اہم خبریں

کورونا مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ، سندھ میں لاک ڈاؤن : نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے مگر آپ نے گھبرانا نہیں :عمران خان

اسلام آباد : پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو گھبرانےکی ضرورت نہیں، کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیتیں گے۔قوم سے خطاب سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں پاکستان کے پاس نہ تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے وسائل موجود ہیں۔’
منگل کی شب ٹیلی ویژن خطاب میں کورونا وائرس سے متعلق اقدامات پر ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ حکومت اکیلے نہیں لڑسکتی اس میں تمام شہریوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام احتیاط کریں۔انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے معاملے پر افراتفری پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملکی معیشت متاثر ہو گی جس کے لیے اقتصادی کمیٹی بنائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی کمپینوں سمیت متعدد صنعتوں کو کورونا وائرس سے نقصان ہوا ہے اور ہماری معیشت ویسے ہی دباؤ کا شکار تھی، پاکستان کی برآمدات پر کورونا وائرس کا اثر پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہر روز اقتصادی کمیٹی دیکھے گی کہ کون کون سے شعبے متاثر ہو رہے ہیں اور ان کی کیا مدد کرنی ہے۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں ذخیرہ اندوزی کے بارے میں تنبیہ کی کہ اقتصادی کمیٹی یہ بھی دیکھے گی کہ کھانے کی چیزیں مہنگی نہ ہوں، جیسے پہلے چینی اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی کی گئی تو ان کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ ریاست ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تیزی سے پھیلتا ہے مگر اس کے 90 فیصد مریضوں کو صرف نزلہ اور زکام ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ صرف چار یا پانچ فیصد مریضوں کو ہسپتال جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور 97 فیصد مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’بلوچستان حکومت نے مشکل حالات میں بڑی کوشش کی اور بلوچستان حکومت کو اقدامات پر مبارک باد دیتا ہوں۔’
وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا امریکہ اور برطانیہ نے شہر بند کر دیے لیکن پاکستان میں وہ حالات نہیں ہیں کیوں کہ ہم شہر بند کردیتے ہیں تو ایک طرف لوگوں کو کورونا سے بچائیں گے تو دوسری طرف لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔انھوں نے کہا کہ حکومت نے کوآرڈی نیشن کمیٹی بنائی ہے جس کے 2 پہلو ہیں ایک صوبائی حکومتیں اور دوسرا این ڈی ایم اے ہے، ہم نے این ڈی ایم اے کو فعال کیا ہے اور حکومت نے وینٹی لیٹر آرڈر کر دیے ہیں۔سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں منگل کو نئے مریض سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 237 تک پہنچ گئی ہے۔
سندھ میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد صوبائی حکومت نے صوبے میں ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بدھ سے کاروباری مراکز، پارک اور ریستوران جبکہ جمعرات سے سرکاری دفاتر بند کر دیے جائیں گے۔ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں کووڈ-19 کے متاثرین کی تعداد 172 تک پہنچ گئی ہے جبکہ پنجاب میں 25 اور بلوچستان میں چھ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سندھ میں 170، پنجاب میں 26، بلوچستان میں 16، خیبر پختونخوا میں 16، اسلام آباد میں چار اور گلگت بلتستان میں کورونا کے تین مریض موجود ہیں۔اس طرح ملک میں کورونا وائرس سے کے زیر علاج مریضوں کی مجموعی تعداد 235 ہے جبکہ دو مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
عمران خان کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہےقوم سے خطاب سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں پاکستان کے پاس نہ تو اس سے نمٹنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی اس کام کے لیے وسائل موجود ہیں۔’امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا غریب ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ وائرس پھیلا تو ہم سب کو صحت کی سہولیات کی کمی کا سامنا ہو گا۔۔۔ ہمارے پاس اس سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔عمران خان کے مطابق پاکستان کی ‘صحت سے متعلق سہولیات کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں، میرے خیال میں انڈیا، خطے کے دیگر ملکوں اور افریقی ممالک میں بھی یہی صورتحال ہو گی۔’
انھوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ ہے وہ اس صورتحال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کے بارے میں سوچیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ’معیشت پر سست روی کے اثرات کو دیکھتے ہوئے انھیں سب سے زیادہ تشویش غربت اور بھوک پر ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر میرے خیال میں عالمی برادری کو ہمارے جیسے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی جیسے اقدامات کےبارے میں سوچنا چاہیے، جو بہت خطرات سے دوچار ہیں۔ یہ ہمیں کم از کم اس سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔’
انھوں نے ایران کا خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس کی وجہ سے ڈرا ہوا ہوں کیونکہ ایران پر عائد پابندیوں نے پہلے ہی اُنھیں غربت سے دوچار کر دیا ہے اور اُس کے اوپر یہ وائرس ہے۔’
ان کے مطابق یہ ایک واضح مثال ہونی چاہیے کہ جہاں کم از کم طور پر ایران پر عائد پابندیوں کو اٹھا لیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں کے لوگ یقیناً بہت برے حالات میں ہوں گے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker