Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, جولائی 21, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • میسی کا جادو نہ چلا : سپین دوسری بار فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا : ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا ’شرمناک رویہ، مکے بھی مارے
  • پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ، عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • عمران خان کی بہن نورین خان کا افسوسناک بیان ، نتائج کیا ہوں گے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • جاوید ہاشمی کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج
  • 6 گیندوں پر 6 چھکے مارنے والے پہلے کرکٹر سرگیری سوبرز انتقال کرگئے
  • ہائبرڈ نظام ۔۔ بے یقینی ، اندیشے اور بے خبر حکومت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ڈیزل 31 روپے، پیٹرول 5 روپے لیٹر مہنگا : روزانہ نئی قیمت مقرر کرنے کا اعلان
  • ملا کھد بدھ ، گرانی اور سانڈ کے میمنا بننے کی کہانی : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • محسن نقوی کا اگلا سٹیشن وزارتِ خارجہ؟ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • ملاّؤں کے سامنے بے بس پاکستانی ریاست : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»نصرت جاویدکاتجزیہ۔۔نیلا چاند اور ممکنہ المیے
تجزیے

نصرت جاویدکاتجزیہ۔۔نیلا چاند اور ممکنہ المیے

ایڈیٹرنومبر 2, 20200 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
pakistan politics ,columns of nusrat javaid at girdopesh.com
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

پس ثابت ہوا کہ اُردو ہی نہیں دُنیا کی ہر زبان بقول داغ دہلوی ’’آتے آتے‘‘ آیا کرتی ہے۔ انگریزی سے سطحی واقفیت کی وجہ سے میں نے ہمیشہ یہ باور کیا کہ "Once in a Blue Moon”والا جو محاورہ ہے وہ اچانک نصیب ہوئی اس خوشی کو بیان کرتا ہے جو مصیبتوں کا مارا کوئی شخص تصور میں بھی نہیں لاسکتا۔ چند دن قبل مگردریافت یہ ہونا شروع ہوا ہے کہ ’’Blue Moonیا نیلا چاند‘‘کبھی کبھار نمودار ضرور ہوتا ہے مگر ہمیشہ ’’خیر ‘‘ کی خبر نہیں لیتا۔اس کی نمائش بسااوقات اذیت دہ انہونیوں کا باعث بھی ہوتی ہے۔
سطحی علم کی عادت اور طبیعت کے اوتاولے پن کی وجہ سے ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پایا ہوں کہ کبھی کبھار چاند ’’نیلا‘‘ کیوں ہوجاتا ہے۔نجومیوں نے اگرچہ بتایا ہے کہ 31اکتوبر2020کو نمودار ہوا چاند ہر صورت ’’نیلا‘‘ ہے۔ان کے بنائے زائچوں کے مطابق اس بار وہ جوتش کے اس خانے میں ابھرا ہے جسے ثور یعنی Taurusسے مختص کیا جاتا ہے۔اسی مقام پر ایک سیارہ یورینس بھی موجود ہے۔ انگریزی کے شہرئہ آفاق ڈرامہ نگار شیکسپیئر نے اس سیارے کے حوالے سے ہمیشہ حیران کن واقعات کو رونما ہوتے دکھایا جن کا انجام بہت ہی الم ناک ہوتا ہے۔نجومی بضد ہیں کہ 31اکتوبر 2020کا نیلا چاند بھی ایسے ہی المیوں کا سبب ہوسکتا ہے۔اپنے دعوے کو اجاگر کرنے کے لئے انہوں نے تقویم کی سائنس یا آرٹ سے متعلق بے تحاشہ دلائل بھی دئیے ہیں۔ میں انہیں ہرگز سمجھ نہیں پایا۔
ہفتے کے دن رات گئے تک مگریوٹیوب پر چھائے حق گو افراد کی گفتگو سنی تو احساس ہوا کہ 31اکتوبر2020کے نیلے چاند کے اثرات سے بظاہر بے خبر یہ لوگ بھی ہمیں ’’تخت یا تختہ‘‘ والے معرکے کے لئے تیار کررہے ہیں۔حوالہ ’’نیلے چاند‘‘ کے بجائے اگرچہ قومی اسمبلی کے سابق سپیکر- ایاز صادق- کے اس بیان کا دیا جارہا ہے جو موصو ف نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں دیا تھا۔1985سے قومی اسمبلی میں ہوئی تقاریر کا ’’تجزیہ‘‘ کرنے والے مجھ جیسے ’’دو ٹکے کے رپورٹر‘‘ کو ان کا بیان سنتے ہوئے گماں یہ ہوا تھا کہ حکومت کے ترجمانوں کی جانب سے ’’مودی کا یار‘‘ ہونے کے الزامات سے اُکتاکرایاز صادق نے ’’ٹانگیں کاپنتے‘‘ والی بات کی تھی۔اصل نشانہ اس کا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تھے۔ میرا ذہن تاہم ’’حب الوطنی‘‘ کی روشنی وحرارت سے محروم ہے۔یوٹیوب پر چھائے حق گو افراد کی بدولت معلوم ہورہا ہے کہ اصل نشانہ کوئی اور تھا اور جنہیں طعنوں کی زد میں لانے کی کوشش ہوئی وہ اسے برداشت نہیں کر پائیں گے۔ایاز صادق کو معاف کرنے کی گنجائش نظر نہیں آرہی۔
عقل سے قطعاََ محروم اور ناقابل علاج تعصب کا مارا کوئی شخص ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ ایک بھارتی پائلٹ کے طیارے کو پاکستانی حدودمیں گرانے اور اسے گرفتار کرنے کے بعد ہمارے حکمرانوں یا عسکری اداروں کی ’’ٹانگیں کانپ‘‘رہی ہوں گی۔ ہماری عسکری تاریخ کا بلکہ یہ ایک شاندار دن تھا۔اس سے ایک رات قبل یعنی 26فروری2019کی رات بھارتی طیاروں نے ہمارے بالاکوٹ تک گھس آنے کا دعویٰ کیا تھا۔بڑھک یہ بھی لگائی کہ مذکورہ کارروائی کے ذریعے مودی سرکار نے پلوامہ میں ہوئے واقعہ کا ’’بدلہ‘‘ ہی نہیں لیا بلکہ دُنیا بھر کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ بھارتی افواج نام نہاد ’’دہشت گردی کے ٹھکانوں‘‘ کو ’’ایٹمی جنگ‘‘ کے خطرات کو رعونت سے بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستا ن کے کسی بھی مقام پر نشانہ بناسکتی ہیں۔
رات کے اندھیرے میں ہوئی اس جارحیت کا منہ توڑ جواب پاک فضایہ نے چند گھنٹے بعد دن کی روشنی میں فراہم کردیا۔جوابی حملہ اتنا بھرپور تھا کہ بھارتی فضائیہ کے اوسان خطا ہوگئے۔ ’’دفاع‘‘ کی فکر میں انہوں نے اپنے ہی ایک ہیلی کاپٹر کو میزائل مارکر گرادیا۔دریں ا ثناء جو طیارہ پاک سرحد میں گھس آیا تھا اسے واپس لوٹنا نصیب نہ ہوا۔وہ مارگرایا گیا اور اس کا پائلٹ گرفتار ہوا۔شدید تناؤکے عالم میں جو معرکہ ہوا اس کے انجام پر پاکستان واقعتا One-Upرہا۔ہماری برتری کو فضائی جنگ کے کئی عالمی ماہرین نے بھی ماہرانہ تجزیوں کے ذریعے پوری تفصیلات سمیت بیان کرتے ہوئے کھلے دل سے تسلیم کیا۔کئی بھارتی مبصرین بھی یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوئے تعداد کے اعتبار سے پاکستانی فضائیہ کے مقابلے میں Quantitative Edgeکے ہوتے ہوئے بھی ان کی فضائیہ مہارت سے یکسر محروم نظر آئی۔اسی تناظر میں فرانس سے رافیل طیاروں کو فی الفور حاصل کرنے کی فریاد شروع ہوگئی۔
جنگ مگر ایک ہی معرکے پر مشتمل نہیں ہوتی۔اس کے کئی Roundہوا کرتے ہیں۔ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد بھی لہٰذا What Nextکا سوال اُٹھ کھڑا ہوا۔ پاکستان کے ابتدائی رائونڈ میں One-Upرہنے کی حقیقت کی وجہ سے مودی سرکار شدید نفسیاتی دبائو کاشکار ہوچکی تھی۔ پاکستان پر میزائلوں کی بارش برساکر بدلہ لینے کے منصوبے تیار تھے۔ ان کا مؤثر جواب آنا بھی لازمی تھا۔ بھارت کی جانب سے One-Upکا بدلہ لینے کی جو تیاری تھی وہ امریکہ جیسے ملکوں کی نگاہ میں تھی۔ یہ جنوبی ایشیاء کو ’’ایٹمی جنگ‘‘ کی جانب دھکیل سکتی تھی۔
ان دنوں امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اپنے عہدے سے فراغت کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس میں اس تناظرمیں ابھرے تناؤ کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ یہ بات ویسے بھی عیاں تھی کہ پاکستان کے دوست ممالک نے یکسوہوکر ہمیں اس امرپرقائل کیا کہ بھارتی پائلٹ کی غیر مشروط رہائی سے ’’بڑاپن‘‘ دکھایا جائے۔One-Upثابت ہوجانے کے بعد ہمیں اس ضمن میں ضد اختیار کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔
ہم میں سے بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہے کہ جب یہ واقعات ہورہے تھے تو امریکی صدر شمالی کوریا سے ’’تاریخ ساز صلح‘‘ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ان کوششوں میں ناکامی اس کا مقدر نظر آرہی تھی۔اس ضمن میں اپنی خفت مٹانے کے لئے اس نے پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا ہماری پارلیمان میں باقاعدہ اعلان سے کم از کم چار گھنٹے قبل ہی اپنے بیرونی دورے میں عالمی میڈیا کے روبرو یہ انکشاف کردیا تھا کہ اسے جنوبی ایشیاء سے ’’اچھی خبریں‘‘ سننے کو مل رہی ہیں جو ایک خونخوار جنگ کے تدارک کو یقینی بنائیں گی۔
ٹھوس تناظر میں ایاز صادق کا قومی اسمبلی میں دیا بیان اپنے تئیں کسی بھی وقعت کا ہرگز حامل نہیں تھا۔ حکومت کے جارحانہ طعنوں سے زچ ہوکرپوائنٹ سکورنگ کی ایک بچگانہ کوشش تھی۔ یہ محض نظراندازی کی مستحق تھی۔اندھی نفرت وعقید ت کے جنون میں لیکن بات کا بتنگڑبنادیا گیا ہے۔ایاز صادق کی سرزد ہوئی حماقت کو ’’غداری‘‘ بتایاجارہا ہے۔اس کو بنیاد بناکر نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ پر بھی دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ خود کو ’’محبت وطن‘‘ ثابت کرے۔وگرنہ…
وگرنہ کا ذکر کرتے ہوئے ہذیانی کیفیت میں مطالبہ یہ بھی ہے کہ ایاز صادق فی الفور گرفتار ہوں۔ان پر ’’غداری‘‘ کا مقدمہ چلے۔ نواز شریف کے نام سے منسوب جماعت کے لئے اس کی بدولت ایک ’’ریڈ لائن‘‘ کھیچ دی جائے۔ اس جماعت سے وابستہ افراد اگرایاز صادق کو Ownکرنے پر بضد رہیں تو مسلم لیگ (نون) کو بحیثیت مجموعی ’’غدار‘‘ ٹھہراکر کالعدم قرار دلوایا جائے۔
وطنِ عزیز میں مخالف سیاسی جماعتوں سے ’’نجات‘‘ حاصل کرنے کے لئے ’’غداری‘‘ کا ہتھیار پہلی بار استعمال نہیں ہورہا۔ شیخ مجیب کی عوامی لیگ کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ ہوا تھا۔وہ مگر سقوطِ ڈھاکہ روکنے میں ناکام رہا۔ ’’غداری‘‘ والے ہتھیار کے بے اثر ثابت ہوجانے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف بھی یہی ہتھیار استعمال کیا تھا۔سپریم کورٹ نے اس جماعت کوغدار کہتے ہوئے ’’کالعدم‘‘ ٹھہرادیا۔ولی خان اس کے بعد حیدآباد جیل میں بند ہوئے ’’بغاوت‘‘کے مقدمے کا سامنا کرتے رہے۔دریں اثناء ’’کالعدم‘‘ ٹھہرائی نیشنل عوامی پارٹی نے سردار شیرباز مزاری کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے روپ میں ایک نیا جنم لیا۔بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹنے کے چند ہی دن بعد جنرل ضیاء نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ولی خان کو رہا کردیا۔ ولی خان اس کے بعد1988کی قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ان کی جماعت نے ایک نہیں کم از کم تین بار نواز شریف کی مسلم لیگ کے ساتھ 1990کی دہائی میں ان دنوں کے صوبہ سرحد میں کامل سیاسی اشتراک برقراررکھا۔
بہت کم لوگوں کو یہ حقیقت بھی یاد رہی ہوگی کہ 16اکتوبر1978کی شام جنرل ضیاء نے ایک نہیں ہماری تمام سیاسی جماعتوں کو یکمشت ’’کالعدم‘‘ قرار دیا تھا۔اسی باعث 1985کے انتخابات ’’غیر جماعتی‘‘ بنیادوں پرہوئے تھے۔ جنرل ضیاء کی نگہبانی میں ابھری قومی اسمبلی سے مگر محمد خان جونیجو کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ کا احیاء ہوگیا۔ اس کی بدولت دیگر جماعتیں بھی ایک بار پھر ’’زندہ‘‘ ہوگئیں۔ سیاسی جماعتوں کا مقابلہ فقط سیاسی میدان میں ہی ہوا کرتا ہے۔ ریاست کے دیگر اداروں کو ان سے ’’نجات‘‘ حاصل کرنے کے لئے اُکسانے یا ملوث کرنے کی کوششوں سے پرہیز ہی بہتر ہے۔ خدا جانے Blue Moonکے موسم میں میری اس فریاد پر کوئی غور کرنے کو تیار ہوگا یا نہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleبیٹے ادیب اِدھر بھی ہوتا ہے، اُدھر بھی ہوتا ہے!۔۔عطا ء الحق قاسمی
Next Article باکوکا ملتان۔۔فاروق عادل
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

میسی کا جادو نہ چلا : سپین دوسری بار فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا : ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا ’شرمناک رویہ، مکے بھی مارے

جولائی 20, 2026

پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ، عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ شہزاد عمران خان کا کالم

جولائی 19, 2026

عمران خان کی بہن نورین خان کا افسوسناک بیان ، نتائج کیا ہوں گے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 19, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • میسی کا جادو نہ چلا : سپین دوسری بار فٹ بال کا عالمی چیمپئن بن گیا : ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کا ’شرمناک رویہ، مکے بھی مارے جولائی 20, 2026
  • پیٹرول کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین ، عوام کو فائدہ ہو گا یا نقصان ؟ شہزاد عمران خان کا کالم جولائی 19, 2026
  • عمران خان کی بہن نورین خان کا افسوسناک بیان ، نتائج کیا ہوں گے ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ جولائی 19, 2026
  • جاوید ہاشمی کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج جولائی 19, 2026
  • 6 گیندوں پر 6 چھکے مارنے والے پہلے کرکٹر سرگیری سوبرز انتقال کرگئے جولائی 18, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.