ریاض : مشہور فیشن میگزین ‘ووگ’ کے سرورق پر سعودی شہزادی ہیفا بنت عبداللہ السعود کی بے پردہ تصویر شائع ہوئی ہے جس پر کچھ لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔ ووگ کے سعودی عرب کے ایڈیشن میں شائع ہونے والی اس تصویر میں شہزادی ہیفا سفید لبادہ اوڑھے، اونچی ایڑی کے جوتے پہنے ایک کنورٹیبل گاڑی میں بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا چہرہ کھلا ہے۔اس رسالے کو سعودی عرب کی خواتین کے نام معنون کیا گیا ہے اور اس میں ولی عہد محمد بن سلمان کی جاری کردہ اصلاحات کو سراہا گیا ہے جنہوں نے سخت گیر مذہبی حلقوں کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔شہزادی ہیفا، شاہ عبدالعزیز کی صاحبزادی ہیں جنھوں نے خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی لگائی تھی،وہ میگزین میں کہتی ہیں: ‘ہمارے ملک میں بعض قدامت پرست ہیں جنھیں تبدیلی سے ڈر لگتا ہے۔ بہت سوں کے لیے یہی وہ سب کچھ ہے جو انھیں معلوم ہے۔’انھوں نے مزید کہا: ‘ذاتی طور پر میں ان تبدیلیوں کی پرجوش حمایت کرتی ہوں۔’تاہم دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس تصویر پر تنقید کی ہے جو اسی ماہ کم از کم 11 مظاہرین کی گرفتاری پر احتجاج کر رہے ہیں۔ان کے مطابق ان کی اکثریت ان خواتین پر مشتمل ہے جنھیں خواتین کی ڈرائیونگ کے حق میں مہم چلانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ان میں سے چار مظاہرین کو گذشتہ ماہ رہا کر دیا گیا تھا لیکن دوسروں کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہیں۔سرکاری میڈیا میں ان مظاہرین کو غدار اور ‘سفارت خانوں کے ایجنٹ’ قرار دیا گیا ہے۔
بدھ, مئی 6, 2026
تازہ خبریں:
- ابلیسی طاقتوں کی دھمکیوں کا جواب : صدائے ابابیل / سیدہ معصومہ شیرازی
- ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا
- مغربی بنگال ہندو انتہاپسندوں کے نرغے میں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- جے یو آئی ( ف ) کے رہنما مولانا محمد ادریس قتل : چارسدہ میں شدید احتجاج ، سڑکیں بلاک
- جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ، ایک ہلاک، 14 زخمی,متعدد کی حالت نازک
- کیا مصنوعی ذہانت تباہی کا سبب بن سکتی ہے؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- آہ پروفیسر حفیظ الرحمن : صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی یاد نگاری
- کالعدم تنظیم کا مواد تقسیم کرنے کا الزام : یوٹیوبر سعد بن ریاض جیل منتقل
- نام ور ماہرِ تعلیم ، مصنف اور محقق حفیظ الرحمان خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
- محبت میں ناکامی جماعتِ اسلامی : رضی الدین رضی کا 38 برس پرانا کالم

