تجزیےکھیل

پاکستان سپر لیگ پاکستان میں: سٹیڈیم شائقین سے خالی کیوں؟ ۔۔عبدالرشید شکور کا تجزیہ

لاہور : پاکستان سپر لیگ جب پاکستان میں نہیں ہورہی تھی تو پاکستان کرکٹ بورڈ متحدہ عرب امارات کے خالی میدان دیکھ کر پریشان ہوتا رہتا تھا اور انھیں اس وقت کا انتظار تھا کہ یہ لیگ جتنا جلد ہو سکے پاکستان چلی آئے تاکہ یہاں کے میدان شائقین سے کھچا کھچ بھر سکیں۔
پچھلی تین پی ایس ایل کے فائنل جب پاکستان میں ہوئے تو شائقین کی غیرمعمولی تعداد دیکھ کر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حوصلے بلند ہو گئے تھے۔
پی سی بی نے یہ توقع کر لی تھی کہ جب یہ پی ایس ایل مکمل طور پر پاکستان آ جائے گی تو یہاں کے میدانوں میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوگی لیکن پی ایس ایل فائیو کے پہلے پانچ میچز کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں۔
کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پہلے ہی پی ایس ایل کے میچوں کے شیڈول پر اپنے تحفظات ظاہر کر چکے ہیں لیکن کراچی کے شائقین بھی اس سے خوش دکھائی نہیں دیے ہیں۔
ایک عام رائے یہ ہے کہ جب افتتاحی تقریب کے بعد پہلا میچ رات گئے مکمل ہوا تو پھر اگلے ہی دن یعنی جمعے کو ڈے میچ کرانے کی منطق کیا تھی؟ یہ میچ رات کو کھلایا جاسکتا تھا اور لاہور کا میچ دن میں ہو سکتا تھا۔
یہی نہیں بلکہ کراچی میں ہفتے اور اتوار کے میچز دن میں کرائے گئے ہیں۔ کراچی میں جمعہ اور ہفتے کے روز ڈے میچوں میں نیشنل سٹیڈیم مکمل طور پر شائقین سے نہیں بھر سکا تھا۔
حیران کن بات یہ ہے کہ قذافی سٹیڈیم لاہور بھی جمعہ اور ہفتے کو نائٹ میچوں کے باوجود فل ہاؤس نہیں ہو سکا۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنے والے آسٹریلوی لیگ سپنر فواد احمد کا بڑی تعداد میں تماشائیوں کے نہ آنے کے بارے میں کہنا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں لوگوں کی پہلی ترجیح ملازمت ہوتی ہے۔
’افتتاحی تقریب میں لوگ موجود تھے لیکن پہلے میچ کی دوسری اننگز میں اتنے زیادہ لوگ نہیں تھے کیونکہ انھیں صبح کام پر بھی جانا تھا۔‘
انھوں نے کہا ’آسٹریلیا میں دن کے میچز ہفتے اور اتوار کو رکھے جاتے ہیں، عام دنوں میں میچز شام کو شروع ہوتے ہیں۔ پی ایس ایل کا دورانیہ مزید چند روز بڑھا کر ڈے میچوں کو نائٹ میچوں میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔‘
پی ایس ایل کے شیڈول کے بارے میں سب سے بڑا اعتراض یہ سامنے آیا ہے کہ اسے جمعرات کے روز شروع کیا گیا جو متحدہ عرب امارات میں تو ویک اینڈ ہے لیکن پاکستان میں ورکنگ ڈے ہوتا ہے۔
پی ایس ایل کے میچوں کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ انتظامات سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز کے موقع پر کیے گئے انتظامات سے کہیں زیادہ سخت ہیں۔
عام شائقین کے لیے سٹیڈیم تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ اگرچہ شٹل سروس چلائی گئی ہے لیکن اس کے باوجود شائقین کو اچھا خاصا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔
انھیں مختلف جگہوں پر جامہ تلاشی، شناختی کارڈ اور ٹکٹ دکھانے کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ شائقین کے کم تعداد میں آنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے۔
شائقین کھانے پینے کی اشیا گراؤنڈ میں نہیں لاسکتے لیکن ستم ظریفی یہ کہ گراؤنڈ میں کھانے پینے کی اشیا کی منہ مانگی قیمت وصول کی جارہی ہے۔
نیشنل سٹیڈیم کے اطراف کے مکین میچوں کے درمیان قید ہو کر رہ جاتے ہیں۔ جس وقت میچ ہورہا ہو تو پورا علاقہ کرفیو کا منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔ دکانیں بند رکھی جاتی ہیں۔ کارساز سے سٹیڈیم آنے والی سڑک کے اطراف تمام گلیوں کو پانی کے ٹینکرز اور کنٹینرز سے بند کردیا گیا ہے۔ اس سڑک پر عام لوگوں کا داخلہ بند ہے۔اسی طرح اسٹیڈیم کے گرد دوسری سڑکیں بھی میچ کے وقت عام ٹریفک کے لیے بند کردی جاتی ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker