نئی دہلی: بھارت کےسابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سابق بھارتی وزیر اعظم کافی عرصے سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کو ہمارے عزیز اٹل جی کی وفات پر دکھ ہے ، ان کے جانے سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ ’وہ دہائیوں تک قوم کے لیے زندہ رہے اور اس کی خدمت کی۔بی جے پی کارکنان ان کے لاکھوں چاہنے والے اس غم کی گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔‘بھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی جانب سے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر ٹوئیٹ کیا گیا کہ ’ اٹل بہاری واجپائی ایک عظیم رہنما تھے ، جن سے کئی افراد کو محبت تھی اور سب کے دل میں ان کا احترام تھا۔‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘ہمیں ان کی موت پر دکھ ہے اور ان کے خاندان کا دکھ سمجھتے ہیں۔‘سابق بھارتی وزیر اعظم کی عمر 93 برس تھی اور انہیں طبیعت کی ناسازی کے باعث دہلی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں وہ آج زندگی کی بازی ہار گئے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی 5 دہائیوں تک سیاست سے وابستہ رہے۔ انہوں نے حکمران جماعت بھارتیا جنتا پارٹی(بی جی پی) کی سربراہی کرتے ہوئے دو مرتبہ وزیر اعظم بننے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔واجپائی پہلی مرتبہ 1996 میں ہندوستانی وزیر اعظم منتخب ہوئے جبکہ دوسری مرتبہ 1998 سے 2004 تک وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے۔انہوں نے ملک میں آزادی میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ مشہور بنارس ہندو یونیورسٹی بھی قائم کی۔اٹل بہاری واجپائی کو ’بھارت رتنا‘ اعزازبھی دیا گیا تھا جو ہندوستان میں صرف 43 لوگوں کو دیا گیا ہے۔بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے2004 میں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔
ہفتہ, مئی 9, 2026
تازہ خبریں:
- 9 مئی 2013 سے 9 مئی 2015 تک :سید علی حیدرگیلانی کےاغواء اور بازیابی کی کہانی : سینیئر صحافی مظہر جاوید سیال کی زبانی
- باسٹھ برس کی معذرت : مبارک باد تو بنتی ہے : رضی الدین رضی کی جیون کہانی
- مارچ کے بعد پیٹرول پانچویں بار مہنگا : قیمت میں 15 روپے کا اضافہ، نئے نرخ 414.78 فی لیٹر
- معرکہ حق کی برسی اور پاکستانی قوم کی نفسیات : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- آتش فشاں کی آواز سُنیے : حامد میر کا کالم
- معرکہِ حق اور میزائل چوک : وسعت اللہ خان کا کالم
- کراچی پریس کلب کے باہر انسانی حقوق کی کارکن شیما کرمانی گرفتار : 5 پولیس افسران کے خلاف ایکشن
- ابلیسی طاقتوں کی دھمکیوں کا جواب : صدائے ابابیل / سیدہ معصومہ شیرازی
- ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا
- مغربی بنگال ہندو انتہاپسندوں کے نرغے میں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

