اہم خبریں

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد افواہیں :وزیراعظم آج ہنگامی پریس کانفرنس کریںگے

اسلام آباد:قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ملک بھر میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا جس کے بعد سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی ۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی آج کے فوراً بعد وزیراعظم ہاؤس چلے گئے۔ وہ آج پونے دوبجے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان متفقہ طور پرمسترد کردیا۔سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے حالیہ متنازع بیان سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 2 گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہوگیا، اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق ایک اخباری بیان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے یہ بیان مکمل طور پر غلط اور مس لیڈنگ ہے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افسوس اور بدقسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے اندازمیں غلط بیان کیا گیا، اس اخباری بیان میں ٹھوس شواہد اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔اعلامیے میں لگائے گئےالزامات کو سختی سےرد کر دیا گیا، جبکہ اجمل قصاب تک رسائی سے انکار کیا گیا۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزراء، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سمیت بحری اور فضائی افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی آئی بی محمد سیلمان خان، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا اور اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔واضح رہے کہ پاک فوج نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے اس حوالے سے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں ممبئی حملوں کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والے گمراہ کن بیانات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اجلاس میں شرکاء کو ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے تحقیقاتی اقدامات اور تعاون پر بریفنگ بھی دی گئی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker