اہم خبریں

پی ٹی آئی کے کارکنوں کا احتجاج نظرانداز۔سکندر بوسن پھر مقدر کے سکندر نکلے

ملتان(رضی الدین رضی سے)پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے شدید احتجاج کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے این اے154ملتان کے لیے سابق وفاقی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنماءسکندرحیات بوسن کو ٹکٹ دے دیا ہے۔اس حلقے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءملک احمد حسین ڈیہڑ امیدوارتھے لیکن وہ بنی گالہ میں دھرنا دینے کے باوجود پارٹی ٹکٹ سے محروم رہ گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے مسلم لیگ(ن) سے رابطہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس بات کاقوی امکان ہے کہ احمد حسین ڈیہڑ اب سکندر حیات بوسن کے مقابلے میں کسی اور پارٹی سے الیکشن لڑیں گے ۔واضح ہو کہ سکندر بوسن کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبر سب سے پہلے گردوپیش نے 30مئی کو دی تھی جس کے بعد مختلف حلقوں سے اس خبر کی تردید بھی کی گئی لیکن گردوپیش کی خبر درست ثابت ہوئی۔ذرائع کے مطابق سکندر بوسن کو ٹکٹ جاری کرانے میں جہانگیر ترین نے اہم کردار ادا کیا۔ سکندر بوسن نے پیپلز پارٹی سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ وہ ہر الیکشن سے پہلے پارٹی تبدیل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ سکندر بوسن پر ماضی میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے الزامات بھی لگے۔ 1993 میں جب وہ رکن پنجاب اسمبلی تھے تو ان کے علاقے جھوک عاربی میں دو بہنوں سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ نوازشریف مظلوم بچیوں کی داد رسی کے کئے 13 جنوری کو موقع پر پہنچے تو اہل علاقہ نے سکندر بوسن پر الزام لگایا کہ وہ ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ نواز شریف نے جلسے کے دوران سکندر بوسن کو سٹیج پر بلا کر سرزنش کی۔تاہم بعد ازاں سکندر بوسن نے معافی مانگ کرمعاملہ رفع دفع کرایادیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سکندر بوسن کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے اور وہ جہاں بھی انتخابی مہم کے لیے جائیں گے ان کا لوٹوں سے استقبال کیا جائے گا۔واضح ہو کہ گزشتہ روز سکندر بوسن کو علاقے کے نوجوانوں نے گھیر لیا تھا اور ان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker