میں امریکا سے آنے والی خاتون اور ان کے شوہر بھی شامل ہیں۔پنجاب سے اتوار کو کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔
جمعے کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی ملک کے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے سمیت متعدد فیصلے کیے گئے تھے۔اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ناصرف ملک کے تمام تعلیمی ادارے تین ہفتے کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا بلکہ ملک بھر میں بڑے عوامی اجتماعات پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ ہوا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ’ملک بھر کے تمام سنیما گھروں کو بند کیا جا رہا ہے، شادی کے اجتماعات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈرز بھی مزید دو ہفتوں کے لیے بند رکھیں جائیں گے۔‘
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے صرف تین ایئر پورٹس (کراچی، لاہور اور اسلام آباد) پر بین الاقوامی پروازیں آسکیں گی۔
( بشکریہ : اردو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker